امریکا نے کیوبا کے 15 سفارتکاروں کو 7 دن کے اندر ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا نے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے اپنے نصف سے زائد سفارتکاروں کو واپس بلالیا تھا جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
ہوانا میں دو درجن کے قریب امریکی سفارتکاروں کو پراسرار حملوں کے بعد صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیوبا میں موجود امریکی سفارتخانے میں کام کرنے والے 21 افراد نے صحت کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا ہے جن میں دماغ کو پہنچنے والے ہلکے صدمے، چکر آنا اور دل متلانا جیسے مسائل شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت کیوبا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے سفارتکاروں کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات کرے تاہم کیوبا ایسا کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد کیوبا کے سفارتکاروں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سفارتکاروں کی بیماری کیلئے سونک حملوں کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا تھا تاہم اب تک اس بات کے ثبوت نہیں ملے۔
کیوبا نے امریکی سفارتکاروں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے بھی اس کی حکومت کو مشکوک حملوں کا مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔

SHARE

LEAVE A REPLY