رینجرز کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکورٹی چھوڑنے پر ایف سی کو سیکورٹی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔وزارت داخلہ نے فرنٹیئر کانسٹبلری کو سیکورٹی سنبھالنے کاحکم دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کی سیکورٹی کی ذمہ داری پولیس اور ایلیٹ فورس کے علاوہ پنجاب رینجرز کے پاس تھی لیکن احتساب عدالت واقعے کے بعد 2 روز سے پنجاب رینجرز کے اہلکار سیکورٹی پر موجود نہیں ہیں اور اس حوالے سے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر آفسز کو بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی کے لیے تحریری درخواست دے۔
وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ سے رینجرز ہٹانے پر ڈی جی رینجرز سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرنٹیئر کانسٹبلری کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی سنبھالنے کا حکم دیا جس کے بعد ایف سی نے پارلیمنٹ کی سیکورٹی سنبھال لی ہے۔
ایف سی اہلکاروں کو پارلیمنٹ کے احاطے، داخلی دروازوں اور چیک پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو میاں نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر رینجرز نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت کئی وزرا کو عدالت جانے سے روک دیا تھا جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا تھا۔











