کہیں منہ چھپانے کو جگہ ہے ؟عالم آرا

1
176

آج کا دن عجیب وغریب سیاہی لے کر طلوع ہوا ہے ۔یہ وہ ماہ ہے جس میں نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حق اور سچ کے لئے لا زوال قربانی کو ہم سب منا رہے ہیں رو رہے ہیں سینہ کوبی کر رہے ہیں کہ کس طرح حق کی راہ میں خانوادئہ رسول نےرہتی دنیا تک کے لئے قربانی دی اور اللہ کے احکام پر عمل کی مثال بن گیا ۔رسول کے اسوہ کو قائم رکھنے کے لئے معصوم تک شھید ہو گئے ۔صرف حق اور سچ کا بول بالا کرنے کے لئے ۔

لیکن افسوس آج ہماری اسمبلی نے ایک ایسے قانون کو بھی پاس کرا لیا جس کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ ہم مذمت کر سکیں ۔ہم خوفزدہ ہیں کہ یہ نون والے کس طرح قانون کے پرخچے اُڑارہے ہیں ایسی ترمیمیں لا کر جو ہمارے قانون سے بھی ٹکرا رہی ہیں اور ایمان سے بھی لیکن کوئی ایک نون والا ایسا نہیں جو اس کو غلط کہے یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں صرف ایک شخص کو بچانے کے لئے انہوں نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے ۔مگر افسوس عوام کہاں سورہی ہے ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ کوئی بھی کیوں نہیں اُٹھتا کیا ہوگیا ہمارے اسلام کو ؟کیا ہوگیا ہمارے دینی جزبات کو؟ کیا ہوگیا ہماری فکر کو َہماری سوچ کو ہماری غیرت اور ہماری حمئیت کو ۔

۔کس طرف جا رہے ہیں ہم ؟ ایک شخص کو بچانے کے لئے جس طرح ملک کے تمام قوانین کی تضحیک کی جارہی ہے وہ بھی ایک المیہ ہے ۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ جو ہمارے تصور میں بھی نہیں آتا تھا اب ملک میں وہ بھی ہوگا یعنی جو جتنا کرپٹ ہوگا اتنا ہی معزز اور ہمارا حاکم ہوگا ،ہر چور ڈاکو لُٹیرا با عزت ہو گا اور جو ایک دفعہ کسی بھی طرح جیت جائیگا الیکشن ،اُسے بارہ نہیں سترہ خون معاف ہو نگے چاہے وہ کتنی ہی دھاندلی سے جیتے ،وہ جتنی چاہے دولت لوٹ لے کوئی پوچھ نہیں ہوگی وہ جتنا چاہے غبن کر لے کوئی نہیں بولے گا ،ملک کہیں نہیں ہو گا اللہ نہ کرے ۔۔۔۔ بس حاکم ہوگا اور اُس کی پارٹی کے لوگ ہونگے وہ چاہے سفید کریں یا سیاہ کوئی نہیں بول سکے گا ۔سارے دھوکے باز اور بے ضمیر لوگ کیبنٹ اور اسمبلی کے ممبر ہونگے ،جس کے پاس جتنا پیسہ ہوگا وہ اتنا ہی معتبر اور ایماندار ٹہرے گا ۔جو جتنا جھوٹا ہوگا اتنا ہی قابلِ اعتبار ہوگا ۔جو جتنا لوٹے گا اتنا ہی ایماندار کہلائیگا ۔جو جتنے دھوکے دے گا اتنا ہی با اعتماد ٹہرے گا ،
کدہر جا رہے ہیں ہم شاید بھلائی کی طرف کہ اب با ضمیر لوگوں کا امتحان ہوگا کہ کیا وہ یہ سب کچھ صبر سے برداشت کرینگے یا نکلینگے باہر ۔ کیا ادارے آنکھیں کھولینگے یا اب بھی کبوتر بنے آنکھیں بند کئے بیٹھے رہینگے ۔اب اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے شاید یہ بائلنگ پوائنٹ ہے کہ بس اب اور نہیں ،جس طرح ایک نااہل شخص احتساب عدالت میں جا رہا ہے چالیس چالیس گاڑیوں کے جلوس میں اور استعمال کر رہا ہے پنجاب ھاؤس یہ بھی ایک تماشہ ہے ۔جس کا کوئی ٹکٹ بھی نہیں ہے سب دیکھ رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں کیونکہ ہم نے بڑی سے بڑی خرابی کو اب صرف استہزاء ہی بنا لیا ہے ۔اب راہ ایک ہی ہے یا تو سنبھل جائینگے یا روتے رہینگے کہ یہ کیا ہوگیا ؟

ہم نے لکھا تھا کہ کاش صدر صاحب کا چہرہ اُن منحوس چہروں میں شامل نہ ہو جن کا انہوں نے زکر کیا تھا ایک تقریر کے دوران ۔مگر جب ہم نے سُنا کہ صدر صاحب نے اس قانون پر دستخط کر دئے ہیں تو ہمیں لگا کہ ایک اور چہرے کا اضافہ ہوگیا ہے ،جو کاش نہ ہوتا ؟؟؟ کاش صدر صاحب دستخط نہ کرتے اس بل پر اور کہہ دیتے کہ نہیں جو عدلیہ سے فارغ کر دیا گیا ہے نا اہل ہو گیا ہے میں اُس کے حق میں یہ دستخط نہیں کر سکتا ۔اب ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا مفادات ہیں ان لوگوں کے میاں صاحب کے ساتھ جو ہر بات کو پسَ پشت ڈال کر انہیں بچایا جارہا ہے ۔یہ بات ہم صرف میاں صاحب کے لئے نہیں کہہ رہے بلکہ جو بھی ایسی کسی بھی بات کا مرتکب ہے ہماری یہ سوچ ہر اُس شخص کے لئے ہے جو اآئین اور قانون کی پاسداری نہیں کرتا ۔

ہمیں افسوس اُن لوگوں پر جو میاں صاحب کو داد پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی صدارت بھی بچا لی اور پارٹی بھی ۔کاش ملک کے بارے میں سوچیں کہ یہ تمام بل جو اس آزادی سے منظور کئے جارہے ہیں کتنی طاقت دے رہے ہیں خرابیوں کو کتنی کمزوری لا رہے ہیں ملک میں ۔اُن نئے زہنوں میں جو ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ہم انہیں کیا بتا رہے ہیں کہ جو چاہے کرو بچ جاؤگے ۔مگر شاید نہیں ابھی ضمیر زندہ بھی ہیں اور جاگ بھی رہے ہیں ہمیں لگتا پاکستانی بکاؤ مال نہیں ہیں وہ اتنی آسانی سے ہر غلط بات اور ترمیم کو قبول نہیں کر لینگے اور شاید یہ ہی ہمارے لئے راہَ نجات ہوگی اس کرپشن زدہ ماحول اور لوگوں سے ۔ کاش ملک پہلے ہو اقتدار بعد میں لیکن جس قسم کے ماحول کو بنایا جارہا ہے وہ ہمیں انتہائی تشویشناک اور باعث شرم محسوس ہو رہا ہے دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں عدالت سے مجرم ژابت وہنے والا پارٹی چلائے یا کسی پارٹی کا صدر ہو ۔کاش ہم اس دور سے با آسانی نکل سکیں اور ایک اچھے اور نئے پاکستان کی بنیاد ڈال سکیں ان تمام عناصر سے نجات پا کر ۔۔
جب جب برائی کو موقہ ملتا ہے وہ آتش فشاں بن جاتی ہے اور جب وہ پھٹتی ہے تو زمین زرخیز نہیں ہوتی بلکہ بلائیں نکلتی ہیں اس لاوے سے جو گھیر لیتی ہیں تمام اچھائیوں کو ہمیں خوف ہے کہ ہماری نا سمجھی یا نا عاقبت اندیشی کہیں کسی طوفان کا پیش خٰیمہ نہ بن جائے ۔ہم اُس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے ایک بھی غلط قدم ہمیں برسوں پیچھے لے جائیگا ۔خدا را ہماری استدعا ہے اُن دماغوں سے جو ملک اور قوم کا درد رکھتے ہیں کہ نہ ساتھ دو ان تباہیوں کا جو ہمیں لے ڈوبیں گی ۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے آمین

SHARE