پھر سے روشنی ہوگی ۔ شمیم مظفر۔کویت

0
860

چھپ گیا کہیں شائد

میرے بخت کا سورج

ہر طرف اندھیرا ہے

کچھ نظر نہیں آتا

کیسے راستہ ڈھونڈوں

رہبری کے منصب پر کس کو معتبر سمجھوں

وقتِ مہرباں بھی اب دور ہوگیا شائد

دفعتاً اندھیرے میں اک کہیں کرن پھوٹی

ایک چہرہءِ روشن جیسے مجھ سے گویا تھا

اس کی ذاتِ کامل سے نا اُمید مت ہونا

رحمتوں کے ضامن کا تم یقین مت کھونا

کفر نا امیدی ہے

تم کبھی نہ گھبراتا

عارضی اندھیرا ہے

روشنی ہمیشہ ہے

کیا کبھی اندھیرے نے آفتاب نگلا ہے

وقتِ مہرباں اک دن پھر سے مہرباں ہوگا

وقت کا نیا سورج پھر سے مسکرائے گا

پھر سے روشنی ہوگی
پھر سے روشنی ہوگی

شمیم مظفر۔کویت

SHARE

LEAVE A REPLY