چھپ گیا کہیں شائد
میرے بخت کا سورج
ہر طرف اندھیرا ہے
کچھ نظر نہیں آتا
کیسے راستہ ڈھونڈوں
رہبری کے منصب پر کس کو معتبر سمجھوں
وقتِ مہرباں بھی اب دور ہوگیا شائد
دفعتاً اندھیرے میں اک کہیں کرن پھوٹی
ایک چہرہءِ روشن جیسے مجھ سے گویا تھا
اس کی ذاتِ کامل سے نا اُمید مت ہونا
رحمتوں کے ضامن کا تم یقین مت کھونا
کفر نا امیدی ہے
تم کبھی نہ گھبراتا
عارضی اندھیرا ہے
روشنی ہمیشہ ہے
کیا کبھی اندھیرے نے آفتاب نگلا ہے
وقتِ مہرباں اک دن پھر سے مہرباں ہوگا
وقت کا نیا سورج پھر سے مسکرائے گا
پھر سے روشنی ہوگی
پھر سے روشنی ہوگی
شمیم مظفر۔کویت













