لٹ گیا تیرا شہر کراچی ، ایم کیوایم بے خبرے — سید عارف مصطفیٰ

0
1304

لٹ گیا تیرا شہر کراچی ، ایم کیوایم بے خبرے ۔۔۔
 سید عارف مصطفیٰ 
کہاں جاچھپے ہیں یہ متحدہ کے منہ بولے محافظ ۔۔۔ یعنی ایم کیو ایم والے۔۔۔
افسوس ، یہ سیاسی گرو اپنی وزارتوں سے چمٹے رہے اور اس مرتبہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں کراچی والوں کے حقوق پہ ایسا دہرا کلہاڑا چلا ڈالا کہ اس نے پچھلی تمام سفاکیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔۔۔
بلا شبہ اس بار تو حد ہی ہوگئی ہے ، پہلا کلہاڑا تو یہ چلایا کہ پہلی بار وفاقی بجٹ میں ملک کے سب سے بڑے شہر کے لیئے کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ نہیں رکھا ، اور دوسرا کلہاڑا عروس البلاد کو پیاسا مارنے کی سازش کا چلایا ۔۔۔ اہل وطن، اپنے حریف یعنی ہندوستان کی آبی جارحیت کو رو رہے تھے مگر تازہ وفاقی بجٹ میں تو خود ہماری وفاقی حکومت نے اہل کراچی کے ساتھ سنگین آبی جارحیت کرڈالی ہے – کیونکہ اس نے بھیانک کٹوتی کے کلہاڑے سے شدید قلت آپ کے شکار عروس البلاد کو مزید پیاسا مارنے کی واردات کا ارتکاب کردیا ہے اور یوں آبرسانی کے میگا پروجیکٹ کے فور کوعملاۤٓ معلق بلکہ معطل کرڈالا ہے ۔۔۔ کیونکہ اس نے کے فور پروجیکٹ کو تکمیل کے لیئے درکار 40 ارب روپے کے بجائے محض سوا تین ارب کے اعلان ہی پہ ٹرخادیا ہے

شرمناک بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ واردات متحدہ والوں کے سامنے اور انکی موجودگی میں کی ہے جو کہ وفاقی کابینہ میں 2 اہم وزارتیں سنبھالے بیٹھے ہیں اور جن کی موجودگی ہی میں بجٹ کے وفاقی کہاڑے سے شہر کی ترقیاتی جڑوں کو مکمل کاٹنے کا بھی بندوبست کردیا گیا ہے – یہاں میں نے ترقیاتی جڑیں کاٹنے کی بات اس لیئے کہی ہے کیونکہ پانی کسی بڑے شہر کے رہنے والوں کی اقتصادی لائف لائن بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ صرف شہریوں کے پینے اور نہانے دھونے کا آئیٹم نہیں رہ جاتا بلکہ اسی سے کسی بھی صنعتی شہر میں صنعتیں بھی رواں رہتی ہیں جس سے معیشت کا پہیہ بھی چل پاتا ہے- اور جہانتک کراچی کی بات ہے تو یہ تو پورے ملک کا سب سے بڑامعاشی حب بھی ہے لیکن کراچی کے ساتھ تعصب برتنے کی آندھی کے ایسےشدید جھکڑ چل رہے ہیں کہ اس میں ملک کا مجموعی مفاد بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے-

بلاشبہ اس شہر کی نمائندگی کرنے والوں کا اکثر موقع پہ کئی اہم معاملات میں یہی وطیرہ رہا ہے کے وہ اس شہر کے خلاف کیئے گئے صوبائی یا وفاقی حکومتی اقدامات میں کبھی خاموش تماشائی تو کبھی شریک جرم کا کردار ادا کرتے رہے جیسا کےصوبائی حکومت کا شہر کے متعدد انتظامی ادارے اور کئی اہم حقوق اوراختیارات سلب کرنے کے اقدامات یا پھر جیسا کہ وفاقی کی جانب سے ماضی میں کی گئی جعلی مردم شماری کے بدترین نتائج کی قبولیابی ۔۔۔ واضح رہے کہ اس مردم شماری میں کراچی کی ساڑھے 3 کروڑ کی آبادی کو محض ڈیڑھ کروڑ ظاہر کیا گیا تھا جس سے سیاسی انتظامی ، معاشی ، غرض ہرسطح پہ کراچی کے حقوق کے بڑے حصے پہ چھری چلادی گئی تھی مگر ان افسوسناک اقدامات کے باوجود یہاں کئحے منتخب نمائندگان نے اسمبلی کی رکنیت یا وزارتوں سے چمٹے رہنے ہی کو ترجیح دی تھی –

اس بار بھی ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آرہا ہے، کیونکہ شدیدافسوس کی بات یہ ہے کہ فیسبک پہ انکی تنظیم کے آفیشیل پیج پہ چند روزقبل 28 جون کو وزیراعظم سے ملاقات کا تذکرہ تو بڑے اہتمام سے موجود ہے، مگر اس ملاقات میں کراچی کے فراہمیء آب کے اس منصوبے کے لیئے جاری کردہ ڈیتھ وارنٹ پہ کسی بات چیت یا اسکی فوری تلافی کے مطالبے کا اشارہ تک موجود نہیں ۔۔۔ گویا حسب روایت اس بار بھی شہری نمائندگان حقیقی میدان عمل میں کہیں بھی نظر نہیں آرہے- تاہم پانی کی قلت کے مارے اس شہر کےواٹر سپلائی کے میگا منصوبے کے فور کو فنڈز کے نام پہ جو مونگ پھلیاں دی جارہی ہیں ،ان پہ ناپسندیدگی کے دکھاوے کے طور پہ تو ضرور کچھ غوں غاں کی گئی ہے مگراب جبکہ بجٹ کے اعلان و منظوری کی بات ایک ماہ پرانی ہوز چلی ہے لیکن ایم کیوایم کی جانب سے وزارتوں سے چمٹے رہنے کی پرانی و تاریخی مفاد پرستانہ پالیسی پہ عملدرآمد بدستور جاری ہے اور ایک ماہ اور عملی طور احتجاج اور حکومت سے عدم تعاؤن کی کوئی بھی راہ نہیں اپنائی گئی ۔۔۔

یوں ایم کیوایم کی اس بیحسی بلکہ نااہلی کے باعث ، بجٹ کے ایک ماہ بعد اب برسرزمین حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ٹھٹہ کی کینجھر لیک سے 121 کلومیٹر کی دوری سے 126 ارب روپے لاگت سے کراچی کو پانی پہنچانے والے اس بڑے منصوبے کے فور کی بقاء ہی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ 40 ارب کے بجائے محض سوا تین ارب روپے دینے کے وفاقی اعلان سے اسکی تکمیل کا جاری رہنا ممکن ہی نہیں رہا حالانکہ اس پہ دو تہائی کے لگ بھگ کام ہوچکا ہے اور باقی ایک تہائی کو اگلے برس جون تک مکمل ہوجانا تھا ٓ۔۔۔ اس حوالے سے ایک بڑا اور قوی خدشہ یہ ہے کہ اگر درکار فنڈز فوری فراہم نہ کیئے گئے تو درکار فنڈز کی شدید کمی کے باعث اس منصوبے پہ جاری کام رک جائے گا اور اس تعطل کے دوران تعمیرات و مشینری اور آلات کو پڑے پڑے سخت نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ کہنگی و خستگی انہیں نگل سکتی ہے اور یوں سب کیئے کرائے پہ پانی پھر سکتا ہے-

اس تعطل سے کے فور پروجیکٹ کو بہت بڑے نقصانات پہنچنے کے امکانات بھی بڑے واضح ہیں کیونکہ شاید پھر اسکی لاگت اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ یہ قابل عمل ہی نہ رہےگا اور یوں ٹینکر مافیا کا راج پورے شہر پہ قائم ہوجائے گا کیونکہ ابھی تک اس کی طلب کا دائرہ سارے شہر تک وسیع نہیں ہوسکا ہے لیکن اس کے تعطل سے کرپٹ سرکاری عمال اور سیاسی گروگھنٹال اپنے گٹھ جوڑ سے اس راج کا دائرہ پورے کراچی تک پھیلانے میں کامیاب ہوجائیں گے – کہا جاتا ہے کہ شہر میں چلنے والے ٹینکروں کی بہت بڑی اکثریت کے الکان بھی یہی لوگ ہیں تو ایسے انکی تو لاٹری ہی نکل پڑے گی کیونکہ پھر اس شہر ناپرساں کے لوگ پانی کو مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہوجائیں گے -خدانخواستہ اگر ایسا ہوگیا تو پانی کو ترسے اس شہر میں انتشار اور بگاڑ کی وہ خوفناک صورتحال جنم لے گی جو اس شہر کے امن و سلامتی ہی کو نگل سکتی ہے اور یقینی طور پہ ایسے نقصان کی تلافی بڑی مدت تک نہ ہوپائے گی-

سید عارف مصطفیٰ

SHARE

LEAVE A REPLY