مروّجہ صحافت کے بدلتے رنگ۔این ایچ نقوی

0
200
آج جب دنیا ایک عالمی گاوں کا روپ دھار چکی ہے، عالمی اخبار دنیا کے کونے کونے تک پھیل رہی ہیں۔ تو جی چاہتا ہے اس بھولے بسرے بیتے زمانے کی بات بھی کروں ، جب مصدقہ خبروں کے ذرائع اس قدر عام نہ تھے۔
گھر کے بزرگ پابندی کے ساتھ رات کے آٹھ بجے سیربین سننے کیلئے اپنے ریڈیو سیٹ کو تیارکر لیا کرتے تھے۔ اور سیربین کی خاص جانی پہچانی سگنیچر ٹیون پورے گھر میں گونجا کرتی تھی، اورکانوں کو بھلی لگنی والی مانوس آواز یوں گویا ہوتی تھی۔۔
یہ بی بی سی لندن ہے، شفیع نقی جامعی اور رضا علی عابدی کا سلام قبول کیجئے۔ اور پھر ملک بھر کے حالات کے ساتھ ساتھ عالمی منظرنامہ بھی سننے کو ملتا تھا۔ اسی طرح رضا علی عابدی کا شیر دریا سے اقتباس بھی کسی عظیم شہکار سے کم نہ ہوا کرتا تھا۔ بی بی سی اردو کے بے لاگ تبصرے تجزئیے اور تنقید سننے والوں کو اپنا عادی کر دیا کرتی تھی اور سامعین ان باتوں پر اندھا اعتماد کیا کرتے تھے

سرکاری میڈیا اس دور میں بھی ایسا ہی تھا جیسا آج ہے، پرسکون اورسب اچھا کی اخبار، آن کریں تو راوی چین لکھ رہا ہوتا تھا۔ پھر وقت نے کروٹیں بدلیں، آئی تبدیلی، اے پی پی جو واحد حکومتی نیوز ایجنسی تھی اس کے مقابل پی پی آئی میدان میں اتری، اسی طرح مختلف پرائیویٹ ٹی وی چینلز شروع ہوئے۔

بریکنگ نیوز، ٹاک شوز، ریٹنگ اور مقابلے بازی کا آغاز ہوا، خبر پہلے بریک کرنے کی اس جنگ میں بعض اوقات صحافتی اصولوں کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ میڈیا ایک انڈسٹر ی کی شکل اختیار کر گیا، جس میں صحافی کی اہمیت کم اور سرمایہ دار کی اہمیت بڑھ گئی، ٹی وی چینلز نے حکومتوں کو گرانے اور بچانے میں اپنے اپنے کردار شروع کر دیئے ، کوئی حکومتی ترجمان بن گیا تو کوئی ریاستی آلہ کار بنا۔

کاروبار خوب چل نکلا، لیکن یہاں اس ساری جنگ میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھاری پڑا سوشل میڈیا، چونکہ آج آئی فون اور تھری جی فور جی اور اب فائیو جی کی بدولت ہر شہری نہایت باخبر ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اس پوزیشن میں ہے کہ مختلف موضوعات پر ٹاک شو کے لئے دلائل بھی رکھتا ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ جب یہ ای سٹیزن ، سائبر اور سوشل میڈیا کے سہارے پرنٹ اور الیکٹرانک کا طلسم توڑ کر رکھ دے گا

این ایچ نقوی

SHARE

LEAVE A REPLY