قومی اسمبلی کی نشست این اے 4 پشاور میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے جس کے لیے 14 امید وار میدان میں ہیں۔

حلقہ این اے 4 پشاور کی نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے ٹکٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے گلزار خان کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔

تاہم این اے 4 پشاور میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ این اے 4 پشاور کے ضمنی انتخاب کا فیصلہ در اصل تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا میں چار سالہ دور حکومت کا فیصلہ ہوگا۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے اس حلقے میں انتخابی مہم کے دوران اپنے کثیر وسائل استعمال کیے ہیں۔

قومی اسمبلی کی اس نشست کی حیثیت پی ٹی آئی کے لیے ایسی ہی ہے جیسا کہ ن لیگ کے لیے این اے 120 لاہور کی حیثیت تھی جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کے خلاف فتح حاصل کی تھی۔

پشاور کے حلقہ این اے 4 میں پولنگ کے دوران سیکورٹی کے لیے پولیس کے ساتھ فوج کے اہلکار بھی تعینات ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حلقے کی فضائی نگرانی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

گزشتہ روز انتخابی عمل کے لیے انتخابی مواد پاک فوج کے زیرِ نگرانی پرئیزائیڈنگ افسران میں تقسیم کیا گیا تھا۔

حلقے میں انتخاب کے لیے کل 269 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں مردوں کے 147 اور خواتین کے لیے 111 جبکہ 11 گیارہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

پشاور کے حلقے این اے 4 کو سیکیورٹی کے اعتبار سے 7 مختلف زون میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 181 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ 88 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے

ضمنی انتخاب کے دوران 3 لاکھ 97 ہزار 9 سو 4 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

انتخاب میں تجرباتی طور پر 35 پولنگ اسٹیشنز میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) لگائی گئی ہے۔

پولنگ کے عمل کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں اور ووٹرز کو موبائل فون اندے لے جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے حلقے میں دفعہ 144 نافذ ہے اور علاقے میں عام تعطیل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY