پیادے کی کیا بساط سواروں کے عہد میں
مردہ ہیں لوگ زندہ مزاروں کے عہد میں
نیرنگیء سیات دوراں یہی تو ہے
قبضہ ہوا خزاں کا بہاروں کے عہد میں
قیمت چکا رہے ہیں ہر اک سانس سانس کی
ہم منفعت پسند ،خساروں کے عہد میں
سچ بولنے کے جرم کی یہ بھی سزا قبول
تنہا رہوں گا لاکھوں ہزاروں کے عہد میں
مانگے کی روشنی کا لیں احسان کس لیئے
اپنا دیا جلائیں ستاروں کے عہد میں
دشمن کے واسطے بھی جو کرتے رہیں دعا
ایسے بھی لوگ ہیں خطا کاروں کے عہد میں
صفدرعجب مذاق ہے،جینا پڑا ہمیں
بونوں کے عہد میں اداکاروں کے عہد میں
صفدر ھمدانی













