صفدرعجب مذاق ہے،جینا پڑا ہمیں

0
1095

پیادے کی کیا بساط سواروں کے عہد میں
مردہ ہیں لوگ زندہ مزاروں کے عہد میں

نیرنگیء سیات دوراں یہی تو ہے
قبضہ ہوا خزاں کا بہاروں کے عہد میں

قیمت چکا رہے ہیں ہر اک سانس سانس کی
ہم منفعت پسند ،خساروں کے عہد میں

سچ بولنے کے جرم کی یہ بھی سزا قبول
تنہا رہوں گا لاکھوں ہزاروں کے عہد میں

مانگے کی روشنی کا لیں احسان کس لیئے
اپنا دیا جلائیں ستاروں کے عہد میں

دشمن کے واسطے بھی جو کرتے رہیں دعا
ایسے بھی لوگ ہیں خطا کاروں کے عہد میں

صفدرعجب مذاق ہے،جینا پڑا ہمیں
بونوں کے عہد میں اداکاروں کے عہد میں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY