امریکا نے ایرانی پستے پر 241 فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے

0
135

ایران اور امریکا کے کشیدہ تعلقات نےپستے کے کاروبارکو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
پستے کی عالمی تجارت کا بڑا حصہ امریکا اور ایران کے پاس ہے اور گذشتہ عشرے کے دوران ان دونوں ملکوں کا مشترکہ حصہ 70 اور 80 فیصد کے درمیان تھا۔
گذشتہ 40 برس میں ایران میں پستے کے کاشت کاروں کو ملک پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچنے میں مشکلات رہی ہیں۔

پستہ خود ممنوعہ اشیا کی فہرست میں شامل نہیں ہے، لیکن عالمی بینکنگ پر قدغنوں کی وجہ سے ایرانی کاشت کاروں کو کاروبار کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
2016 میں ایران کے ایٹمی معاہدے کے بعد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے اور ایران پر پابندیاں ہٹ گئیں۔اس کے بعد سے صرف ایرانی تیل ہی نہیں بلکہ پستہ بھی سمندر پار منڈیوں تک پہنچنے لگا۔
ایران میں پستے کی صنعت ہزاروں برس پرانی ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکا میں پستہ پہلی بار 1930 کی دہائی میں ایرانی بیجوں کی مدد سے اگایا گیا تھا۔
امریکا نے ایرانی پستے پر 241 فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پابندیوں کے علاوہ بھی امریکی منڈی ایران کی پہنچ سے باہر ہے۔

دوسری طرف خود ایران کو پانی کی کمی کا سامنا ہےجو کہ صنعت کے پھیلاؤ میں ‘بڑی رکاوٹ ہے۔
امریکا میں 2016 کی اچھی فصل کے بعد وہ اب دنیا میں پستہ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، جب کہ ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ دونوں ملک مل کر دنیا بھر میں پستے کی منڈیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں پستے کے شائقین چاہتے ہیں کہ ایرانی پستے کو منڈیوں تک رسائی دی جائے تاکہ اس خشک میوے کی قیمت کم ہو اور وہ زیادہ آسانی سے اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY