جب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نہیں تھا، ادبی رسائل شایع نہیں ہوتے تھے، تب شعرا ایک دوسرے کو شعر سنا لیتے تھے مگر یہ کافی نہیں تھا۔ جب تک شاعر کا کلام باذوق سامعین تک نہیں پہنچ پاتا، تخلیق کا حق ادا نہیں ہوتا۔ بادشاہوں کے دربار میں تو شاہی شاعر ہوتے تھے اور مغل بادشاہ اُن کی قدر بھی کرتے تھے۔ بادشاہوں کی تقلید میں مشاعرے کے کلچر کو دلی اور لکھنو کے نوابوں نے بھی فروغ دیا۔مولانا محمد حسین آزادؔ نے ’’دلی کا آخری یادگار مشاعرہ‘‘ میں جس طرح مشاعرہ گاہ کے انتظامات اور مشاعرے کی روداد قلم بند کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندستانی معاشرے میں مشاعرے کی کیا اہمیت تھی اور شاعروں کو کیا عزت و توقیر حاصل تھی۔ پاکستان بننے کے بعد جہاں کچھ اور ثقافتی تقریبات جاری رہیں، وہاں مشاعرے کی روایت بھی آگے بڑھتی رہی۔ مگر اس کے علاوہ کچھ اور پلیٹ فارم بھی ایسے متعارف ہو گئے کہ جہاں شاعروں کا کلام باذوق سامعین تک پہنچنے لگا۔معاشرے میں جہاں دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر زوال آیا ہے، مشاعرے کی روایت بھی تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔مگر قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس طرح محلاتی سازشوں کے کلچر کی لپیٹ میں بادشاہت رہتی ہے، کچھ ایسا ہی مشاعرے کی روایت کے ساتھ بھی ہوتا آیا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد چار سطحوں پر مشاعرے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ پہلے پہل ضلعی سطحوں پر ڈپٹی کمشنر صاحبان ایسی علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔ایوب خان کے عہد میں سرکار کی زیر سرپرستی ادبی سرگرمیوں کا فروغ مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا۔حکومتی ایوان ادیبوں شاعروں کی حریت، بے باکی اور بے خوفی سے پریشان تھی۔مختلف ایجنسیاں ہر وقت بڑے بڑے شاعروں ادیبوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہئے تھیں۔ جن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی وہ بیوروکریٹس نہ صرف خود لکھنے پڑھنے سے وابستہ رہے بل کہ ہم عصر شعرا اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔ایوب خان کے عہد حکومت میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے قیام نے شاعروں ادیبوں کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ گلڈکے حق میں تھے اور کچھ مخالف۔مگر اس دور میں شعرا کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ اگر سرکاری مشاعرے پڑھنا ہیں، تو بیوروکریٹس کے ساتھ خوشگوار روابط قائم رکھنا ہوں گے۔ 1970ء کی دہائی میں جب عوامی جمہوری حکومت قائم ہوئی تو کلچر کے فروغ کے لیے ڈویژن کی سطح پر چاروں صوبوں میں آرٹس کونسلیں بنائی گئیں۔ ان کونسلوں نے ادیبوں شاعروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کا موقع فراہم کیا۔ضلعی حکومتوں کے ان مشاعروں کے تسلسل میں صوبائی سطح پر’’سالانہ بہاریہ ‘‘ مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا۔لاہور میں امجد اسلام امجد، کوئٹہ میں اوریا مقبول جان، کراچی میں پیرزادہ قاسم اور پشاور میں ناصر علی سید اپنے صوبوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ان بہاریہ مشاعروں میں ایسے شعرا کو بلایا جاتا جو اپنے صوبوں میں ہونے والے شعرا کو بلاتے۔اس عمل نے شعرا کے ایسے گروہ کا جنم دیا جو آج تک اردو ادب کے فلک پر چھایا ہوا ہے۔ ضلعی سطحوں پر بھی حکومتی ہدایات اور سرپرستی میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں ایک جانب شعرا افسر شاہی کے قریب ہوئے تو دوسری جانب شاعروں کے درمیان باہمی تعلقات پروان چڑھے۔ صوبائی سطح کے سالانہ بہاریہ مشاعروں میں مختلف صوبوں کے شعرا کو ایک جگہ پر مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں اکادمی ادبیات اسلام آباد کے زیر اہتمام سالانہ’’ اہل قلم کانفرنسز‘‘ کے انعقاد کا آغاز ہوا۔ ان کانفرنسز میں جن ادیبوں شاعروں کو نہیں بلایا جاتا تھا، وہ احساس محرومی کا شکار ہوئے اور انہوں نے شرکت کے لیے سفارشیں ڈھونڈنا شروع کر دیں۔ پہلے صرف مشاعروں میں شرکت کے لیے سفارشیں ڈھونڈی جاتی تھیں، اب اہل قلم کانفرنسز میں مندوب بننے کے لیے سفارشیں شروع ہوئیں۔ ان تمام سرگرمیوں نے ادیبوں شاعروں میں سفارش کے کلچر کو فروغ دیا۔
مشاعروں کی دوسری سطح تعلیمی اداروں میں مشاعروں کی روایت کا آغاز تھا۔ اس سے پہلے طلبا کے درمیان بین الکلیاتی مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا تھا جہاں طرحی مصرع پر لکھی ہوئی طالب علموں کی شاعری کو پرکھنے کے لیے سینئر شعرا کو دعوت دی جاتی تھی۔ مگر اساتذہ نے کہ جو خود بھی شاعر تھے،اپنے تعلیمی اداروں میں سالانہ مشاعروں کے انعقاد کا آغاز ہوا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے درمیان ایک نئی مشاعراتی سیاست کا آغاز ہو گیا۔ اساتذہ دوسرے تعلیمی اداروں سے استاد شعرا کو دعوت ہی اس لیے دیتے کہ وہ اپنے ادارے میں اُن کو بلائیں۔ اور پھر خود ہی اسٹیج پر مہمان خصوصی اور صدر بن کر بیٹھ جاتے۔ عوامی مقبولیت کے متلاشی شعرا طلبا و طالبات میں خود کو متعارف کروانے کے لیے ایسے مشاعروں میں شرکت کے لیے سفارشیں ڈھونڈتے پھرتے۔ ان مشاعروں کا ایک فائدہ بہر حال یہ ہوا کہ وہ طالب علم جو شعر کہنے کا قدرتی ذوق رکھتے تھے، ان کی ملاقات سینئر شعرا سے ہو جاتی اور وہ براہ راست ادبی حلقوں میں شامل ہو جاتے۔
تیسری سطح سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے زیر اہتمام کروائے جانے والے مشاعروں کی ہے۔ یہ ادارے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور میں موجود تھے۔ اگر ان اداروں میں ایسے سربراہ آ جاتے تو وہ اپنے ذوق کی آبیاری کے لیے مشاعروں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرتے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں کچھ ایسے لوگ بھی متعارف ہو گئے جو خود شاعر نہیں تھے، ان کو شاعری کا شوق تھا، اور مشاعروں میں شرکت کرنے والے شعرا ان کو غزلیں لکھ کر دینے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ان اداروں نے غیر معیاری شاعروں اور شاعری کی افزائش میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ایسے اداروں کے پاس فنڈز بھی تھے، جن کا غلط استعمال ہوا اور ذاتی مفادات حاصل کیے جاتے رہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ متشاعروں کی افزائش میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔
چوتھی سطح چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ادبی تنظیموں کے زیر اہتمام کیے جانے والے مشاعرے ہیں۔یہ مشاعرے تسلسل سے جاری رہتے ہیں۔ ہر شہر میں کچھ ادبی تنظیمیں کام کر رہی ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں۔جب تک یہ خالص ادبی تنظیمیں جینوئن شعرا کے زیر انتظام چلتی رہیں، تب تک مشاعروں اور شعرا کا ایک معیار قائم رہا۔ مگر ہوا یہ کہ دوسرے اور تیسرے درجے کے شعرا، جن میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے کہ جنہیں شاعری وزن میں پڑھنا بھی نہیں آتی،مگر ذاتی نمودونمائش کا شوق تھا اور چوہدراہٹ جمانے کے لیے پیسے بھی تھے۔ وہ ادبی تنظمیوں کے سرپرست، صدر، چیئرمین بن بیٹھے، کئی ایک نے اپنی اپنی ادبی تنظیمیں بنا لیں۔یہ حضرات جب بھی مشاعرہ منعقد کرواتے ہیں، خود ہی صدارت کرنے اسٹیج پر جلوہ افروز ہو جاتے ہیں۔ اس سرگرمی نے شعرا میں حفظ مراتب کو ختم کر دیا۔ اسٹیج پر بیٹھے ہونے کے سبب، ان شوقیہ شعرا کو موقع مل جاتا کہ وہ سینئر شاعروں سے بھی بعد میں اپنا کلام سنائیں۔ اور یوں شعرگوئی کے سفر میں سینئر جونیئر کی تمیز ختم ہو گئی۔ عمر میں بڑے ہونے کے سبب سے بھی بعض خود کو سینئر شعرا میں شمار کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ایک ہی تقریب میں بہت سے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے تقریبات میں ایک سے زیادہ مہمانان خصوصی کا رواج شراع ہوا۔ ایسی بے شمار نام نہاد قسم کی ادبی تنظیموں کے جمعہ بازار میں شعرا کا معیار اور وقار بالکل ہی ختم ہو گیا۔ ان ادبی تنظیموں کے سربراہان نے جینوئن شعرا کے لیے جگہ ہی نہیں رہنے دی۔ اُن کی مرضی ہو تو یہ احسان فرماتے ہوئے ایسے کسی شاعر کو اپنا قد بڑھانے کے لیے دعوت دے دیں، اگر نہ چاہیں تو اسے سامعین میں ہی بیٹھا رہنے دیں۔ان منتظمین نے ادبی کتابوں پر تقریبات اور شخصیات کے ساتھ شامیں منانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مقررین اور مضامین نگاروں کے بجائے تقریب میں شامل ہر شخص کو پانچ سات منٹ دیے جاتے کہ وہ اظہار خیال کرے۔ دیکھا دیکھی بہت سے گفتگو کے شائین پیدا ہو گئے جو ہر تقریب میں توقع کرتے کہ انہیں بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ بعض اوقات تو صاحب شام کے ساتھ گفتگو کرنے والے کی یہ پہلی ملاقات ہوتی تھی۔اس کلچر نے سنجیدہ گفتگو یا مضامین نگاروں کو پچھلی صفوں میں دھکیل دیا۔
اس کے علاوہ پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو پر بھی باقاعدگی سے مشاعرے ہو رہے ہیں۔ یہ مشاعرے عام طور پر جشن آزادی، عیدین، محرم الحرام و دیگر خاص ایام کے حوالے سے منعقد کیے جاتے ہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ مشاعروں کی اقسام میں یہ سب سے بے برکت قسم ہے۔ ان مشاعروں کے شرکا کی فہرست کچھ صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اقربا پروری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور ایسے موقع پر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نوازتے ہیں۔ کئی برسوں سے پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو پر کچھ تھکے ہوئے شعرا بار بار بلائے جا رہے ہیں۔ ان کے تخلیقی معیار کے بارے میں کبھی بات نہیں ہوئی، بس ان کا نام ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ان سرکاری لفافہ مشاعروں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے بھی دوڑیں لگی ہوتی ہیں، سفارشیں چل رہی ہوتی ہیں۔خواتین اس کام میں آگے آگے ہیں۔یہ عہد تعلقات بنانے اور نبھانے اور ان تعلقات کی آڑ میں مفادات حاصل کرنے کا عہد ہے اور اس کام کے لیے شاعروں اور مشاعروں سے زیادہ اچھی کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں۔
بیرون ملک جہاں جہاں اردو بولنے اور پڑھنے والے موجود ہیں وہ اپنے وطن عزیز کی یاد تازہ کرنے کے لیے مشاعروں کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اتنی تعداد میں ادبی تنظیمیں بنا رکھی ہیں جتنے تعداد میں یہ لوگ خود ہوتے ہیں۔ کئی لوگوں نے تو ایسے مشاعروں کے انعقاد کو ذریعہ روزگار بنا رکھا ہے۔ بیرون ملک جا کر مشاعرے پڑھنا شعرا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ہر طرح کی کوششیں کرتے ہیں، بیرون ملک سے آئے ایسے موثر لوگوں کو شاعری لکھ کر دیتے ہیں، ان کے پاکستان آنے پر ہوٹلوں میں ان کے اعزاز میں اور ان کی صدارت میں مشاعرے منعقد کراتے ہیں۔ بیرون ملک اپنے دوروں کے دوران خود پر چڑھے احسانات کے قرض کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔جو پاکستانی شعرا بیرون ملک جا کر مشاعرے پڑھنے کے خواستگار ہوتے ہیں، وہ ایسے لوگوں (میں انہیں شاعر نہیں لکھ سکتا) کی صدارت میں خوشی خوشی مشاعرے پڑھتے ہیں۔ ان کو اسامی کہا جاتا ہے۔بیرون ملک مشاعرے کروانے والی چھوٹی چھوٹی ادبی تنظیموں کے درمیان سیاست زیادہ اورکام کم ہوتا ہے مگر یہ ادب کی خدمت کی آڑ میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان ادبی تنظیموں نے ایوارڈز کا بھی اجرا کر رکھا ہے جو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے جشن منانے کی روایت بھی شروع کر رکھی ہے۔یہ ایوارڈ اور جشن منانے کی یہ تقریبات ہر معیار کے شعرا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ایسی ادبی تنظیمیں جب شعرا کو بلاتی ہیں تو شاعر کو ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر کسی اور ادبی تنظیم کے مشاعرے میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایئر پورٹ سے اترتے ہی ایسے شعرا کو سیدھا مشاعرہ گاہ یا پھر ہوٹل لے جایا جاتا ہے۔ شاعر کو صرف اُن کے اپنے ترتیب دیے گئے مشاعروں میں شرکت کی اجازت ہوتی ہے۔ اس بات کا پہرہ بھی دیا جاتا ہے۔ معاہدہ توڑنے والے کو اگلے سال دعوت نہیں دی جاتی۔ایسے تجارتی مشاعروں پر ٹکٹ لگائے جاتے ہیں اور سامعین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آئیں اور ٹکٹ خرید کر شاعر کا کلام سنیں گویا شاعر نہ ہوا کوئی اسٹیج تھیٹر کا اداکار ٹھہرا۔ آج کل مزاحیہ شعرا خود کو اسٹیج کا ایسا ہی جگت باز مزاحیہ اداکار بنا کر پیش کرتے ہیں، ٹکٹ خریدنے والوں کو ہنساتے ہیں تا کہ اگلی بار پھر ان کو دعوت دی جائے۔
جب سے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان میں کاروبار کے لیے اپنے پاؤں جمائے ہیں، وہ اپنے ملازمین اور کلائنٹس کے لیے انٹر ٹینمنٹ کی مختلف صورتیں پیدا کرتی رہتی ہیں۔اس کی ایک صورت مشاعرے کی بھی ہے ۔ یہ روایتی مشاعرہ نہیں ہوتا ۔ ایسے مشاعروں میں دو سے تین بڑے اور مقبول شعرا کو بلایا جاتا ہے اور اُن سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کلام سنا جاتا ہے۔ یہ مشاعرے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ڈنر کے ساتھ اپنے معزز کلائنٹس کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں منعقد کرواتی ہیں۔ چوں کہ کلائنٹس کی تفریح طبع کا اہتمام کرنا ہوتا ہے اس لے عموماً مزاحیہ شاعروں کو بلایا جاتا ہے۔ دو سے تین شعرا کو بلانے کا آئیڈیا ان بڑے شعرا کا ہی ہے جو مشاعرے میں اپنے علاوہ کسی اور کی شرکت برداشت نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ منتظمین مشاعرے کے لیے بجٹ میں مخصوص رقم دس یا بیس شاعروں میں تقسیم کرنے کے بجائے صرف انہیں ہی دے دیں۔ منتظمین کی سردردی ختم ہو جاتی ہے کہ کہاں دس یا بیس شاعروں کو بلائیں۔ ایک شاعر سے رابطہ کرتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ دو یا تین شعرا کو لے جاتا ہے ۔ یہ شعرا باہمی مفادات کے لیے ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور کسی چوتھے کو اپنی صفوں میں گھسنے نہیں دیتے۔گویا مشاعرے کے کاروبار کی نوعیت بدل گئی ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ مشاعروں کی چھوٹی بڑی دکانداریاں ختم ہوتی جا رہی ہیں اور اِن کی جگہ میٹرو، پیکیجز مال، ایمپوریم مال، ٹیسکو، ایزدا، سینٹس بری، پرائم مارٹ نے لے لی ہے۔
مشاعروں کی ایسی صورت حال میں کہ جب بڑے بڑے جگادری مشاعرہ باز شعرا نے ملک اور بیرون ملک میں مشاعرے ہائی جیک کر رکھے ہیں، فیس بک اور وہاٹس ایپ نسل کے نوجوان شعرا نے نئی نسل مشاعرہ کے نام سے اپنی الگ سے دکانداری چلا رکھی ہے۔ مختلف شہروں سے نوجوان شعرا اپنے اپنے اخراجات کر کے ان مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی بجٹ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ کھانا یا چائے کا اہتمام بھی مل جل کر کر لیتے ہیں۔ ان نوجوان شعرا نے سینئر شعرا کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ اگر سینئر شعرا کو دعوت دیتے ہیں تو یہ شرط رکھ دیتے ہیں کہ وہ صرف نوجوانوں کا کلام سننے کے لیے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہی آئیں گے اور حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ کئی سینئر شعرا ایسے مشاعروں میں چلے بھی جاتے ہیں۔ یہ نوجوان شعرا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، دوستوں کے گھروں میں راتوں کو قیام کرتے ہیں، اور ان کے درمیان دوستیاں اور دشمنیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔نئی نسل نے فیس بک اور وہاٹس ایپ گروپس میں بھی مشاعرے انعقاد کروانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو نہایت کامیابی سے چل رہا ہے۔ دنیا کے مختلف شہروں اور مختلف زمانی تناظر میں زندگی گزارتے ہوئے یہ شعرا فیس بک اور وہاٹس ایپ گروپس میں مشاعرے منعقد کروا رہے ہیں جہاں ہر رکن کو شرکت کی اجازت ہوتی ہے۔ بعض اوقات طرحی مصرع پر Live مشاعرہ بھی کیا جاتا ہے۔ گویا نئے وقت کے نئے تقاضوں کے مطابق مشاعرے کی ہئیت بھی بدلتی جارہی ہے۔
مشاعرے جیسے بھی کروائے جائیں، جہاں بھی کروائے جائیں، ان میں شرکت کے لیے جوڑ توڑ اور سیاست کے داؤ پیچ کی اپنی الگ تاریخ ہے۔شعرا کے گروپ بنے ہوئے ہیں۔ ایک شاعر کو بلائیں، وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ باقی شیڈول ناموں کو فارغ کروا دے اور صرف اپنے گروپ کے نام ہی مشاعرہ پڑھنے والوں کے ہوں۔صدارت اور مہمانان خصوصی بھی اپنی مرضی کے رکھوائے جاتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے درمیان مشاعرہ پڑھتے ہوئے یہ جوڑ توڑ کے ماہر شعرا سہولت محسوس کرتے ہیں۔ کھل کر ایک دوسرے کو داد دیتے ہیں۔ اور اگر گروپ سے باہر کا شاعر ہو تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ دراصل میزبانوں پر یہ ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں کہ یہ شاعر تو غیر معیاری اشعار سنا رہا ہے تا کہ اگلی بار اسے نہ بلایا جائے۔ شعرا کے یہ گروپ صدر اور مہمان خصوصی بھی اپنی مرضی سے رکھواتے ہیں۔ آج کل تو ایک صدارت کے ساتھ ایک درجن مہمانان اعزاز بھی بھگتائے جاتے ہیں۔ سب کو اسٹیج پر بٹھا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض مشاعروں میں سامعین کی تعداد شعرا سے کم ہو جاتی ہے۔ یہ الگ بات کہ اکثر مشاعروں میں سامعین بھی شاعر ہی ہوتے ہیں۔
ایسا دیکھنے میں کئی بار آیا ہے کہ کسی مشاعرے کی بھنک اگر کان میں پڑ جائے تو شاعر کسی نہ کسی طرح سفارش ڈھونڈ کے شامل ہو جاتا ہے اور عین ممکن ہے کہ جس شاعرنے اسے بتایا ہوتا ہے، وہ مشاعرے سے باہر ہو جائے۔جس مشاعرے سے لفافہ ملنا ہو، اس کو تو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے اور راز کی حفاظت اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک مشاعرہ ہو نہ جائے۔ فیس بک یا گفتگو میں ایسے مشاعروں کا انعقاد سے پہلے ذکر تک نہیں ہونے دیا جاتا۔ منتظم شعرا اس خوف سے بھی اچھے شعرا کو مشاعرے میں شامل نہیں ہونے دیتے کہ ان کی تھکی ہوئی اور پھسپھسی شاعری کا چراغ نہیں جلے گا۔یہ تمام صورت حال ہی اس بات کا سبب بنی ہے کہ مشاعرے اب محض مزاحیہ شعرا کے حوالے سے ہی منعقد کرنے کا رواج چل نکلا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی اچھے شعرا نے مزاحیہ اشعار کہنے شروع کر دیے ہیں۔ جب اچھے اور جینوئن شاعروں کا رستہ روک دیا گیا تو مزاحیہ شعرا ایک عذاب کی صورت اردو ادب میں نازل کر دیے گئے ہیں جنہوں نے مشاعرے کے کلچر کو پھکڑ پن اور لطیفوں میں بدل دیا ہے۔ایسے شعرا کی مارکیٹ میں بہت ڈیمانڈ ہے۔اکیسویں صدی میں مشاعروں کی یہ صورت باقی رہ گئی ہے اور اس کے بہتر ہونے کا اس لیے بھی کوئی امکان نہیں کہ شعرا کا انتخاب میرٹ پر نہیں کیا جاتا بل کہ مختلف مفادات اور ترجیحات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ کئی اداروں میں مشاعروں کا انعقاد ایسے ہی نام نہاد ، مطلب پرست، خود غرض اور اقربا پرور منتظم شعرا کی کارکردگی کے باعث بند ہو چکا ہے۔آج کل جو مشاعرے ہو رہے ہیں وہاں سامعین کی جگہ پر ادارے کے ملازمین کو زبردستی بٹھا کر مشاعرہ سننے کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔ایسے سامعین کی شکلوں پر برستی بے بسی، ملازمت کی مجبوریاں اور زبردستی کی شرکت کے تاثرات نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر غافر شہزاد













