اپنے احساس کی آغوش میں لا کر دیکھو
مجھ کو اس وادیِ خاموش میں لا کر دیکھو
آرزوؤں کو نگاہوں میں سجا کر اپنی
اپنے ارمان سبھی ہوش میں لا کر دیکھو
میری آنکھوں سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی
دل کے جذبوں کو ذرا جوش میں لا کر دیکھو
مجھ کو تم آج بھی موجود وہیں پاؤ گے
خود کو اک عہدِ فراموش میں لا کر دیکھو
جگمگاتی ہوئی راتوں کے نجوم و مہتاب
تم مرے شہر سیہ پوش میں لا کر دیکھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوصلوں میں اس قدر تاثیر ہونی چاہیے
تیرگی میں روشنی تحریر ہونی چاہیے
خواب دکھلائے جو کل کے, فکر بھی تعبیر کی
رہنما کو آج دامن گیر ہونی چاہیے
اس طرح کے چاہتا ہوں زاویئے ماحول میں
خوبصورت زندگی تعمیر ہونی چاہیے
زندگی کی رونقوں میں ہر سہولت, ہر خوشی
دیس کے ہر فرد کی تقدیر ہونی چاہیے
خواب, یوں صادق عمل کے ساتھ وابستہ کرو
خواب ہی میں خواب کی تعبیر ہون چاہیے
عزم کے مدمقابل جو رکاوٹ آئے,وہ
عظمتِ کردار سے تسخیر ہونی چاہیے
بس یہ خواہش ہے کہ میرے دیس کے معمار کی
کامیابی, حسن کی تصویر ہونی چاہیے
(نقاش عابدی )













