تمام معذور بچوں کے نام۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
218

میری نظم “ سوز ناتمام “ تمام معذور بچوں کے نام ہے جوہم جیسے ہیں پر ہم انہیں “ اپنے جیسا “ سمجھتے نہیں ہیں

سوز نا تمام ۔۔۔

میرے بیٹے
تم جانتے ہو
تم مجھے کب ملے تھے
جب میں اداس ہو رہی تھی
جب میں نے سوچ لیا تھا
کہ
اس دنیا میں کوئی سچا نہیں ہے
کوئی پیار کی بولی سمجھتا نہیں ہے
اور جو سمجھتا ہے
وہ اسے اندیشوں میں رول دیتا ہے
تم نے ہنس کر مجھے دیکھا تھا
اور
اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا تھا
یوں جیسے
اپنا سارا پیار اور یقین
مجھ پر وار دیا تھا
میں جانتی ہوں میرے بیٹے
تم بول نہیں سکتے
تم اپنی مرضی سے کچھ کھا نہیں سکتے
تم اپنے دفاع میں لڑ نہیں کر سکتے
تم ڈاکٹر انجنیئر ٹیچرکچھ نہیں بن سکتے
تمہارے ماتھے پر معذور کا لیبل لگا ہے
تمہاری ماں ہار رہی ہے بیٹے
وہ یہ سمجھا نہیں پا رہی ہے
کہ
تمہارے پاس بھی
وہی دل ہےجس میں کئی خواہشیں سانس لیتی ہیں
وہی آنکھیں ہیں جن میں کئی خواب رہتے ہیں
وہی زبان ہے جس میں کئی بولیاں قیام کرتی ہیں
تمہاری ماں جانتی ہے
اس کا بیٹا بے بس ہے اور بے قصور ہے
پر وہ خوش ہے ، خالق کو یہی منظور ہے
میرے بیٹے ۔۔
اپنی ماں کو معاف کر دینا
وہ کبھی
اس جہاں کو یہ کبھی سمجھا نا پائے گی
شاید تمہاری عزت نفس کبھی بچا نا پائےگی
ہائے ۔۔۔ میری بے بسی ۔۔
پر ۔۔۔ بیٹے
تم کیوں اتنا پریشان ہوئے جاتے ہو
کیوں میرے آنسو پونچتے جاتے ہو
مسکراتے ہوئے تسلی ہوئےجاتے ہو
تمہاری آنکھوں کی بولیاں سن رہی ہوں
تم کہہ رہے ہو ۔۔
نہ رو پیاری ماں
یہ لو گ دنیا دار ہیں
خود زہنی معذور ہیں
وہ بھلا کیا جانیں ۔۔
کتنے ہی پھول ہیں جن میں خوشبو نہیں ہوتی
کتنے ہی بادل ہیں جن میں پانی نہیں ہوتا
پر
جنگل کبھی پھول کو دربدر نہیں کرتا
آسمان کبھی بنجر بادل کو ملامت نہیں کرتا
آہ !
میرے بیٹے
تو کیا ہم
کسی معذورکی
عزت نفس نہ بچا پائیں گے ۔۔۔؟

ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY