ملکہ ترنم نور جہاں کی آج پچیسویں برسی منائی جارہی ہے۔
انیس سوچھبیس میں پنجاب کے علاقے قصور میں موسیقاروں کے گھرانے میں پیدا ہونیوالی نورجہاں نے نو سال کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر اپنے گائیکی سفر کا آغاز کیا۔
وہ جنوبی ایشیاء میں اپنے وقت کی سب سے بڑی اور بااثر گلوکارہ کے طور پر مشہور تھیں اور اُنہیں ملکہ ترنم کا اعزازی خطاب دیا گیا۔
نور جہاں نے فلمی صنعت پر پینتیس سال سے زائد عرصے تک راج کیا اور اردو، پنجابی اور سندھی سمیت مختلف زبانوں میں تقریباً دس ہزارگانے ریکارڈ کئے۔
نور جہاں وہ آواز تھی جس نے انیس سوپینسٹھ کی پاک بھارت کے دوران پاک فوج اور عوام میں حب الوطنی کاجذبہ بیدارکردیا تھا۔
انیس سوستاون میں نور جہاں کو ان کی اداکاری اور گلوکاری کی صلاحیتوں پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وہ دوہزارمیں آج کے روز انتقال کرگئیں، انہیں کراچی میں سپرد خاک کیا گیا۔













