ہم کس قدر کند ذہن اور کوتاہ بیں ھو چکے ہیں اور ہر اچھی بری چیز کو شخصیات سے منسلک کرکے ڈونڈی پیٹنے میں روحانی کتھارسس کرنے کے نشئی ہو چکے ہیں۔۔۔محض ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس امسال گندم کی فصل جب چھوٹی تھی تو ضرورت سے زیادہ بارشیں برستی رہیں۔ تمام حکومت نواز میڈیا اسے وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت کی روحانی شخصیت کی وجہ سے اللہ کی ملک پر خصوصی رحمت سے منسوب کرتا رہا۔
تب میں سوچتا تھا یہ لوگ موسموں کے بدلتے مزاجوں کی بجاے اور ڈر کر کوئی پیش بندی کی بجاے خوشی کے شادیانے بجا رھے تھے۔ میں خوف زدہ تھا اگر بارشوں کا موسمی مزاج یونہی بگڑا رھا تو جس کو یہ رحمت سمجھ رھے ہیں یہ زحمت میں بدل سکتی ھے۔
اب یہی ہو رھا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے اطلاعات آ رھی ہیں کہ بے وقت طوفان_ باد و باراں سے لاکھوں ایکڑ پکی ھوئی گندم کی فصل کے تباہ ھونے کا اندیشہ پیدا ھو گیا ھے۔
اب وہ حکومت نواز میڈیا خاموش ھے۔۔۔کیوں کہ وہ اس رحمت نما زحمت میں چھپی تباہی کو اب کسی کے سر تھوپنے کا کیا جواز تلاش کریں۔ نتیجہ یہ نکلا ۔۔۔
وزیر اعظم خوش بخت یا منحوس نہیں ھوتے ان کی پالیسیاں ملک کے لیے رحمت یا زحمت لے کر آتی ہیں۔
دوسری بات جس برے اور بڑے پیمانے پر کرہ ارض کا ریپ ھو رھا ھے۔۔۔اس کے نتیجے میں زمین اپنی بقا کے لئے انگڑائی لیتی ھے تو انسانوں کو عذاب سہنا پڑتے ہیں۔ آئیے کچھ تو کبھی منطقی ھو کر سوچ لیں۔
جی۔ حسین













