فی زمانہ بھائی صفدر شاعری اچھی نہیں

0
2468

ہم فقیروں سے سنو یہ دل لگی اچھی نہیں
دائمی تاریکیوں میں روشنی اچھی نہیں

دور میں بالشتیوں کے جاننے کا نام موت
جاہلوں کے عہد میں ہاں آگہی اچھی نہیں

آئینوں اور پتھروں کے درمیاں اک کھیل ہے
سچ اگر پوچھیں تو یہ پیغمبری اچھی نہیں

زندگی اے زندگی ہے عمر بھر کا تجربہ
عشق گر ناپید ہے تو زندگی اچھی نہیں

دشمنوں کے درمیاں رہنے کا اپنا لطف ہے
باخدا کم ظرف سے تو دوستی اچھی نہیں

وقت مشکل ہو تو انکا راستہ یکسر الگ
ان قبا والوں کی سُن لو ہمرہی اچھی نہیں

ہوگیا در پر تمہارے صرف اک دستک کا جُرم
اس خطا پر ہم پہ تیری برہمی اچھی نہیں

شعر کی تصویر بن کے پاس تو بیٹھو ذرا
یوں غزل ہم کو سنانی سرسری اچھی نہیں

زندگی کے واسطے لاریب زر بھی چاہیئے
شہر زرداراں میں سُن لو بوذری اچھی نہیں

یہ بھی ممکن ہے کہ کل ہوں آپ بھی میری طرح
اپنے سے کم تر پہ ایسے برتری اچھی نہیں

عشق کا معیار ہوتا ہے عبادت کا مثیل
ہو غرض کے ساتھ تو پھر بندگی اچھی نہیں

کانچ کی چوڑی ہی کم ازکم کلائی میں تو ہو
اسقدر بھی جان صفدر سادگی اچھی نہیں

رات دن کیوں خون کو اپنے جلاتے ہو میاں
فی زمانہ بھائی صفدر شاعری اچھی نہیں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY