ہم فقیروں سے سنو یہ دل لگی اچھی نہیں
دائمی تاریکیوں میں روشنی اچھی نہیں
دور میں بالشتیوں کے جاننے کا نام موت
جاہلوں کے عہد میں ہاں آگہی اچھی نہیں
آئینوں اور پتھروں کے درمیاں اک کھیل ہے
سچ اگر پوچھیں تو یہ پیغمبری اچھی نہیں
زندگی اے زندگی ہے عمر بھر کا تجربہ
عشق گر ناپید ہے تو زندگی اچھی نہیں
دشمنوں کے درمیاں رہنے کا اپنا لطف ہے
باخدا کم ظرف سے تو دوستی اچھی نہیں
وقت مشکل ہو تو انکا راستہ یکسر الگ
ان قبا والوں کی سُن لو ہمرہی اچھی نہیں
ہوگیا در پر تمہارے صرف اک دستک کا جُرم
اس خطا پر ہم پہ تیری برہمی اچھی نہیں
شعر کی تصویر بن کے پاس تو بیٹھو ذرا
یوں غزل ہم کو سنانی سرسری اچھی نہیں
زندگی کے واسطے لاریب زر بھی چاہیئے
شہر زرداراں میں سُن لو بوذری اچھی نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ کل ہوں آپ بھی میری طرح
اپنے سے کم تر پہ ایسے برتری اچھی نہیں
عشق کا معیار ہوتا ہے عبادت کا مثیل
ہو غرض کے ساتھ تو پھر بندگی اچھی نہیں
کانچ کی چوڑی ہی کم ازکم کلائی میں تو ہو
اسقدر بھی جان صفدر سادگی اچھی نہیں
رات دن کیوں خون کو اپنے جلاتے ہو میاں
فی زمانہ بھائی صفدر شاعری اچھی نہیں
صفدر ھمدانی












