برطانوی شاہی خاندان میں بچوں کی پرورش کے بارہ اصول

0
163

برطانوی خاندان کے شہزادے ولیم اور اُن کی اہلیہ شہزادی کیٹ میڈلٹن اپنے بچوں کی تربیت پر مکمل دھیان دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے کچھ اصول بنائے ہوئے ہیں جن کے مطابق ان کے بچے اپنے روز و شب گزارتے ہیں۔ شاہی جوڑے نے اپنے بچوں کے لیے جو اصول بنائے ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
شاہی خاندان کا ہر فرد عام انسانوں کی طرح کام کرتا ہے

شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود کرتے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے بس ایک ملازم موجود ہوتا ہے۔ بچوں کو کھانا کھلانا، نہلانا یا ان کے ساتھ چہل قدمی کرنا شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن مل کر کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کو یہ بھی پتا ہے کہ ان کے والد ایک ہیلی کاپٹر پائلٹ ہیں۔
دوسروں کے کام کی عزت کریں

شہزادے جارج اور شہزادی شارلیٹ کو شروع سے ہی ہر ایک کے کام کی عزت کرنا سکھایا گیا ہے۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ چاہے ان کی والدہ ان کے لیے رات کا کھانا بنا رہی ہوں یا کوئی ملازمہ گھر کی صفائی کر رہی ہو۔ ہر ایک کا کام اہم ہے۔
خاندان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے

شہزادے جارج اور شہزادی شارلیٹ کے لیے ان کے خاندان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ شہزادہ جارج ابھی سے اپنی چھوٹی بہن کا خیال رکھتا ہے۔ ان دونوں کو اپنے خاندان کی مکمل تاریخ بھی پتہ ہے۔
ہر کوئی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے

شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن اپنے بچوں کو اپنے خیالات اور آراء کا اظہار کرنا بھی سکھا رہے ہیں جو کہ شاہی خاندان کی روایات سے ہٹ کر ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اب وقت بدل گیا ہے اور وہ اپنے بچوں کو دوسرے بچوں سے گھلتے ملتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔
تعلیم سب سے پہلے

شہزادہ جارج اور شہزادی شارلیٹ کو کتابیں پڑھنا بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ انہیں نمائیشوں اور عجائب گھروں میں بھی جانے کا شوق ہے۔ شہزادی کیٹ میڈلٹن نے بتایا کہ ان کے بچوں کو لندن میں واقع تاریخ کے عجائب گھر بہت پسند ہے۔
کھیل میں دلچسپی لینا ضروری ہے

شاہی خاندان کے بچوں کے لیے کھیل میں دلچسپی لینا بہت ضروری ہے۔ شہزادہ ولیم فٹ بال، باسکٹ بال اور پولو کھیلنا پسند کرتے ہیں جبکہ شہزادی کیٹ میڈلٹن کو ہاکی کھیلنا پسند ہے۔ شہزادہ جارج اور شہزادی شارلیٹ کو ابھی کوئی خاص سپورٹس پسند نہیں ہے لیکن ان کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ ضرور کسی نہ کسی سپورٹس میں حصہ لیں گے۔
سب کے سامنے تمیز کا مظاہرہ کریں

شاہی خاندان کے بچے جب گھر سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں مکمل طور پر تمیز کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی بچہ بدتمیزی کرے تو اسے گھر پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
گھر آرام کے لیے ہے

شاہی خاندان کے بچے اپنے گھر میں بے فکری سے آرام کر سکتے ہیں۔ شہزادے ولیم کے مطابق ان کے دونوں بچے گھر میں خوب اودھم مچاتے ہیں۔ خاص طور پر شہزادہ جارج جو ہر وقت گھر میں دوڑتے رہتے ہیں۔
بچوں کو جسمانی سزا دینا منع ہے

شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن بچوں کو جسمانی طور پر بچوں کو سزا دینے کے خلاف ہیں۔ کوئی بچہ جتنی مرضی بدتمیزی کر رہا ہو وہ کبھی بھی مار پیٹ تک نہیں جاتے بلکہ دیگر طریقوں سے بچوں کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر شہزادہ جارج کبھی غصے میں آکر چیخنے لگے تو شہزادی کیٹ میڈلٹن اس کا غصہ رفع کرنے کے لیے اونچی آواز میں گنگنانا شروع کر دیتی ہیں۔
کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور موبائل بچوں کے لیے نہیں ہیں

شاہی خاندان کے بچوں کو کمپیوٹر، موبائل یا ٹیبلٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شہزادے ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن کے مطابق یہ چیزیں بڑوں کے استعمال کے لیے ہیں۔ شہزادہ جارج اور شہزادی شارلیٹ اپنا زیادہ تر وقت کھیل کود میں گزارتے ہیں۔
کارٹون دیکھنے کی اجازت ہے

برطانوی خاندان میں بچوں کو کارٹون دیکھنے کی اجازت ہے لیکن صرف مخصوص اوقات میں۔ اُن اوقات میں دونوں بچے اپنے اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھتے ہیں۔
مہنگے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں

شاہی خاندان میں بچوں کے لیے نئے فیشن کے ملبوسات نہیں خریدے جاتے۔ اکثر ہی شہزادے جارج اور شہزادی شارلیٹ کو اپنے والدین کے بچپن کے کپڑوں میں ملبوس دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر نئے لباس کی ضرورت ہو تو شہزادی کیٹ میڈلٹن اپنے بچوں کے لیے کسی درمیانے برینڈ کے کپڑے خریدتی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY