ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنماء فیصل سبزواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار نے شہداء کی یادگار پر جانے کا اعلان کیا تھا لیکن انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اجازت نہیں دی جو بہت افسوسناک ہے، ایم کیو ایم کے شہداء نے قربانیاں سیاست کی ترویج کے لئے دیں لیکن تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم کا ہر شہید دہشت گرد اور ٹارگٹ کلر تھا، ایسا نہیں ہے۔
فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان کیخلاف نہیں ہو سکتیں، ایم کیو ایم نے پانچ نومبر کو انتہائی کامیاب جلسہ کیا، مردم شماری پر باقی تمام جماعتیں خاموش ہیں، ہم عدم تصادم اور عدم تشدد کی پالیسی کو آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنجیدہ کوشش کے تحت پی ایس پی کیساتھ سیاسی اتحاد کی شروعات کے لئے قدم اٹھایا تھا، بدقسمتی سے غیرذمہ دارانہ گفتگو کرکے مصطفیٰ کمال نے موقع ضائع کیا، پی ایس پی سربراہ نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے تمام لوگ ایک ساتھ ہیں، مصطفیٰ کمال کے الزامات کے بعد ناراض دوستوں سمیت سب ایک ہو گئے ہیں، ایم کیو ایم متحد ہے، مصطفیٰ کمال صاحب کہتے ہیں مہاجروں کی سیاست ختم ہونی چاہئے، مصطفیٰ کمال صاحب کا شکریہ ان کیوجہ سے ہم ایک ہو گئے، آپ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی شناخت بھول جائیں مگر یہ نہیں ہو سکتا۔
فیصل سبزواری نے یہ بھی کہا کہ آج مصطفیٰ کمال کی جانب سے ذاتیات پر بات کی گئی، میرے متعلق کہا گیا کہ میں نے صحافیوں کو فون کئے، میرے اور مصطفیٰ کمال کے فون کا فرانزک ٹیسٹ کرا لیا جائے، ان کے 90 فیصد کارکن ہم سے رابطے میں ہیں،
جونہی جبر کا پردہ ہٹے گا سب ہمارے ساتھ آ جائیں گے، انہوں نے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر الزامات لگائے، الیکشن میں پی ایس پی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوں گی۔ فیصل سبزواری نے یہ شعر بھی پڑھا کہ
وہ جتنی خود نمائی کر رہا ہے اپنی جگ ہنسائی کر رہا ہے
تھوڑا سا جوش کیا آیا وہ سمندر کی برائی کر رہا ہے













