لندن میں بقول انکے زیر علاج وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وزیراعظم نے بغیر تنخواہ کے رخصت دے کر سرکاری ذمیداریوں سے سبکدوش کر دیا گیا اس طرح عملی طور پر اب وہ وزیر خزانہ نہیں ہیں
اس سے قبل انہوں نے وزیراعظم کو اس ضمن میں خط ؛لکھا تھا اور اسی خط کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نےوزیر اعظم سے یہ در خواست بیماری کے باعث کی,خط میں انہوں نے چھٹی کے دوران وزیر اعظم سے انہیں سبکدوش کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار لندن میں موجود ہیں اور وہاں کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں،سیاسی مخالفین کی جانب سے اسحاق ڈار سے بطور وزیر خزانہ استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا اور صحت یابی کے بعد پاکستان آنے کا بھی اعلان کیا تاہم اب ان کی جانب سے چھٹی اور سبکدوش ہونے کی در خواست سامنے آئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی جانب سے مستعفی ہونے کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں تاہم ڈمہ داران کی جانب سے ان کے استعفے کی تردید کی گئی تھی ۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں ان پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔تاہم وہ علاج کی غرض سے لندن کے ایک اسپتال میںداخل ہیں۔
اسحاق ڈار کی تین وزارتوں کی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اور چھٹیوں کی منظوری کے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے ہیں۔
اسحاق ڈار کی چھٹیوں کے دوران وزارت کا قلم دان وزیراعظم کے پاس رہے گا ،اس حوالے وفاقی وزیر خزانہ بھی مطلع کردیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق وزارت کے روزمرہ کی ذمہ داریاں نباہنے کے لئے وزیر مملکت یا مشیر خزانہ کی رواں ہفتے کے دوران تعیناتی کو ممکن بنایا جائےگا












