پیمرا کا نیوز چینلز کی نشریات بحال کرنے کا حکم

0
99

وفاقی حکومت نے پیمرا کو تمام نیوز چینلز کی نشریات بحال کرنے کا حکم دیدیا ۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر پیمرا نے تمام کیبل آپریٹرز کو چینلز کو پہلی پوزیشنز پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔
پیمرا اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر تمام نیوز اور کرنٹ افیئرز کے چینلز کو بحال کی ہدایت کی ہے ،اس حوالے سے تمام نجی چینلز کو نئی گائیڈ لائنز بھی جاری کی گئی ہیں ۔
پیمرا نے گزشتہ روز اسلام آباد ھرنا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے کئے گئے آپریشن کی وجہ سے نیوز چینلز کی نشریات بند کرنے کا حکم دیا تھا ۔
پیمرا کی پابندی کی وجہ سے عوام تازہ صورتحال جاننے سے محروم رہے ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر جب کہ ویڈیوز سرچ انجن یوٹیوب بھی تاحال انٹرنیٹ براوزر پر بند ہیں ۔

فیض آباد دھرنے سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں آپریشن کے بعد کی صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پرغور کیا گیا۔

سیکورٹی رینجرز کے حوالے
فیض آبادمیں ایف سی اور پولیس کو اگلی پوزیشن سے ہٹاکر سیکورٹی انتظامات رینجرز کے حوالےکردیئے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رینجرز کی فرنٹ پرتعیناتی کا فیصلہ رات انتظامیہ اور رینجرزکے اجلاس میں کیا گیا تھا، رینجرز کو فرنٹ پر تعینات کرنے کا مقصد جلاؤ گھیراؤ کو روکنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز اہلکار فیض آباد کے اطراف پوزیشن پر تعینات کیے گئےہیں جبکہ ایف سی اور پولیس کو اگلی پوزیشن سے ہٹادیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ملاقات کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں فیض آباد دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت دھرنا والوں سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے بھی غور کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیض آباد دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ متحدہ عرب امارات کا دورہ مختصر کرکے رات ہی وطن واپس پہنچے ہیں۔

راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا جاری ہے۔ ترنول پھاٹک روڈ، آئی جے پی روڈ نزد ڈبل روڈ، اسلام آباد مری روڈ، ایکسپریس ہائی وے اور لاہور جانے کے لیے موٹروے بند مکمل طور پر بند ہے ۔
آج صبح مظاہرین نے آئی ایٹ کے قریب پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے کچنار پارک کے قریب پولیس اہلکاروں کی پانچ موٹرسائیکلوں اور ایک گاڑی کو آگ لگادی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی پولیس اہلکاروں کی ذاتی ملکیت تھی۔ سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی فیض آباد پہنچ گئےہیں، جبکہ مظاہرین فیض آباد پُل پر اب بھی موجود ہیں۔

عسکری حکام کا وزارت داخلہ کو جواب ارسال
دوسری جانب وفاقی حکومت کی طرف سے فوج طلب کرنے کے معاملے پر عسکری حکام نے وزارت داخلہ کو جواب ارسال کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں دھرنے والوں سے فیض آباد خالی کرانے کے لیے آپریشن ہفتے کی دوپہر ڈھائی بجے سے معطل ہے۔
جواب میں عسکری حکام کی جانب سے کہا گیا ہے پاک فوج تفویض کردہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے، سول حکومت کی مدد پاک فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔
فوج کی تعیناتی سے پہلے عسکری حکام کی جانب سے حکومت سے تین نکات پر وضاحت مانگ لی گئی ہے۔

عسکری حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی بھرپور اہلیت سے کام نہیں کیا، پولیس کے ساتھ رینجرز موجود تھی، لیکن رینجرز کو تحریری احکامات کیوں نہیں دئیے گئے؟

عسکری حکام نے یہ بھی کہاکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے روایتی طور پر فوج استعمال نہیں کی جاتی، ہنگامہ حل کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہنگامہ ختم کرنے کی خاطر فوج کی تعیناتی کے لیے ان معاملات کی وضاحت ضروری ہے۔
عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے آپریشن کے لیے آتشیں اسلحہ کے استعمال سے منع کیا ہے۔
قبل ازیں فیض آباد دھرنے کی وجہ سے دارالحکومت اسلام آباد میں قیام امن کے لیے فوج طلب کی گئی تھی، وزارت داخلہ نے فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ فوج کو فوری طور پر تاحکم ثانی تعینات کیا جائے، فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔فوجی جوانوں کی تعداد کا تعین کمانڈر 111 بریگیڈ کریں گے، فوج کی مناسب تعداد سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پورے اسلام آباد میں تعینات کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا، سمری چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

وزارت داخلہ کی بیوروکریسی کی عجلت کی وجہ سے نوٹیفکیشن میں بنیادی خامیاں پائی گئیں، نوٹیفکیشن میں سیریل نمبر 2013 کا درج ہے جبکہ اس میں ای سی او سمٹ کا ذکر بھی موجود ہے۔
گزشتہ روز فیض آباد میں دھرنے والوں کو ہٹانے کے لئے پولیس کی کارروائی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی ،مظاہرین اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر موجود ہیں،جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ،10سے زائد پولیس کی گاڑیاں بھی نذر آتش کردی گئیں۔
مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے گھر پر حملہ کیا ، اندر داخل ہوگئے ،مین گیٹ جلادیا ،گھر سے نکلنے والی بکتر بند گاڑی توڑ پھوڑ دی ،قریبی کثیر المنزلہ عمارت کو بھی آگ لگادی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 68اہلکاروں سمیت 200سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
فیض آباد کے ملحقہ علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت بند کردی گئی جبکہ پیمرا کے حکم کے بعد مختلف شہروں میں نیوز چینلز کی نشریات معطل کردی گئیں۔
دھرنا شروع ہوا تو مظاہرین کےخلاف کئی سمتوں سے پیش قدمی کی گئی، کارروائی میں پولیس اور ایف سی کے 8ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ رینجرز اہلکار بھی پولیس اور ایف سی کی مدد کے لیے موجود ہیں۔آپریشن کی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کی جارہی ہے۔

آنسو گیس سے مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوئے تو پولیس نے بعض کی گرفتاریاں بھی کیں جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے سر پر شدید چوٹ آئی،اہلکار کو آئی ایٹ فور میں شہید کیا گیا۔
فیض آباد دھرنامظاہرین کے پتھراؤ کے باعث مختلف اسپتالوں میں 190سے زیادہ زخمی لائے گئے۔زخمیوں میں ایس ایچ او بنی گالا ذوالفقار اور مجسٹریٹ عبدالہادی بھی شامل ہیں۔
فیض آباد میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے باعث رہائشی اور دفاتر میں کام کرنے والے متاثر ہوئے جبکہ کئی متاثرین اسپتال لائے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY