پاکستان میں گزشتہ ہفتے ‘اے ٹی ایم’ کارڈز کے غیر قانونی استعمال کا ایک اسکینڈل منطر عام پر آنے کے بعد ملک کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ‘ ایف آئی اے’ نے اب تک پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جو اس فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

ایف آئی اے کے ایک عہدیدار عمران سعید نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے افراد میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز بنا کر مختلف لوگوں کے بینک کھاتوں سے رقم چرانے والے گروہ کا سرغنہ ثاقب نامی شخص بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے تین کو جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ دیگر دو افراد سے ایف آئی اے کے پاس ریمانڈ پر ہیں اور ان سے تفیتش جاری ہے۔

عمران سعید نے مزید کہا کہ نے کہا کہ اس اسکینڈل میں ملوث پانچوں افراد کو راولپنڈی شہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

عمران سعید نے کہا کہ انہیں نے یہ کارروائی انٹلی جنس معلومات ملنے کے بعد کی جس میں انہیں معلوم ہوا کہ بعض افراد ‘اے ٹی ایم’کار ڈ بنا کر لوگوں کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوا نے کے کام میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے معلومات سامنے نہیں آئی کہ کتنی رقم چرائی گئی ہے اور نہ ہی ملزموں نے اس بارے میں تاحال ایف آئی اے کو بتایا ہے اس لیے و ہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔

تاہم ایف آئی اے کے عہدیدار نے کہا کہ پاکستان میں گرفتار کیے گئے افراد کے دیگر ملکوں میں بعض افراد سے رابطے ہیں جو ہیکر ہیں اور جعلی اے ٹی ایم کارڈز بنانے کے کام میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اے ٹی ایم کارڈز کے غیر قانونی استعمال کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد یہ صورت حال بعض بینک صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہے جو اے ٹی ایم کارڈز استعمال کرتے ہیں۔

تاہم عمران سعید کا کہنا ہے کہ کہ بینکوں کو بھی اپنے صارفین کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ کن احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے اس صورت حال سے دوچار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بقول بینکوں کو بھی ان واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے ہوں گے

SHARE

LEAVE A REPLY