پشاور میں آرمی پبلک سکول سانحہ کو تین برس بیت گئے۔ کئی مائوں کی گودیں اجاڑ دی گئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی تقریبات میں شہداء پشاور کی یاد میں شمعیں روشن کی جائیں گی جبکہ مختلف سیمینارز اور تقریبات میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہداء کو خراج عقید ت پیش کیا جائے گا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل پاک فوج اور شہداء کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

16 دسمبر 2014 کے طلوع ہوتے سورج کے ساتھ کسی بھی شخص نے نہیں سوچا ہو گا کہ یہ دن جاتے جاتے کتنی بھیانک یادیں چھوڑ کر جائے گا۔ تین سال گزر جانے کے باوجود آرمی پبلک سکول پشاور میں بیتے قیامت کے لمحے آج بھی ذہنوں پر نقش ہیں۔

آرمی پبلک سکول پشاورمیں پڑھنے والے آٹھویں نویں دسویں جماعت کے طالبعلم کلاس رومز کی بجائے سکول کے آڈیٹوریم میں جمع ہوئے، جہاں سانسوں کی ڈور کو رواں رکھنے کے لیے بچوں کو طبی امداد کی تربیت دی جا رہی تھی۔ مسیحائی کی تربیت حاصل کرنے کی خوشی میں مگن ان بچوں کے گمان میں نہ تھا کہ یہاں کچھ دیر میں موت کا بھیانک رقص ہوگا جو ہر دل دہلا دے گا۔۔

دشمن ننھی کلیوں کو مسلنے عقبی راستے سے آئے۔ سفاک درندوں نے امامیہ کالونی کا راستہ استعمال کیا۔ سکول کی دیوار کے ساتھ سیڑھی لگائی اور اندر داخل ہوئے۔ حملہ دس بجے کے قریب ہوا، وحشیوں کو جہاں بھی معصوم فرشتے نظرآئے انہیں خون میں نہلا دیا۔ دہشتگردوں کی تعداد 7 تھی جنہیں پاک فوج کے جوانوں نے مار گرایا۔ بے قرار والدین جب سکول پہنچے تو ہر طرف ماتم ہی ماتم تھا، سکول دیواریں لہو رنگ تھیں۔

بچوں کو نور علم سے آراستہ کرنے والے سکول کی پرنسپل، اساتذہ اور دیگر عملہ بھی اپنے ہاتھوں سے سینچے گئے ان ننھے پودوں کو بچاتے بچاتے دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس کرب ناک دن کے اختتام پر شہر پشاور کی ہر گلی سے جنازہ اٹھا۔ 144 شہادتوں نے پھولوں کے شہر کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے والدین کو اپنے پیاروں کا غم آج بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY