گدھے پر کتابیں لَدِی ہوئی ہیں ۔ عالم آرا

0
127

آج اُس دن کی یاد ہے جس دن میرے ملک کے نونہالوں کو تعلیم حاصل کرتے ہوئے سفاک بے ضمیر وں نے ایک اسکول میں بے دردی اور انسانیت کے تمام رشتے ناطے توڑ کر گولیوں سے بھون دیا تھا ۔اُس میں آٹھ سے اٹھارہ سال تک کے بچے اور اُن کے اساتزہ شامل تھے ۔انہوں نے میرے ملک کی آنے والی نسل کو سر اُٹھانے سے پہلے ہی روند ڈالا تھا ۔شاید یہ سوچ کر کہ یہ نسل بڑھی تو اس میں ڈاکٹر بھی ہونگے انجینئیر بھی اور فوجی بھی ۔لیکن شاید یہ نہ جانتے تھے کہ جن بہادروں کو شھید کیا تھا اُن کی عظمت سے اور اُنکی پیروی میں ایسے ہی لاکھوں کروڑوں بچے اتنی جرائت اور ہمت سے سامنے آئینگے کہ پھر بستے سنبھالے اُسی اسکول میں جاتے ہوئے اُن تمام دھشت گردوں کا منہ چڑا رہے ہونگے کہ تم نے کیا سمجھا تھا ۔کیسے طاقتور تھے کہ پاکستانی بچوں سے ڈر گئے ؟؟ وہ بچے جن کا عظم حوصلہ اور جرائت دیکھ کر بڑےبھی ششدر رہ گئے ۔یہ قوم نہ ڈرنے والی ہے نہ جھکنے والی ۔آج کا دن بس یہ ہی پیغام دیتا ہے ۔ اُن ماؤں۔باپوں ، بہن بھائیوں کو سلام جنہوں نے اپنے ھیرے گنوائے لیکن دھشت گردی کے آگے پسپا نہیں ہوئے اور نہ ہی کبھی ہونگے انشاء اللہ کہ وہ معصوم فرشتے جو دنیا سے چلے گئے ہمیں ضرور دیکھتے ہونگے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ کاش ہم دھشت گردی سے نجات پاسکیں ۔وہ دھشت گردی جس کا الزام بھی ہم پر ہے اور سب سے زیادہ اس کا شکار بھی ہم ہی ہیں کہ ہمارے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ۔مگر بس اب نہیں اور شاید اب کسی بھی قسم کی دھشت گردی نا قابلِ برداشت اور نا قابلِ معافی ہوگی ۔ہم اُن تمام گھرانوں کے ساتھ ہیں جو آج اپنے چہیتوں کو یاد کر رہے ہیں ۔مگر اس فخر کے ساتھ کہ ہم بُزدل نہیں ہیں طاقتور ہیں دشمن کے آگے سینہ سَپَر ہیں ۔
آج کا دن ایک اور اندوھناک واقعہ بھی یاد دلاتا ہے جس میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے ایسا کھیل کھیلا کہ ایک بازو اس آسانی سے ہم سے جُدا ہوگیا کہ ہم دیکھتے رہ گئے ۔لیکن عقدہ آج تک حل نہ ہوا کہ کس طرح اتنی بڑی سازش کامیاب ہوئی اور کن کن زرائع سے ہم لوٹے گئے ۔یہ سب کچھ جب ہی کھلے گا جب ایماندار اور طاقتور سوچ والے آگے آئینگے ۔
آج ایک اہم دن یوں بھی تھا کہ ایک پارٹی لیڈر کو کلین چِٹ ملی جو شاید سب کو ہی نظر آرہی تھی اور دوسرے کو کچھ گراؤنڈز پر کمزور پایا گیا ۔جب کہ کرپشن کا الزام اُن پر بھی نہیں تھا
لیکن عدل کا تقاضہ پورا کیا گیا جو ایک احسَن بات ہے ۔لیکن جو کچھ ہم نے حکومتی ارکان سے سُنا اُس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ہماری تعلیم واقعئی بس اس حد تک ہے کہ جیسے گدھے پر کتابیں رکھی ہوں ۔ہمیں افسوس ہوتا ہے اُن تعلیم یافتہ عقلمندوں پر جنہیں تجزیہ نگار کہا جاتا ہے وہ ہر موقعے پر پرانےبخئے اُدھیڑنا فرض ہی نہیں لازم جانتے ہیں اور اُنکی سوچ کھل کر سامنے آتی ہے ۔عدلیہ کے پرانے فیصلے سامنے لائے جاتے ہیں لیکن ہم یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا تبدیلی ممکن نہیں ہے ؟ ضرور ہے آج آپ کو بھائی جان کی بات ماننے والے ججز نظر نہیں آرہے تو کیا یہ ہماری خوش قسمتی نہیں ہے کہ ہم ایک قدم آگے بڑھے ہیں ،ہم کوشش کر رہے ہیں کہ انصاف ہو چاہے قیمت کوئی بھی ادا کرے ۔
یہ ہی زندہ قوموں کا وطیرہ ہوتا ہے اور یہ ہی حکومتی ارکان کے پلے نہیں پڑ رہا کہ کیا ہوا ہے جو اُن کی بات نہیں چل رہی ۔کہاں ایک فون پر عدل ڈھیر ہو جاتا تھا کہاں روز بری بری باتیں سُن کر بھی صبر اور تحمل کی مثال قائم کی جارہی ہے ۔ہم اپنی عدلیہ کے لئے دعا کرتے ہیں کہ وہ کمزور نہ پڑے ۔
ترین صاحب نے استعفیٰ دے دیا بہت خوش آئند بات ہے کاش سب ہی ایسی باتوں پر عمل کریں اور اپنی شخصیت کو اُجا گر کریں عہدے ہی ضروری نہیں کام کرنے والے ہر طرح کام کرتے ہیں ۔اگر ملک سے محبت ہے تو کرسی نہیں خلوص چاہئے ۔کچھ لوگوں نے اب بھی تنقید برائے تنقید کا راستہ اپنایا ہوا ہے ۔سارے وزیر کوئی کام نہیں کر رہے بس یا تو عمران خان کے لتے لے رہے ہیں یا میاں صاحب کے گُن گا رہے ہیں ہماری سمجھ سے باہر کہ یہ کیسے وطن کے ہمدرد ہیں جن کی کسی بات میں وطن نظر آتا ہی نہیں بس شھباز ہے اور نواز ۔۔۔۔
سارے مزہبی ہمدردوں نے پھر ایک ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہتے ہیں ہم سب مل کر پارٹی بنائینگے اور الیکشن میں جائینگے ۔اس میں ہر قسم کا سورما شامل ہے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سب بھی اپنی اپنی جائیدادیں اور املاک ظاہر کرینگے ۔بتائینگے کہ ہر حکومت میں کتنے کتنے فائدے اُٹھائے اور لوگوں کے مسائل کتنے حل کئے ۔کیا ان سب کا بھی احتساب لازم نہیں ہے ۔
ہماری سوچ ہے کہ کوئی بھی عدل اور انصاف اور ایمانداری کی پرکھ سے بالا تر نہیں ہونا چاہئے ۔سب کو اس کسوٹی پر پورا اُترنا چاہئے ۔ہمیں مزہبی جماعتوں کا سیاست میں آنا بالکل اچھا نہیں لگتا کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ سیاست میں اکثر ایسے مقام بھی آتے ہیں جہاں آپ کو جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔کیونکہ ہمارے ملک میں ابھی سیاست کا وہ معیار نہیں بنا جہاں سچائی اور ایمانداری کو وطیرہ سمجھا جائے ۔انہیں تو چاہئے کہ پہلے اپنے ملک کے لوگوں کو تعلیم دیں اُن کو راہَ راست پر لائیں جنہوں نے کتابیں گدھے پر لاد رکھی ہیں ،تاکہ ہمارے کردار بن سکیں ۔انہیں چاہئے کہ اُن باتوں پر آواز اُٹھائیں جو نئی نسل کی تباہی اور بربادی کی زمے دار ہیں ۔آج تک ان لوگوں نے نہ صاف پانی کے لئے آواز اُٹھائی نہ تعلیم کے فرسودہ نظام پر بات کی ،نہ اسپتالوں کے لئے آواز بلند کی نہ زمینوں کے قبضوں کی طرف توجہ دی ۔جو کوئی جو کچھ کرتا رہا ان جماعتوں کے منہ سے کبھی بھاپ بھی نہ نکلی ۔تو اب ہم ان سے کیا اُمید رکھیں ۔کشمیر پر کتنا کام ہوا آج تک مولانا سے کسی نے نہ پوچھا اور نہ ہی کسی کو نظر آیا ؟؟؟
تعلیم بہت ضروری ہے وہ تعلیم جو شعور دے ، کرادار بنائے، تہزیب سکھائے اور انسان بنائے ۔ ایسے نشان چھوڑئے جن پر چلنا آنے والی نسل فخر سمجھے ۔
اللہ میرے ملک میں انصاف کا بول بالا کرے ۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY