جو اُمت عبادت میں منافقت کرے وہ۔۔۔۔۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم

2
1406

میں بھلا اور کتنا خاموش رہ سکتی تھی ۔۔ مجھے بولنا ہی پڑا ۔۔ اور میں نا صرف بول رہی ہوں بلکہ مسکرا رہی ہوں ۔۔ دو ہزار سولہ کا سال مجھے لمبی جدائیاں دے گیا ہے ۔ میری ماں مماثل آنٹی زرینہ اسلم جی کو کینسر سے لڑنے میں بڑی مہارت تھی ۔ کئی برسوں سے اپنے محاز پر اکیلی ہی ڈٹی رہیں ۔ پھر پچھلے برس کے آخر میں کچھ تھک سی گئی تھیں ۔ اور اس سال کے آغاز میں انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور جنوری میں خدا سے بھی ان کی تکلیف دیکھی نہ گئی اور ان کی ہر مشکل کو آسان کر دیا ۔۔ صحیح معنوں میں وہ ایک خاموش درسگاہ تھیں ۔۔ جاتے جاتے بھی RIP ” کے مطلب سمجھا گئیں ۔

سب بہل جاتے ہیں ۔۔ وقت اپنی بند مٹھی میں جانے کونسا جادو رکھتا ہے کہ جیسے جیسے گزرتا جاتا ہے ویسے ویسے منظر دھندلانے لگتے ہیں ۔۔ باقی صرف وہ رہ جاتا ہے جو ہم نے ان سے سیکھا ہوتا ہے ۔ پھر اس سال کے آخری ماہ کی سات تاریخ کو ماموں جی محمد خالد مسعود چترال اپنے کام پر تھے واپس آتے ہوئے ان کا طیارہ پی کے 166 حویلیاں کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا اور وہ عدم کے مسافر ہوئے

ماموں جی کا جانا جیسے محبت ، روا داری اور وفاداری کا اٹھ جانا ہے اور ہم سب جب بات کرتے ہیں تو یہیں سے بات شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی ہے ” یقین نہیں آرہا ایسا کیسے بھلا ” ۔۔ ماموں جی اپنی بہنوں کے لاڈلے اکلوتے بھائی تھے ۔۔ کچھ بہنیں خؤش ہو گئیں بھائی سے ملاقات ہو گئی اور پیچھے رہ جانے والی رو رہی ہیں ہائے بھائی کہاں سے لائیں گے ۔۔ ماموں جی کی اچانک چلے جانے نے ایک عجیب سی بات سمجھائی ہے کہ کام تھوڑے اور اہم کرنے چاہیئے اور ساتھ ساتھ اپنے رستوں کو جاتے وقت جو گند پھینکا تھا اسے ساتھ ساتھ صاف بھی کرتے چلیں ۔۔۔۔ جب جانے کالمحہ آجاتا ہے تب ایک سانس کی مہلت بھی نہیں ملتی ” ۔۔۔ اس افسوس کو بھی گزر ہی جانا ہے ۔۔ وقت جادوئی جو ہوتا ہے ۔۔

طیارے کے حادثے میں 47 گھروں میں صف ماتم بچھی تھی لیکن دنیا کو صرف انسان کا ہی پتہ چل سکا اور وہ تھے ” معروف مذہبی اسکالر اور عاشق رسول ” کیونکہ اس کا اعلان اے ار آر وائی مسلسل ایک ہفتے تک کرتا رہا ۔۔ کل جنید جمشید کی تدفین کے ساتھ ہی اے آر وائی کی گردان کو لگام لگی اور لوگ اس قابل ہوئے کہ کوئی اور خبر بھی دیکھتا ۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ ” عاشق رسول ” کا صیغہ لگانے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی ۔ یعنی کوئی معروف مذہبی اسکالر ” عاشق علی ” بھی ہو گا اور کوئی معروف مذہبی اسکالر ” عاشق حسین ” بھی ہو گا اور کوئی مذہبی اسکالر ” عاشق صحابہ ” بھی ہو گا ۔ پھر انہیں سرکاری اعزازات کے ساتھ دفنانے کی بات سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے آخر اسٹیٹ کے لیئے ایسا کیا کام کر لیا تھا جس کا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا اور صرف حکومت کو علم تھا ، اس لیئے انہوں نے باقی 46 لوگوں کو پوچھا تک نہیں ۔

اس بات کو صرف میرا گلہ سمجھ کر برداشت کیجئے گا کہ اے آر وائی کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ اس حادثے میں صرف ایک جنید جمشید ہی شہید ہوئے تھے اور باقی کے 46 لوگ ہلاک ہوئے تھے ۔ پاکستان کی اسی اقربا پروری نے دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے ۔۔۔۔ کسی کا کوئی بھی جب اس طرح بچھڑے تو وہ چاہے بچہ ہو کہ نوجوان یا بڑی عمر کا فرد ماتم ایک ہی جیسا بپا ہوتا ہے ۔ پر وقت بڑا ظالم مزاج ہے وہ ایسے واقعات اور شہید چہروں پر جادوئی دھول ملتا ہوا گزر جاتا ہے ۔۔چاہے مولانا طارق جمیل کسی کو جنت کی بشارت کا خواب سنا دیں ۔۔ ویسے جو انہوں نے کل کا بیان دیا تھا اسے سن کر ایسے لگ رہا تھا جیسے نعوز باللہ اللہ پاک نے ان سے جیسے مشاورت کی ہو ۔ منظر ایسے سناتے ہیں جیسے دیکھے ہوں ۔۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جب خدا نے سب کو موت دے دی تو وہ کیوں پوچھے گا کہ ” اب بتاؤ بادشاہ کون ” ؟ کئی جگہ پر میں ان کی تمثیل منظر نگاری پر مسکرا دی ۔۔

اب جنید جمشید کی تدفین کے بعد اے آر وائی کو جب کچھ سمجھ نا آیا کہ اب کیا کریں تو ایسی خبریں دینے لگے کہیں بجلی چلی گئی تو کہیں آ گئی ۔۔۔۔۔ مولانا طارق جمیل بھی جینید جمشید کو جنت رخصت کر کے تھکے ہارے مجمع کے ساتھ رخصت ہو گئے ۔ ہم نے بھی اپنے ماموں جی کو سپرد خاک کر دیا ہوا تھا ۔۔کوئی کام جیسے بچا ہی نا تھا ۔۔ خدایا ہم بھی کیا کریں ۔۔ فیس بک کی گردانی بھی گراں بار ہوئی جاتی تھی پر خاموش وقت کا اپنا آہنگ ہوتا ہے ۔۔ وٹس اپ پر ٹن کے ساتھ ایک وڈیو فلیش ہوئی ۔ میں نے بےزاری سے پہلا سین دیکھا پر پہلے ہی پل نے چونکا کر بٹھا دیا ۔۔ ہوش و حواس میں دیکھا تو دیوالی کے موقع پر کراچی کے ایک مندر میں ” بلاول بھٹو” عرف ” بلو رانی ” اپنی ٹیم ” وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پارٹی رکن شیری رحمان ” بگھوان شیو کے قدموں میں بیٹھے ہوئے تھے ۔

بلاول بھٹو اور سید مراد علی شاہ نے ہندو پجاری کے ساتھ مل کر بگھوان شیو کی آرتی اتاری اور پھر ہنستے مسکراتے ان پر دودھ بھی وارا ۔ پھر اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم سب مل کر ایک بڑی جگہ پر دیوالی مناتے ۔۔۔۔ سب نے تالیاں بجائیں اور بلاول سمیت سب گھر کو گئے اور میں رات بھر سوچتی رہی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اقلیت میں شمارکیا جاتا ہے ۔۔۔رو رو کر کوئی حق دیتا ہے ۔ باہر کے ملکوں میں رہنے پاکستانیوں کو آسانی سے ویزہ نہیں دیتا ۔۔۔۔ آئے دن پاکستان کی سرحدوں سے جارحیت کی جاتی ہے ۔۔۔ اسی ملک خداداد میں کئی فوجی جوان ، جان سے چلے گئے ۔۔۔۔ میں اقلیتوں کے حقوق اور ان کی سکھ سلامتی کی ضمانت دینا ہر حکومت کی زمیداری سمجھتی ہوں ۔۔۔ لیکن ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ان جیسی عبادت کرنا نا صرف اسلام کے ساتھ منافقت ہے بلکہ ان کے بگھوان کے ساتھ بھی منافقت ہے ۔۔کسی بھی اقلیت کو مذہبی آزادی ہونی چاہیئے لیکن ریاست کے دین کی پاسداری ان کا اولین فریضہ ہے ۔۔ ہائے آج مجھے پتہ چلا کہ زاتی مفاد کی خاطر دین بھی پس پشت چلا جاتا ہے ۔۔۔

مجھے سولہ دسمبر کا دن 2014 سے گزارنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔ آنکھوں میں سانحہ پشاور کے 126 بچے میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں ۔۔ چیخیں مارتے سڑکوں پر ننگے پیر دوڑتے والدین ۔۔ آرمی اسکول کے آڈیٹوریم کے فرش پر جا بجا پڑا سرخ خون اور خاموش بچے ۔۔ ہائے ان کی خاموشی پر روتے سسکتے بچے ۔۔ آج دھیان اس دکھ سے ہٹا ہی نہیں اور ہر بار یوں لگا جیسے اس سرخ تازہ بے گناہ لہو میں کسی نے تازہ دودھ ملا کر اسے میلا کر دیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

2 COMMENTS

  1. You are perfectly right. This country is full of munafiqeen and matlab parast. No one have any social or religious values.
    Everyone is selfish and dishonest. People do anything to gain some sort of cheap popularity. People should have the guts to say kutta to kutta and gudha to gudha. Sweet to sweet and sour to sour. In short i want to say that we should be honest to ourselves.
    When we say what we see honestly and truthfully then we are human otherwise we are ulu ke pathe hain.

LEAVE A REPLY