(پولیٹیکل ڈیسک) آج کل پی ٹِی آئی کاانتخابی نشان ۔بلّے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوع ِ گفتگو بنا ہوا ہے۔اور وہی صورت حال نظر آرہی ہے جو کئی دہائیوں پہلے پیپلزپارٹی کا انتخابی نشان ذوالفقار واپس لے لیا گیا تھا اور پیپلزپارٹی نے اپنا انتخابی نشان ذوالفقار سے بدل کر ” تیر” رکھ لیا تھا۔اس کے باوجود اس عوامی سیاسی پارٹی کی مقبولیت کم نہیں ہوئی تھی۔
بَلّے ۔ فخرادب سید فخرالدین بلے کاتخلّص بھی ہے اور ان کی پہچان بھی ۔نامور صحافی محمود شام نے حال ہی میں ایک مضمون لکھا تھا۔ سید فخرالدین بلے ۔ بَلّے بھئی بَلے۔یہ مضمون ادبی حلقوں میں بڑا پسند کیا گیا۔ ان کے نام کی مناسبت سے بہت سے لکھاریوں نے جو مقالات لکھے ،ان میں بلے بلے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اب سے غالباً چالیس سال پہلے سید فخرالدین بلے کےاعزاز میں ملتان سے سرگودھا تبادلے کے موقع پرنامور شاعر، ادیب ، صحافی اور اسکالر صبوحی دہلوی نے بزم ِ حسان کے زیراہتمام ایک الوداعی شام کا اہتمام کیا تھا، جس میں ڈاکٹر زاہد علی واسطی نے بڑا شان دار مضمون پڑھا تھا، اس کاعنوان تھا۔عشق ِ محمد {صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم} بلےبلے۔اور اس میں انہوں نے ایک نعتیہ شعر کا حوالہ بھی دیا تھا،شعر یہ تھا۔
شوق کا عالم اللہ اللہ ، عشق ِ محمد بَلّے بَلّے
نور ِ نبی ہے وجہ ِ دوعالم ، صلی اللہ علیہ وسلم
کل تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی بلے کا انتخابی نشان اتنا مقبول ہوسکتا ہے کہ سیاسی مخالفین اسے بدلنے کے لئے کوشاں ہوں گے یا یہ انتخابی نشان پی ٹی آئی سے واپس لئے جانے پر سُکھ کا سانس لیں گے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضروریات بدلتی ہیں ۔اور بدل رہی ہیں ۔انتخابی نشان تو واپس ہوگیا لیکن کبھی بدل بھی سکتا ہے۔انتخابی نشان چاہے بدل بھی جائے لیکن سید فخرالدین بلے کی پہچان ہے ۔بلّے۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی موسم آجائے لیکن سید فخرالدین بلے کی پہچان ہلے ۔بَلّے ۔ وہ یقنیناً کبھی تبدیل نہیں ہوسکے گی۔یہ اعلان بھی سید فخرالدین بلے نے اپنے ایک شعر میں کردیا ہے، یہ شعر ایک ایسا آئِینہ ہے ، جس میں سید فخرالدین بلےہمیں جیتے جاگتے، سوچتے اور سانس لیتے نظر آتے ہیں ۔شعر یہ ہے۔
تلاشِ رزق ہو یا جستجوئے معرفت بَّلے
ہماری زندگی شعرو ادب یوں بھی ہے اور یوں بھی













