داغے گئے میزائل کا نشانہ شاہ سلمان تھے، حوثیوں کا دعویٰ

0
101

سعودی عرب نے یمن سے ریاض پر کیے گئے حوثی باغیوں کے میزائل حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کا نشانہ شاہ سلمان کی رہائش گاہ تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو گرا دیا تھا جبکہ حوثیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے شاہ سلمان کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے ایران پر باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور ریاض نے حالیہ میزائل کو بھی ایرانی حوثیوں کے طور پر بیان کیا ہے۔

ریاض میں گزشتہ روز 10 بج کر 50 منٹ پر اس وقت زور دار دھماکا سنا گیا، جب سعودی بجٹ کے پیش کیا جانے والا تھا، جس کا اعلان عام طور پر سعودی فرماں روا کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ یمامہ محل میں کیا جاتا ہے۔

گزشتہ روز ہونے والے حملے کے حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ریاض میں دھماکے کی آواز سنی اور دھویں کے بادل دیکھے۔

ریاض میں کام کرنے والے غیر ملکی باشندوں میں سے ایک تھومس کمپیکان نے کہا کہ میں دفتر میں تھا جب میں نے دھماکا سنا اور اس کے کچھ 30 سے 45 سیکنڈ کے بعد اگلی آواز سنی اور ہم نے سفید دھواں دیکھا۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے حوثی باغیوں کے خلاف بنائے گئے سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المکیلی کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ میزائل کا مقصد ریاض کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا تھا اور خدا کا شکر ہے کہ ہم نے اسے ریاض کے جنوبی حصے میں تباہ کیا گیا اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی ملیشیا سمیت دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائل کا استعمال خطے اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ حوثی باغیوں کی جانب سے دو ماہ میں ریاض پر دوسرا میزائل حملہ تھا۔

دوسری جانب باغیوں کے سرکاری خبر رساں اداے المثیراہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ میزائل فورس نے ریاض کے یمامہ محل کے خلاف برکن( والکانو) ایچ 2 میزائل کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ حوثیوں کی جانب سے 4 نومبر کو پہلے حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حوثی باغیوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی متحدہ عرب امارات میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، سرحدی علاقوں اور کسی بھی خاص مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY