کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ ساتویں قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟
تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی
مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور
گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ادارے کے بنیادی شعبے یعنی پروگرام کی حالت اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔ جان بوجھ کر اس شعبے کو عضو معطل بنا کررکھ دیا گیا ہے۔ کبھی ایک نام اور کبھی نئے منصوبوں کی آڑ میں پیسے دستیاب ہیں لیکن پروگراموں میں کام کرنے والے بھیک کے مترادف ہیں۔ ریڈیو پاکستان میں جو بابو بھی نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ دوستوں اور مفاداتی بزرجمہروں کا ایک لشکر بھی اس ادارے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔
یہیں سے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریڈیوپاکستان مفاداتی گروہوں کی زد میں۔ ایک دفعہ نیشنل جیوگرافک چینل نے قریب المرگ شیر کے آخری لمحات کی فلم دکھا کر دیکھنے والوں پر سکتہ طاری کردیا تھا، گدھ غول درغول منڈلا رہے ہیں اور آس پاس بیٹھے جانور اس انتظار میں تھےکہ جیسے ہی شیرکی جان نکلے تو وہ اس پر پل پڑیں۔
کیا ریڈیوپاکستان کو بھی یہی سمجھ لیا گیا ہے؟
مختلف کوتاہ اندیش مفاداتی گروہ ترقی اور تبدیلی کی آڑ میں ایک قومی ادارے کو مکمل تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ پاکستان کی آواز کا سقوط چار سو سناٹا طاری کردے گا۔ اس محاذ پر مورچہ چھوڑنے کا مطلب وطن عزیز سے غداری اور اسے بنانے والوں سے بے وفائی کے مترادف ہوگا۔ ریڈیو پاکستان کو تباہ کرنے کی تازہ کارروائی تبدیلی اور ترقی کے نام پر ہورہی ہے، ادارے کے حاضر اور سابقہ ملازمین تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر سخت اذیت سے دوچار ہیں جبکہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور ان کے مشیر آئے روز کسی نہ کسی نئے منصوبے کی آڑ میں کروڑوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں۔

ریڈیوپاکستان کے حالات سے آگاہ ذرائع کے مطابق چند افراد کاٹولہ ڈائریکٹر جنرل کو روزانہ ساتویں آسمان پر بٹھا کر اپنا الو سیدھا کرنے میں مگن ہے۔ آجکل “چار کا ٹولہ” ڈی جی پر مکمل حاوی ہے اور دن رات اپنے علاوہ باقی سب کو نکما اور فالتو ثابت کرنے کےلیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ طریقہ واردات وہی پرانا ہے کہ فلاں پروگرام اور چینل بند کردو اور نیا پراجیکٹ شروع کرنے کے لیئے پیسے دو۔
اس چار کے ٹولے میں شامل ایک فنکار غلام مجدد نام کا ملازم بھی شامل ہے جو عرصہ دراز سے ریڈیوپاکستان کے ھیڈ کوارٹر میں موجود ہے اور ہر آنے والے ڈائریکٹر جنرل کو گھیرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ آجکل اس گروپ میں شعبہ انجئینرنگ کے خان زیب، یاسر شلانا اور نعمان جرال بھی شامل ہوچکے ہیں جو نئے پراجیکٹس کی آڑ میں ترقیاں اور دوسرے فوائد سمیٹ رہے ہیں۔

اس گروہ میں شعبہء خبر اور پروگرام کے کچھ جزوقتی قوال بھی اپنا اپنا راگ آلاپنے کے لیئے دن اور رات کے مختلف اوقات میں حاضری لگواتےرہتے ہیں۔
ریڈیوپاکستان آجکل شدید ترین مالی بدانتظامی کا شکار ہے لیکن ڈی جی کے دفتر میں روزانہ نئے منصوبوں کے من و سلوی سے شکم سیری کی جارہی ہے۔ پرانے اور آزمودہ طریقہ واردات کے تحت ادارے کی مالی مشکلات کا واویلا کرتےہوئے اس کی زمینیں اور دوسرے قیمتی اثاثے بیچنے کی تجاویز بھی سامنے لائی جاتی ہیں جو کی اصل ہدف ہے۔
اس ضمن میں قومی اثاثوں کی تازہ ترین فروخت راولپنڈی کا ریڈیو اسٹیشن اور ریڈیو اکیڈمی ہے جس پر گزشتہ چند سال سے ہر وزیر اور اطلاعات کی وزارت کی رال ٹپکتی ہے اور وہ ان کو بیچنے کے لیئے اپنے اعلی افسران کو قسم قسم کے فائدے بتاتا ہے، یہ سب اثاثے وہ ہیں جنکو قومی ورثہ قرار دیکر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے جسے بیرونی مہذب ممالک میں لسٹڈ بلڈنگز کہا جاتا ہے

ریڈیو کی زمینیں بیچنے کا سلسلہ کہاں کہاں نہیں۔ ریڈیو کے جس پر جہاں انگلی رکھیں ایک زخم ہے
اب ادارے کی صورتحال بہتر بنانے کے لیئے جو تجاویز مرتب کی گئی ہیں ان کا لب لباب بھی سودا کاری کے سوا کچھ نہیں۔ اس سارے عمل میں اندرونی سہولت کاروں کی خدمات اور کندھےبھی پیش کیئے جا چکے ہیں۔
ان تجاویز کی آکاس بیل ریڈیوپاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن کے ذاتی اور خاندانی کاروبار سے لپٹی نظر آتی ہے۔ یہ کاروبار مرکزی طور پر لاہور میں ہی ہے جسے طاہر حسن کے بھائی ڈاکٹر طارق زیادہ تر دیکھتے ہیں اور اسکا آئی ٹی کا سب کام ان دنوں عہد حاضر کے مجدد کے ذریعے اسلام آباد کے صدر دفتر میں ہی ہوتا ہے اور اس کاروبار میں سینٹ کے رکن فدا محمد بھی شامل ہیں جنکا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کو وزیراعظم کے ساتھ بیرونی دوروں سے ہی فرصت نہیں اور معلوم ہی نہیں کہ انکی ناک کے نیچے پی ٹی آئی کے لوگ کیسے وزارت کے لوگوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں
اسی کاروبار کی وجہ سے ابھی ایک نامکمل منصوبہ بھی ہے کہ لاہور میں ڈی جی کا ایک دفتر بنایا جا رہا ہے جسکی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے نئے کمرے کی تعمیر، تبدیل شدہ سات آٹھ کمروں میں سے ایک یا لاہور ایس ڈی کے کمرے کو ڈی جی کا کمرہ قرار دینا۔
تبدیلیوں کی زد میں لاہور ریڈیو کا نورجہاں آڈیٹوریم بھی ہے جسے نوے فیصد ختم کر کے پوڈکاسٹ نشریات کے لیئے مختص کیا گیا ہے۔ نورجہاں کے نام اور مقام سے ناواقف شخص ہی یہ کام کر سکتا ہے، مزید تفصیل اور تحقیق جاری ہے کہ یہ پوڈکاسٹ کا مکمل شاخسانہ کیاہے۔ ایک زمانہ تھا جب ریڈیو پاکستان کا لسنرز ریسرچ سیل تھا جسے بند کر دیا گیا اور اب کوئی ایسا پیمانہ نہیں کہ ریڈیو کی نشریات مجموعی طور پر اور علاقائی طور پر کتنی سنی جاتی ہیں

اسی طرح مردہ ٹرانسمیٹروں کی وجہ سے لاہور ریڈیو کی نشریات کا دائرہ حد سے زیادہ محدود ہو چکا ہے۔ کیا کوئی سروے ہوا ہے کہ پوڈکاسٹ کتنے فیصد آبادی سنتی ہے اور اسی طرح کثیر سرمائے سے بننے والا انگلش چینل کتنا سنا جاتا ہے
موجودہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی حکومت اور مملکت کے اداروں کو فی الفور ریڈیوپاکستان کو تباہ کرنے پر تلے عناصر پر گرفت کرنی پڑے گی۔ ریڈیوپاکستان دراصل آوازپاکستان ہے اور اس ادارے کے گلے کو دبوچے مفاداتی گروہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔
آج کی تحریر یہی ختم اگلی آٹھویں قسط میں بات کو آگے بڑھائیں گے














کاش ناقص العقل اور ریڈیو کمیونیکیشن سے نابلد بابو اور اندرونی سہولت کار ریڈیو کی بین الاقوامی مسلمہ اہمیت کو سمجھ پائیں۔