اسرائیلی پارلیمان نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کی رُو سے مستقبل میں یروشلم شہر کی کسی بھی طرح کی تقسیم کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پرمنگل کے روز بتایا گیا ہے کہ آئندہ شہر کے کسی بھی حصے سے دستبردار ہونے کے لیے اسرائیلی پارلیمان کی دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔

اس سے قبل اس حوالے سے محض سادہ اکثریت درکار ہوا کرتی تھی۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قریب ایک ماہ قبل دیے گئے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اُنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY