اُسکی خواہش تھی سو فرخندہ میں قائل ہو گئی

0
138

عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا
بعد مدت کے کھلا مجھ پہ کہ وہ میرا نہ تھا

یوں جلائے زندگی بھر میں نے یادوں کے چراغ
سامنے جن کے چراغِ دیگراں جلتا نہ تھا

کل میں اُسکی گفتگو سُنتی رہی سُنتی رہی
اس محبت سے وہ پہلے تو کبھی بولا نہ تھا

کچھ تو اندازہ تھا مجھکو اسکی آنکھوں کا مگر
دل کی حالت کا یہ اس نے باب یوں کھولا نہ تھا

سوچتی ہوں کیوں میں جیسے گُنگ ہو کر رہ گئی
اس طرح سینے میں دل پہلے کبھی دھڑکا نہ تھا

اعتراف عشق نے نمناک کی آنکھیں مری
آنکھ میں کاجل قسم ہے اس طرح پھیلا نہ تھا

اُسکی خواہش تھی سو فرخندہ میں قائل ہو گئی
وہ پیام عشق بھیجے گا کبھی سوچا نہ تھا

فرخندہ رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY