ننھی زینب کی دوبارہ نماز جنازہ ادا، سپرد خاک کر دیا گیا

0
162

ننھی زینب کے والدین جو عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے آج بعد دوپہر جدہ سے اسلام آباد پہنچے تھے۔ ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے زینب کے والد نے کہا تھا کہ کہ ہمارے ساتھ پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا، ملک میں عام انسان کیڑوں، مکوڑوں کی طرح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملزمان کی گرفتاری تک بچی کو نہیں دفنائیں گے۔ زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف دلوانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ بچی سپارہ پڑھنے کے لئے گئی تھی کہ اسے اغواء کر لیا گیا لیکن چار روز تک پولیس نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا اور بچی کو ڈھونڈنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

بعد ازاں لاہور پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے زینب کے والد امین انصاری نے کہا کہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، پولیس نے ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ بچی کی بازیابی کیلئے کوئی تعاون نہیں کیا، ہمیں صرف انصاف چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کارروائی کرتی تو ملزم پکڑے جاتے، جب تک ملزم گرفتار نہ ہوا زینب کی تدفین نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، ملزمان کو 24 گھنٹے میں پکڑ کر جیل میں ڈالا جائے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے تاکہ کوئی دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے۔

بعد ازاں، ننھی زینب کے والدین قصور میں اپنی رہائشگاہ پر پہنچے اور بچی کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو گھر میں کہرام مچ گیا۔ اہل خاندان ہی نہیں سارا شہر ننھی پری کی موت پر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔

قصور میں 7 سال بچی زینب کو اغواء کے بعد درندہ صفت انسان نے پہلے قتل کیا اور پھر اس کی لاش کو کوڑے میں پھینک دیا۔ ننھی جان کی بے حرمتی پر پوری قوم ہل کر رہ گئی ہے اور عوام کی جانب سے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

نماز جنازہ
زیادتی کے بعد قتل کی گئی سات سالہ زینب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ علامہ طاہر القادری نے پڑھائی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکومت لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئی ہے، حکمرانوں کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، زینب کی لاش 4 روز بعد ملی لیکن پولیس سے ملزم پکڑے نہ جا سکے۔ پولیس کی جانب سے فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کیا جانے پر انہوں نے کہا کہ آج ماڈل ٹاؤن واقعہ کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔

2 افراد جاں بحق
قصور میں ننھی زینب کے قتل پر پورا شہر سراپا احتجاج بن گیا جبکہ ننھی زینب کا قاتل ابھی تک آزاد ہے۔ مظاہرین نے ڈی سی او آفس جانے کی کوشش کی تو پویس نے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں جس سے 2 افراد شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد مظاہرے شہر بھر میں پھوٹ پڑے اور صورتحال پولیس کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔ پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والوں کو ہسپتال منتقل گیا لیکن وہ پہلے ہی دم توڑ گئے جس پر انہیں پوسٹ مارٹم کیلئے لے جایا گیا لیکن لواحقین اور مشتعل مظاہرین ان کی لاشوں کو ہسپتال سے لے آئے اور لاہور قصور روڈ پر لاشیں رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔

رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق، قصور میں حالات کو قابو کرنے کیلئے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے کمشنر لاہور کی سفارش پر رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے قصور میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

شہر بھر میں کشیدگی برقرار
اس سے قبل گزشتہ روز جب 6 دن سے لاپتہ زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی تو شہر بھر کی فضاء سوگوار ہو گئی۔ پولیس نے زینب کی لاش تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کے لئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کی اور پھر رسمی کارروائی کے بعد اسے ورثاء کے حوالے کر دیا۔ تاہم، شہریوں اور بچی کے ورثاء میں پولیس اور انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آج صبح سویرے معصوم زینب کے قتل کے خلاف شہری اٹھ کھڑے ہوئے۔ وکلاء نے ضلع بھر میں ہڑتال کی تو تاجر بھی شٹر ڈاؤن کر کے زینب کے دکھ میں شریک ہوئے۔ قصور میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ شہر میں ایک سال کے دوران اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کئے گئے بچوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے لیکن پولیس ایک ملزم کو بھی گرفتار نہیں کر سکی تاہم مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کر کے 60 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے خانہ پری ضرور کر لی گئی۔ لیکن عوام کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو سکا اور سارا شہر مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا۔

شہر کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ قصور بائی پاس اور سٹیل چوک میں 2 بڑے مظاہرے جاری ہیں جبکہ شہر بھر میں دیگر مقامات پر بھی مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں موجود ہیں اور ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ زینب اور پولیس کے فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ جیسے جیسے رات بڑھ رہی ہے مظاہرین کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے لیکن ابھی بھی وہ سٹیل چوک اور بائی پاس پر موجود ہیں اور انہوں نے سڑکوں کو بلاک کر رکھا ہے جبکہ پولیس اب مظاہرین کے قریب آنے سے بھی گریزاں ہیں۔ مظاہرین نے متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کی۔ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کو بھی معمولی زخمی کیا۔ پولیس نے قریب آںے کی کوشش کی تو تین اہلکاروں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد سے پولیس شہر سے مکمل طور پر غائب ہے اور مظاہرین سے مذاکرات کرنے یا انہیں دلاسہ دینے والا کوئی نہیں۔ پوری حکومتی مشینری اور سیاسی رہنماء بھی مظاہرین کے قریب آنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا نوٹس
آج صبح شہر بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑنے کی اطلاع کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں بچی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ شہباز شریف نے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعہ سے متعلق رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہ پائیں۔ وزیر اعلیٰ نے مقتول بچی کے لواحقین سے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا اور میں کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔ لیکن وزیر اعلیٰ کی تسلیاں شہریوں کا غصہ ٹھنڈا نہ کر سکی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے بھی قصور میں بچی سے زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس نے سیشن جج قصور اور پولیس افسران سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

آرمی چیف کی شدید مذمت
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ معصوم زینب کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ والدین کی جانب سے آرمی چیف سے انصاف دلانے کی اپیل کا نوٹس لیتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ہدایت کی ہے کہ مجرم کو گرفتار کرنے اور متاثرہ خاندان کو مثالی انصاف دلانے کیلئے سول حکومت اور انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY