مجھے اب تیرے استفسار سے ڈر کر نہیں جینا
کہ رستے کی کسی دیوار سے ڈر کر نہیں جینا
ذرا یہ سوچ لینا سربکف نکلے ہیں دیوانے
انہیں اب ظلم کی تلوار سے ڈر کر نہیں جینا
اٹھائیں کب تلک ہم آرزوؤں کے جنازوں کو
نہیں, اب تو صلیب و دار سے ڈالر کر نہیں جینا
ہمارے ضبط کے بندھن اگر اب توڑ ڈالے ہیں
خلافِ جبر اب اظہار سے ڈر کر نہیں جینا
جفا کی آندھیوں کو ساتھ لے کر سامنے آؤ
کہ اب ہم نے تمھارے وار سے ڈر کر نہیں جینا
مخالف سمت کا ہم نے تعیّن کر لیا ہے اب
تمھارے قہر کی رفتار سے ڈر کر نہیں جینا
نہیں رکھنے تمھارے راستے میں خواب اب اپنے
تمھاری ذات کے پندار سے ڈر کر نہیں جینا
(نقاش عابدی )













