خلافِ جبر اب اظہار سے ڈر کر نہیں جینا۔ نقاش عابدی

0
120

مجھے اب تیرے استفسار سے ڈر کر نہیں جینا
کہ رستے کی کسی دیوار سے ڈر کر نہیں جینا

ذرا یہ سوچ لینا سربکف نکلے ہیں دیوانے
انہیں اب ظلم کی تلوار سے ڈر کر نہیں جینا

اٹھائیں کب تلک ہم آرزوؤں کے جنازوں کو
نہیں, اب تو صلیب و دار سے ڈالر کر نہیں جینا

ہمارے ضبط کے بندھن اگر اب توڑ ڈالے ہیں
خلافِ جبر اب اظہار سے ڈر کر نہیں جینا

جفا کی آندھیوں کو ساتھ لے کر سامنے آؤ
کہ اب ہم نے تمھارے وار سے ڈر کر نہیں جینا

مخالف سمت کا ہم نے تعیّن کر لیا ہے اب
تمھارے قہر کی رفتار سے ڈر کر نہیں جینا

نہیں رکھنے تمھارے راستے میں خواب اب اپنے
تمھاری ذات کے پندار سے ڈر کر نہیں جینا
(نقاش عابدی )

SHARE

LEAVE A REPLY