نصرت نسیم پاکستان کے خوبصورت شہر ایبٹ آباد میں مقیم ہیں اور قلم سے محبت میں گرفتار تخلیقی کام میں کسی صلے یا ستائش کے بغیر مصروف عمل رہتی ہیں، عالمی اخبار انہیں اپنے لکھنے والوں کی فہرست میں خوش آمدید کہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ وہ مختلف موضوعات پرہمارے قارئین کے لیئے لکھتی رہیں گی
مدیر اعلیٰ۔ عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جانے کیوں بیٹھے بیٹھاے رشتے کی نانی اماں یاد آگیں جو ہر تہوار کا خصوصی اہتمام کیا کرتیں خاص طور پر شب برات کا یا شاید ان زمانوں میں تمام لوگ ہی ایسا کرتے شعبان کا چاند نظر آتے ہی دکانیں پٹاخے وغیرہ کے سامان سے سج جاتیں اوربچے گلی محلوں میں پٹاخے ،چاند تارے سے لطف اندوز ہوتے ہم ٹہرے سدا کے بزدل لہذا پٹاخوں وغیرہ سے دور رہتے البتہ تڑ تڑ ےاورچاند تارا ہمارے پسندیدہ تڑ تڑےکاغذ کے اوپر ذرا سامسالہ لگا ہوتا اسکو فرش پر رگڑنے سےمسالہ جل اٹھتا اورتڑتڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی اس طرح چاند تارے کو دیاسلای دکھاتے ہی ستارے بننے اورچمکنے لگتے
شب برات سے دوتین پہلےنانی جنہیں ہم سب پھپھو اماں کہہ کر پکارتے مٹی کے دیے یا ڈیوےمنگواتی ساتھ ہی روئی اور تیل بھی اورسب بچوں کو ساتھ بٹھا کر روئی سے بتیاں بٹتیں اور ایک ایک بتی دیے میں رکھ کر دیے تیار کرکے رکھ دیتیں شب رات کے دن دوپہر سےہی نشاستے کے حلوے،اوردرھڑئییاں (ایک روٹی بیل کر اس پر گھی لگا کر اس پر اسی سائز کی دوسری روٹی رکھ کر بیلتے ہیں )پکانے کی تیاریاں شروع کر دیتیں لکڑیوں کے چولہے پر وہ تیزی سے پکاتی چلی جاتیں 4بجے تک وہ پکانے کے کام سے فارغ ہوتیں توبانٹنے کا کام شروع ہوتا جوسب بچے بڑے شوق سے کرتے دور نزدیک کے رشتے دار، خاص طور پر بیٹیاں، بیٹیوں سے مراد صرف اپنی بیٹی نہیں بھانجی بھتیجی، نزدیکی رشتہ ہو یا دور ہربیاہی بچی تک حصہ پہچانا لازمی تھا
اب سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیسے لوگ تھے لکڑیوں کے چولہے پر اتنا کشٹ اٹھا کر صلہ رحمی اور رشتے داریاں نبھانے والے، ساری بیٹیوں کو اپنی بیٹی سمجھنے والے
اس زمانے میں گاڑی رکشے وغیرہ کا تو تصور ہی نہ تھا بچے خوشی خوشی دور دور تک یہ حصے بخرے اٹھا کر بلا خوف و خطر دے آتے اس کے بعد سر شام مٹی کے دئیے (ڈیوے)میں سرسوں کا تیل ڈال کر جلادیا جاتا اور گھر کی تمام دیواروں پر انہیں رکھ دیا جاتا ایک ٹرے یا سینی میں پھپھو اماں بہت سارے دیے رکھ کر تاکید کرتیں کہ ان گھروں میں دے آئیں جوچراغاں کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے
گھروں میں دیے بانٹ کر آخر میں مسجد حاجی بہادر صاحب (جو ہمارے گھر کے قریب تھی )جاتے جہاں باہر کی سمت وضو کے لئے تالاب بنا ہوا تھا یہاں سب لوگ لکڑی کی تختیوں پرجھلملاتےدیےپانی کی سطح پر چھوڑ دیتے تاحد نظر بام و در روشن و تاباں اور تالاب کے اوپر بھی جھلمل کرتے ڈیوےاورزیرآب بھی یہ خوبصورت منظر آج بھی تصور میں میں جھلملاتاہےتو ایک گیت یاد آتاہے
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے
میرے بچپن کے دن
کتنے اچھے تھے دن
نصرت نسیم , ایبٹ آباد














نصرت نسیم شب برات کی بہت ساری باتیں آنکھوں کے سامنے لائی ہیں جنہیں ہم عشق دنیا میں فراموش کرچکے ہیں .