ہزاروں برطانوی شہری بھی ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا شکار، رپورٹ

0
689

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 2013 اور 2014 میں 3 ہزار سے زائد برطانوی شہریوں نے پاکستان کی ایک آئی ٹی کمپنی ’ایگزیکٹ‘ سے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ خبر کینیڈا کے قومی نشریاتی ادارے کی تفصیلی تحقیق کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا تھا کہ کینیڈا میں مختلف شعبوں میں سیکڑوں ایسے لوگ کام کر رہے ہیں، جنہوں نے ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔

بی بی سی ریڈیو 4 کے ایک پروگرام فائل آن فار میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایگزیکٹ سے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز کے معاونین سمیت نرسیں، ماہر چشم اور ماہر نفسیات بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انجینئر اور ایک بڑے دفاعی کنٹریکٹر کی جانب سے اپنے 7 ملازمین کے لیے بھی ڈگریاں خریدی گئیں، جن میں 2 ہیلی کاپٹر کے پائلٹس بھی شامل ہیں جبکہ یہ ڈگریاں غیر موجود آن لائن یونیورسٹیوں نکسن یونیورسٹی اور بیچسٹر یونیورسٹی کے نام سے جاری کی گئیں تھیں۔

بی بی سی کی جانب سے ایک حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق ملازمت کے لیے جعلی ڈپلومہ کا استعمال کرنا دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے نتیجے میں 10 سال تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

اس بارے میں ’ہوسپٹل منیجمنٹ‘ میں ڈگری خریدنے والے ایک ماہر تخدر( انیستھیو لوجسٹ) نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے اپنی قابلیت کو برطانیہ میں استعمال نہیں کیا جبکہ پیڈریاٹرک ایمرجنسی میڈیسن میں ’صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے ایک کنسلٹنٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کے لیے کافی حیران کن تھا کہ نشریاتی ادارے نے انہیں بتایا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ کی تعلیمی حکام کا کہنا تھا کہ وہ جعلی ڈگریوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔

رقم کے حصول کے لیے بلیک میلنگ
فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( ایف بی آئی) کے ایک سابق ایجنٹ ایلن ایزیل، جو کئی دہائیوں تک ڈپلومہ کے حوالے سے تحقیقات کرتے رہے ہیں، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایگزیکٹ اب اپنے صارفین سے پیسہ بٹورنے کے لیے بلیک میلنگ کا سہارا لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے جو بظاہر کسی سفارتخانے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے معلوم ہوتی ہے، جو آپ کو اس جعلی ڈگری کے حوالے سے مزید دستاویزات حاصل نہ کرنے پر گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں جبکہ ہم نے آج تک ایسا کچھ نہیں دیکھا۔

بی بی سی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم ایک برطانوی انجینئر کو ایگزیکٹ کے ایجنٹ کی جانب سے دھمکی آمیز کال موصول ہوئی تھی، جس کے بعد اس نے جعلی قابلیت کے لیے تقریباً 5 لاکھ پاؤنڈ ادا کیے۔

بی بی سی کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ اس بارے میں ایگزیکٹ سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایگزیکٹ کا جواب
دوسری جانب بی بی سی کی رپورٹ پر ایگزیکٹ کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا گیا ، جس میں اس تفتیش کو بے بنیاد اور ناقابل یقین قرار دیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ یہ اسٹوری ایگزیکٹ کو بدنام کرنے کی مہمات کا تسلسل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY