اسلام اور والدین کے حقوق(52) ۔شمس جیلانی

0
2212

ہم گزشتہ مضمون میں حقوقِ والدین پر بات کر رہے تھے۔اور ایک حدیث بیان کی تھی جس میں تین دفعہ حضور(ص)نے اس فرد کی ہلاکت پر آمین فرمایا تھا؟ جو ارشادِ گرامی(ص) کے مطابق تین افعال میں سے کسی ایک کا بھی ارتکاب کرے، جن میں وہ اولاد بھی شامل تھی جس نے ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کوپایا اور ان کے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرالی؟ قرآن اور احادیث میں لفظ “ہلاکت“ اور “ فلاح“ بکثرت بطورِ تمثیل استعمال ہوا ہے ؟ہلاکت کے معنی ہیں کسی انسان کے لیے اس کے برے اعمالوں کی بنا جہنم کا مستحق ہونا اور فلاح کے معنی ہیں اپنے نیک اعمال کی بنا پر جنت کا مستحق ہونا ہے؟
جس کی ہلاکت پر رحمت اللعالمین(ص) آمین فرمادیں،اس کی بدوقتی میں کسے شک ہوسکتا ہے، سوائے اس کے جوکہ کافر ہو ؟ کیونکہ انہوں(ص) نے کبھی بدعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھائے۔ سوائے ان تین باتوں کے ان میں ایسی اولاد بھی شامل ہے۔ جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو دنیا سے ناراض جانے دیا اور ان سے دعا کراکر اپنی مغفرت نہیں کرالی۔ جبکہ ہر مومن کو بار بار ہاد دہانی ا حادیث کے ذریعہ کرادی گئی ہے کہ اللہ اپنے حقوق توبہ کرنے پر معاف فرما دیتا ہے کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے اور ماں سے ستر گنا زیادہ اپنے بندوں پر مہربان بھی۔
مگر مخلوق کے حقوق معاف فرمانے کا وعدہ نہیں ہے؟ اس کے لیے یہ ہی ہے جس حق تلفی کی ہے اسی سے معاف کرانا ہوگا؟ لہذاہرا یسے گناہ گار کے لیئے بہتر یہ ہی ہے کہ توبہ کرنے سے پہلے یہیں اہلِ معاملہ سے ہی معاف کرالے یا اس کی چیز اس کو لٹاکر منا لے؟ جبکہ ان میں بعض گناہ ایسے ہیں ؟ جن کی تلافی کرنا بھی آسان نہیں مثلاً سرکاری املاک کو نقصان پہنچا نا ،بیت مال میں غبن کرنا یا رشوت لینا دینا۔ یا تجارت میں ہیر پھیر ملاوٹ کرنا وغیرہ کرنا؟ کیونکہ ناقص چیزیں آپ نے جو کسی دکاندار کے ذریعہ فروخت کیں ان کی تعداد لاکھوں اور کروڑوں میں ہو سکتی ہے؟ جبکہ ہم اس کی فکر کم ہی کرتے ہیں، رہی توبہ تواس باقی گناہوں کی بخشش کی امید تو ہے کیونکہ اس کا وعدہ ہے؟ مگر جہاں شفیع المذنبین(ص) فرماکر منع فرمادیں؟ اس کی ہلاکت میں شک کیا رہ جاتا ہے؟اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے گناہوں سے محفوظ رکھے جس سے رہائی ممکن نہ ہو (آمین)۔
والدین کے سلسلہ میں تو بہت زیادہ احادیث ہیں اور قر آن میں تو اللہ نے جہاں بھی اپنی عبادت (فرما ں برداری کا) حکم فرمایا ہے وہیں فوراً والدین کی اطاعت کا حکم صادر فرمایا ہے مگر اسے مشروط کردیا ہے صرف بھلائی کے کاموں سے، جبکہ برائی میں کسی کی بھی ا طاعت کا حکم نہیں ہے اس آیت کو عام طور پر ہم یاد ہی نہیں رکھتے !اگر یاد رکھیں تو دنیا سے ساری برائیاں مٹ جائیں؟
ایک جگہ تو یہاں تک فرمادیا ہے کہ جو واالدین کا شکر گزار نہیں ہے وہ میرا شکر گزار کیا ہو گا۔ جبکہ ان کے ساتھ سلوک معاملہ صرف ان کی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے مرنے کے بعد بھی چند باتیں جاری رکھنے کا حکم ہے جیسے کہ ا ن کی مغفرت کی دعا کرنا؟ ایک متفق علیہ حدیث میں آیا ہے اور وہ حدیث اس طرح ہے کہ ا نصارِؓ مدینہ میں سے ایک شخص نے حضور (ص) سے سوال کیا کہ کیا میں ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے ساتھ سلوک کر سکتا ہوں ؟ تو حضور (ص) نے فرمایا ہاں !(1) ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت(2) دعا اور استغفار(3) ان کے وعدوں پورا کرنا (4) صلہ رحمی ( ان کے رشتہ داروں کے ساتھ ) اور ان کے دوستوں کے ساتھ سلوک “ ان میں سے نماز جنازہ میں تو شرکت کوئی بد بخت ہی ہو گا جو نہیں کرے گا؟ البتہ مجبوری کی بات دوسری ہے ۔ جبکہ دعا اور استغفار ہر نماز کے بعد ہر مومن کے لیے دعائے مسنونہ میں شامل ہے وہ زندگی بھر اولاد کو اان کے لیے کرنا ہی کرنا ہے۔ وعدے پورے کرنے کے سلسلہ میں پہلے انکی وصیت ہے اگر اس کے علاوہ وہ وعدے بھی ہیں جو کہ اولاد کے علم میں ہوں۔ صلہ رحمی میں وہ تمام قریبی اور پھر دور کے رشتے داربھی شامل ہیں جن کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ“ رشتوں کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا “ پھر وہ دوست ہیں جو اولاد کے علم میں ہوں۔ (باقی آئند)

SHARE

LEAVE A REPLY