ہماری بہن ڈاکٹر نگہت صا حبہ ہمیں ہمیشہ امتحان میں ڈالے رہتی ہیں اس مرتبہ بھی ان کی فر ما ئش ہے کہ میں اس ہفتے اور اس سے اگلے ہفتے جواگست میں پڑ رہا ہے تاریخ ِ پاکستان پر لکھوں، جبکہ صورت حال یہ ہےکہ تاریخ مسخ ہو چکی ہے اور میں ہمیشہ سچ لکھنے کا عادی ہوں؟کیونکہ با رہا میں اس حدیث کو دہرا چکا ہوں کہ میرے آ قا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا کہ“ مومن میں تمام، عیب ہو سکتے ہیں مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا“ اس اخبار کے مدیر اعلیٰ اور سچا ئی کے علمبر دار جناب صفدر ھمدانی صاحب کو بھی انہوں نے اپنی اس فرما ئش کی کاپی بھیجی ہو ئی تھی، لیکن وہ باہر گئے ہوئے تھے لہذا جس طرح شعر پڑھنے سے پہلے صدر مشا عرہ سے پو چھتے ہیں کہ اجازت ہے، حالانکہ صدر مشا عرہ کبھی منع نہیں کرتا؟ چونکہ حفظ مراتب ہماری تہذیب کا حصہ ہیں،ان سے کل فون پر پو چھا اور انہوں نے ہمیشہ کی طرح فر ما یا کہ کیا سچ لکھنے کے لیئے بھی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے؟ہمت بڑھی کہ عالمی اخبار کے قا رئین بھی سچ پڑھنے کے عادی ہیں! اخبار کی پالیسی یہ ہی ہے لہذا مضمون حاضر ِ خدمت ہے۔
اب پہلا سوال یہ ہے کہ پاکستان کیسے بنا؟ اس کا جواب بڑا سیدھا سادا سا ہے کہ اللہ جب کچھ عطا فر مانا چا ہتا ہے، تو ویسے ہی اسباب پیدا فرمادیتا ہے۔لہذا اس نے اس عطا کے لیئے اپنے سالانہ در بار کا وقت منتخب فر مایا۔ یعنی رمضان المبارک کی ستا ئیسویں شب؟ یہ اور بات ہے کہ ہمیں14 اگست اچھی لگی؟ اس وقتا اس رات میں عطا کرنے میں شاید مصلحت یہ تھی کہ وہ وعدہ وفا یاد دلانا چاہتاتھا کہ ہم نے تو رحم اپنے اوپر واجب کر رکھا ہے، مگر تم مکر جاتے ہو، اب دیکھتے ہیں کیا کرتے ہو؟ تم نے میرے نام کو سر بلند کر نے لیئے ایک ملک مانگا تھا اس وعدے کے ساتھ کہ جس کا کلمہ لا الہ الاللہ ہو گا اور جس کا آئین قر آن ہو گا“وہ میں نے تمہیں عطا کر دیا اور اب دیکھتا ہوں کہ تم کیا کرتے ہو؟
اب ہم اسباب پر بات کرتے ہیں۔ پاکستان پہلے خون کے دریا ؤں سے گزر ا اسکے بعد بنا۔ یہ سچا ئی اس زمانے کا یہ مشہور قطعہ بیان کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کوشاعر لکھنوی مرحوم کا کہتے ہیں
اے!مسلمانوں اٹھو ہا تھ میں قر آن لو
اپنی ہی تابش میں اپنے آپ کو پہچان لو
وقت کو آنے تو دو پہنے ہو ئے خونی کفن
خود ہی یہ دشمن کہے گا بڑھ کے پاکستان لو
یہ قطعہ جس کسی بھی ہو، لیکن تھا الحامی کہ شاعر نے بہت دور تک کی سوچ لی تھی جیسے کہ وہ مستقبل کو پڑھ رہا ہو؟ یہ وہ دور تھا جب مو لا نا ابو الکلام آزاد کانگریس کے صدر تھے اور وہ پاکستان بننے کے سخت خلاف تھے۔ جبکہ ہماری یہ روایت رہی ہے کہ جب کسی کو ہیرو بنا تے ہیں تو اسے فرشتوں سے آگے لے جاتے ہیں، چا ہے اس میں وہ وصف ہوں، یا نہ ہو ں اور جب کسی کو گرانے پر آتے ہیں تو اتنا گرا دیتے ہیں کہ جس کی انتہا نہیں رہتی۔ اس کے با وجود کہ وہ ایک بڑے عالم ِ دین، مفسر ِ قر آن اور بہت کچھ تھے لیکن وہ اس وقت بھی شو بوا ئے کہلا تے تھے اور اب تک کہلاتے ہیں، لیکن ان کا کردار کوجو آپ آگے چل کرپڑھیں گے وہ تھوڑا آپ کو مختلف نظر آئے گا؟
ہمارے ہاں تو روایت یہ رہی ہے کہ جو کرسی کو چمٹ جا ئے تو کر سی چھوڑ تا نہیں ہے؟ مگر وہ عجیب آدمی تھے کہ انہیں کرسی چبھ رہی تھی کہ وہ کانگریس کے صدرسن بیالیس سے انیس سو پینتالیس تک چلے آرہے تھے۔ حالانکہ اس میں ان کا کوئی دخل نہیں تھا؟ کیونکہ وہ اور ان کے تمام ساتھی جیل میں تھے۔ لہذا کانگریس کے سالانہ انتخابات ہو تے تو کیسے ہوتے؟ بس یو ں سمجھ لیجئے ان کی کر سی کی چبھن ہی پا کستان بنا نے کا با عث بن گئی؟
یہ ان کا ضمیر تھا جو انہیں کرسی چھوڑ نے پر مجبور کر رہا حالانکہ وہ اسے کھینچ جاتے تو ہندوستان کا نقشہ یہ نہیں ہوتا، انہوں نے کرسی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ گاندھی جی کی خواہش تھی کہ سردار پٹیل کو صدر کانگریس بنا یا جا ئے، کیونکہ وہ دونوں ہم خیال تھے۔ فرق یہ تھا کہ سردار پٹیل کٹر ہندوسمجھے جاتے تھے اورگاندھی جی نرم دل ہندو، جبکہ گاندھی جی نے نر می سے جو کام لیا، وہی ہندو قومیت کو مضبوط بنا نے کا با عث ہوا۔
اس سے پہلے صورت حال یہ تھی کہ اس وقت بھارت کی آبادی چا لیس کروڑ تھی جس میںاونچی ذات کے ہندو پندرہ کروڑ، اچھوت دس کروڑ، مسلمان دس کروڑ اور متفرق مذاہب کے ماننے والے پانچ کروڑ تھے۔ جبکہ گاندھی جی کے براجمان ہو نے سے پہلے متحدہ ہندوستان کے لیڈر قا ئد ِ اعظم محمد علی جنا ح سفیر اتحاد کہلاتے تھے مگر وہ گاندھی جی کےآنے کے بعد آہستہ آہست۔اپنی مقبولیت کھوتے گئے اور مسلم لیگ میں مقبولیت حاصل کرتے چلےگئے؟ یہاں آکر گاندھی جی نے اس بات کو بھانپ لیا کہ اگر ہم اور اچھوت علا حدہ رہے تو طاقت کا توازن اچھو توں یا مسلمانو کے پاس رہے گا اور وہ جس کا ساتھ دیں گے وہ ہی کا میاب ہو گا؟ بلکہ گمان غالب یہ تھا کہ ہمیشہ کے لیئے انڈیا کی قیادت اچھوتوں یامسلمانو کے پاس باری باری رہے گی? کیونکہ دونوں قومیں اقلیت میں ہو نے کی وجہ سے متحد تھیں جبکہ اعلیٰ ذات کے ہندو بٹے ہو ئے تھے۔
لہذا گاندھی جی نے پہلے تو محمد علی جنا ح (مرحوم) کو کانگریس چھو ڑ نے پر مجبور کیا اور وہ اسے چھوڑ نے کے بعدمسلم لیگ کے صدر اور قائد ِ اعظم بنے۔ پھر جب گاندھی جی خود بے انتہا مقبو لیت حا صل کر کے مہا تما کہلا نے لگے تو انہوں نے چھوت چھات کوختم کر نے پر زور دیا۔ بعد میں یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ پنڈت نہرو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ جبکہ نہ تو وہ کانگریسی تھی اور نہ کا نگریس کے فلسفہ پر یقین رکھتے تھے۔ وہ شروع سے ہی سوشلسٹ تھے اور ان کے ہر سالانہ بین الاقوامی اجلاس میں با قاعدگی کے ساتھ ماسکو جاکر شرکت بھی فر ماتے تھے۔ جب پہلی مرتبہ ان کو ان کے والد موتی لال نہرو نے کانگریس میں لا نا چا ہا تو وہ انڈین یوتھ یونین کے سکریٹری جنرل تھے جو کہ ایک سو شلسٹ جما عت تھی۔ لہذاانہوں نے یہ فر ماکر انکار کر دیا کہ یہ بوڑھے! ہم نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیئے بھینٹ چڑھانا چا ہتے ہیں؟ لیکن جب انہوں نے یہ دیکھا کہ گاندھی جی نے اچھوتوں کی طرف پیش رفت کر کے اکثریت بنا لی ہے اور اب منزل اقتدار کےقریب آگئی ہے اور انہیں اقتدار پر پہنچ کر سوشیل ازم کو نافذ کرنے کا بہترین موقعہ نظر آیا،تو وہ کانگریس کے صدر بننے پر تیار ہو گئے۔
ورنہ وہ اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے کہ ان کے والدین کشمیری پنڈت لڑ کی کے علاوہ کسی اور کو اپنی بہو بھی بنا نے کو تیار نہ تھے؟جس کی وجہ سے انہیں کملا جی سے مجبو را ً شادی کر نا پڑی اور جو بعد میں ٹی بی کا شکار ہو کر سورگباشی ہو گئیں۔ میرے اس دعویٰ کا عملی ثبوت یہ ہے کہ کانگریس میں بہت سے اچھوت ایسے تھے جن کا نمبر وزارت عظمیٰ کے لیئے آیا مگر وہ وزیر اعظم نہیں بن سکے؟جب اچھوتوں نے دیکھا کہ انہیں کچھ نہیں ملا تو انہوں نے اپنی بہت سی جما عتیں بنا لیں کچھ نے مسلمانوں سے اتحاد کر کے، مرکز میں تو نہیں مگر کئی صوبوں میں صوبائی حکومتیں بھی بنا ئیں۔اور جب سے مسلمانوں نے یہ فیصلہ کر لیاکہ وہ کانگریس یا بی جی پی کو ووٹ نہیں دیں گے،اس وقت سے ہندوستان میں مستحکم حکومت نہیں بن سکی تاوقتکہ مودی صاحب تشریف لے آئے؟ اب ہم آتے ہیں اس پرحالات نے کیا روش اختیار کی اور ہم تاسیس پاکستان تک کیسے پہونچے؟ وہ بہت طویل کہانی ہے مگر میں مختصر طور پر ّعرض کردیتا ہوں کہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا اور پاکستان بن گیا اس کا بننا ایک معجزہ تھا کہ انگریزوں نے عبوری حکومت بنائی پہلے تومسلم لیگ انکاری ہوئی بعد میں اس میں شامل ہوگئی اس شمولیت نے ہندو لیڈر شپ کو یقین دلا دیا کہ اگر ہندوستان متحدرہاتو مسلمان ہمیں چین سے حکومت نہیں کردیں گے؟ لہذا ان کو انکا پاکستان کمزور کر کے انہیں دیدو؟ نہرو نے صدر کانگریس بنتے ہی پہلی پریس کانفرنس میں کہہ دیا کہ کیسا معاہدہ اور کائے کا معاہدہ یہ تو ہماری آنے والی پارلمنٹ طے کرے گی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا؟
اس سے سب سے زیادہ پریشانی قائدِ ِاعظم کو ہوئی جو آل انڈیا ریڈیو دہلی سے اعلان کر چکے تھےکہ میں قوم کو جو زیادہ سے زیادہ لیکر دے سکتا تھاوہ میں نے لیکر دے دیا اب ہم متحدہ ہندوستان کا حصہ رہیں گے اور انہوں نے کیبنیٹ مشن کی ثالثی میں جوکانگریس سے معاہدہ کیا وہ واقعی ایسا ہی تھا مگر اس کو نہرو جی کی اس قلابازی نے ختم کردیا؟ مجبورا“ قائد اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ اگر میرے بٹوئے کے برابر بھی پاکستان ملتا تو میں لے لیتا؟













