قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز بنکوں سے قرضے معاف کرانے کا معاملہ ایک بار پھر زور و شور سے اٹھایا گیا اور اسپیکر ایاز صادق نے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے رانامحمد حیات کا توجہ دلائو نوٹس فنانس ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کو ریفر کرتے ہوئے15 دن میں رپورٹ طلب کرلی اور حکومت کو ہدایت دی کہ کمیٹی میں قرضے معاف کرانے والے تمام افراد کی فہرست بھی پیش کی جائے۔ میڈیا توجہ دے تو نہام نہاد اشرافیہ اور چور پکڑے جائینگے۔ اسپیکر ایاز صادق نے کہا جن کے پاس 50 ہزار کیسز ہیں ان کی بھی ذمہ داری ہے۔حکومتی ایم این اے رانا محمد حیات نے توجہ دلائو نوٹس پیش کیا کہ حکومت کی جانب سے نادہندگان سے قرضوں کی وصولی کیلئے ناکافی قوانین اور قرضوں کی معافی سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یہ کام اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا تھا کہ وہ یہ معاملہ اٹھاتے۔ میں پوری اسمبلی سے کہتا ہوں کہ ایسا قانون پاس کرے کہ معاف کئے گئے قرضوں کی رقم واپس ملے۔ میں قوم سے اپیل کرتا ہوں اگر یہ اسمبلی میں قانون منظور نہ کرے تو اس اسمبلی کے ممبران کو دوبارہ منتخب نہ کرے اور اپوزیشن کے ممبران نےڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ حکومت کوئی قرضہ معاف نہیں کرتی۔ 80فیصد تک نجی شعبہ میں ہیں اورکمرشل ادارے کے طور پر چلائے جاتے ہیں۔ انکے بورڈ کو قرضے کی معافی کا اختیار ہے۔ اسٹیٹ بنک بنکوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ 5 لاکھ روپے، 25 لاکھ روپے اورا سے اوپر کی تین کیٹیگریوں کے قرضوں کے قرضوں کی معافی کیلئے الگ الگ شرائط ہیں۔ کوئی دانستہ دیوالیہ بھی کرے اور قرضہ معاف کرائے منصوبہ بندی کے تحت تو یہ جرم ہے۔












