میرے خاندان میں اکثر بزرگ خواتین کے ساتھ جہیز میں بوا آئی ھیں جو ساری زندگی ساتھ رھتی تھیں اور ہم بھی انکی عزت گھر کے اک فرد کی طرح کرتے تھے وہ بھی اپنی خدمت گزاری میں بسر کر دیتی تھیں
انکی عزت و احترام سب کے دلوں میں رھتا تھا یہاں تک کہ جزو وقتی ملازمہ کا بھی اتنا ھی خیال رکھا جاتا تھا
کئی عشرے پہلے جب کویت گی تو جس کمپنی کے ساتھ جاب کنٹریکٹ سائن کیا اسمیں فرنشیڈ گھر گاڑی ہوائی جہاز کا ٹکٹ بچوں کی تعلیم فری میڈیکل اور دیگر مراعات کے ساتھ ایک عدد خادمہ کی تنخواہ بھی شامل تھی
اک شدید گرم دن جوزفین جو فلپائن کے کسی دور افتادہ گاوں سے تعلق رکھتی تھی جوزی بہت جلد بطور گھریلو خادم ہمارے گھر کا اک اہم بن گی
گلف کی ان چھ سات ریاستوں میں ھزاروں غریب خواتین بطور ملازمہ متعدد ایشیائی ممالک سے ملازمت کے لیے آتی ھیں
انکے ساتھ انتہائی برا سلوک کیونکہ ھم اکثر پاکستان سے باھر جاتے تھے تو بیٹے بہو کی آمد پر ہم نے کوئ اعتراض نہیں کیا
سرونٹ کوارٹر میں دو کمرے اور کشادہ صحن تھا اک بار ہم سفر سے اے تو دیکھا کہ انکی والدہ اور بہو کی خالہ بھی انکے ساتھ رھنے کے لیےآگی ہیں یوں بڑھتے بڑھتے انکی تعداد 7 ہوگی تین سال میں بہو کے دو بچے بھی پیدا ہوے اور سرونٹ کوارٹر مچھلی بازار بن گیا گھر میں کچن سے برتن کراکری مصالحہ دالیں اور چاول بھی بڑی مہارت سے چوری کیے جانے لگے
گذشتہ تین چار ماہ سے بجلی کا بل 40 ھزار سے بھی زیادہ آنے لگا دو ڈھائ سال بعد میں سرونٹ کوارٹر میں اچانک چلی گی
جہان صحن میں چار پانچ خواتین واشنگ مشین سے ڈھیروں دھلے ہوے کپڑے ایک بڑے پلاسٹک بیگ میں ڈال رہی تھیں
اک تو مجھے اچانک وھاں دیکھ کر انکے چہرے متغیر ہوگے ڈانٹ ڈپٹ کی تو پتہ چلا پورے خاندان کے کپڑے ہمارے گھر سے ھی دھل کر جاتے ھیں انکے کمرے میں بڑی اسکرین والا مسلسل چلنے والا
ٹی وی
روم کولر
مائیکرو
بڑا فرج
کمپوٹر
استری
صحن میں واشنگ مشین اور 4 چارپائیوں پر حقہ سے شوق فرماتی بھاری بھر کم خواتین کو دیکھ کر میں ابھی تک شاک میں ہوں
آپ بتائیے کیا میرا پاگل ہونا بنتا ہے
شاہین اشرف علی













