سینیٹ الیکشن، چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں پولنگ کا عمل جاری

0
155

سینیٹ کی 52 نشستوں کیلئے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں پو لنگ کا عمل جاری ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے متحد ہوگئے ، بلوچستان میں زیادہ نشستوں کیلئے جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ہارس ٹریڈنگ کا شور الیکشن سے قبل ہی سنائی دینے لگا ہے۔

آج ہونیوالے یہ سینیٹ الیکشن خفیہ رائے دہی کی بنیا دپر ہوں گے ۔ پولنگ کل عمل سہ پہر چار بجے تک جاری رہے گی ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ۔ پنجاب اور سندھ سے 12،12 جبکہ بلوچستان، پختونخوا سے 11،11 سینیٹرز کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔ فاٹا سے 4 جبکہ وفاقی دارالحکومت سے 2 سینیٹرز منتخب ہوں گے ۔ فاٹا اور وفاقی دارالحکومت کے سینیٹرز کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی میں پولنگ ہوگی ۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دیدیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایوان بالا کی خالی ہونے والی 52 نشستوں کیلئے 131 امیدوار میدان میں ہیں ۔ جن میں پیپلز پارٹی کے 20، ایم کیو ایم پاکستان کے 14، تحریک انصاف کے 13، پاک سرزمین پارٹی کے 4 ، 65 آزاد امیدوار سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ آزاد امیدواروں میں مسلم لیگ (ن) کے وہ 23 امیدوار بھی شامل ہیں جو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑسکیں گے کیونکہ عدالتی فیصلے کے بعد انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پنجاب
پنجاب اسمبلی میں آج 12 سینیٹرز کے انتخاب کیلئے پولنگ ہوگی ۔ صوبے میں اس حوالے سے 20 امیدوار میدان میں ہیں۔7 جنرل نشستوں کیلئے کل 10 امیدوار میدان میں ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار آصف کرمانی، رانا مقبول، رانا محمود الحسن، شاہین خالد بٹ، زبیر گل، ہارون اختر اور مصدق ملک ، پیپلزپارٹی کے شہزاد علی خاں، تحریک انصاف کے چوہدری سرور اور ق لیگ کے کامل علی آغا شامل ہیں ۔ ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں پر 5 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اسحاق ڈار، حافظ عبدالکریم، نصیر احمد بھٹہ جبکہ پی ٹی آئی کے ملک آصف جاوید اور پیپلزپارٹی کے نوازش علی خاں میدان میں ہیں ۔ خواتین کی 2 نشستوں پر ن لیگ کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار وزیر اعظم کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی، نزہت صادق اور تحریک انصاف کی امیدوار عندلیب عباس مد مقابل ہونگی ، ایک اقلیتی نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامران مائیکل اور تحریک انصاف کے امیدوار وکٹر عذرایا میں مقابلہ ہوگا ۔ پنجاب اسمبلی میں صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ بطور ریٹرننگ آفیسر فرائض انجام دیں گے ۔ پنجاب اسمبلی میں ایک اندازے کے مطابق جنرل نشست پر 47 ووٹ سے ایک سینیٹر منتخب ہوگا ۔ پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت کی بھرپور اکثریت کے باعث صوبے میں انتخابی نتائج میں کسی بڑے اپ سیٹ کا امکان نہیں ہے ۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ تحریک انصاف اپنے امیدوار چوہدری سرور کو منتخب کرانے میں کامیاب رہتی ہے یا نہیں ۔ پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 310 ہے ، اسے اپنے 11 امیدواروں کی کامیابی کا مکمل یقین ہے ۔ اپوزیشن کی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ن لیگ نے بارہویں نشست کے لئے بھی زور لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 30 ہے مگر اس کے امیدوار چار ہیں، تحریک انصاف کو تین آزاد اور ایک لیگی ایم پی اے کی بھی حمایت حاصل ہے ، پیپلزپارٹی کے ارکان صرف 8 ہیں مگر امیدوار 2 کھڑے کیے ہیں ، پیپلزپارٹی جنرل نشست اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پراپنی قسمت آزمائے گی ، سینیٹ میں کیسے ووٹ ڈالا جاتا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں ارکان کو ٹریننگ کروائی گئی ۔ مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان اسمبلی کے لئے الگ ریہرسل سیشن ہوا ۔

سندھ
سندھ اسمبلی سے بھی 12 سینیٹرز کا انتخاب عمل میں آئے گا ، جس کیلئے مجموعی طور پر 33 امیدوار الیکشن میں حصہ لیں گے ۔ 7جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، مرتضیٰ وہاب ، مصطفی نواز کھوکھر ، مولا بخش چانڈیو، امام الدین شوقین، ایاز احمد اور محمد علی شاہ جاموٹ ، ایم کیو ایم پاکستان کے امیدواروں میں فروغ نسیم ، کامران ٹیسوری ، احمد چنائے ، سید امین الحق ، عامر چشتی اور فرحان چشتی ، جنرل نشستوں کیلئے پاک سرزمین پارٹی کے انیس احمد، ڈاکٹر صغیر اور سید مبشر امام ، مسلم لیگ فنکشنل کے سید مظفر حسین اور مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بابو سرفرار جتوئی بھی میدان میں ہیں ۔ خواتین کی 2 خصوصی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی قراۃلعین مری اور کیشو بائی امیدوار ہونگی جبکہ ایم کیو ایم سے ڈاکٹر نگہت شکیل، کشور زہرا، نسرین جلیل اور منگلا شرما امیدوار ہوں گی ۔ ٹیکنو کریٹ کی 2 نشستوں کیلئے 6 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سکندر میند ھرو ، رخسانہ زبیری ، ایم کیو ایم پاکستان کے حسن فیروز ، ڈاکٹر قادر خانزادہ ، علی رضا عابدی جبکہ تحریک انصاف کے نجیب ہارون شامل ہیں ۔ ایک اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے انور لعل دین، ایم کیو ایم پاکستان کے سنجے پروانی اور پاک سرزمین پارٹی کے ڈاکٹر موہن پاک امیدوار ہوں گے ۔ محمد یوسف خٹک بطور ریٹرننگ آفیسر فرائض انجام دینگے ۔ سندھ میں جنرل نشست پر 21 ووٹ لینے والا سینیٹر بن سکے گا۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی دیوان چند چاولہ نے بولیاں لگنے کی تصدیق کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ خریدنے کیلئے مجھ سے رابطہ کیا گیا ۔ ادھرسینیٹ الیکشن کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑے متحد ہوگئے۔

خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا اسمبلی سے آج 11 سینیٹرز کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔ اس حوالے سے کل 26 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا ، 7 جنرل نشستوں کیلئے 13 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے ، جن میں پیپلزپارٹی کے بہرمند ، فیصل سخی بٹ ، تحریک انصاف کے خیال زمان ، عبدالطیف یوسفزئی ، فدا محمد خان ، فیصل جاوید ، جماعت اسلامی کے مشتاق احمد ، جے یوآئی ف کے طلحہٰ محمود اور گل نصیب خان ، مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پیر صابر شاہ اور علی افضل جدون کے مابین مقابلہ ہوگا۔ ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں کے لئے مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزادا میدوار دلاور خان، تحریک انصاف کے اعظم سواتی ، جے یوآئی ف کے شیخ یعقوب اور آزاد امیدوار مولاناسمیع الحق اور ڈاکٹرنثار خان کے مابین پنجہ آزمائی ہوگی۔ خواتین کی 2 نشستوں کے لئے 7 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جن میں جے یوآئی ف کی نعیمہ کشور ، پی ٹی آئی کی مہرتاج روغانی ، اے این پی کی شگفتہ ملک ، ن لیگ کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار رئیسہ دائود اور ثوبیہ شاہد، پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد اور قومی وطن پارٹی کی انیسہ زیب طاہر خیلی شامل ہیں ۔ صوبائی الیکشن کمشنر پیر مقبول احمد بطور پریزائیڈنگ آفیسر کے فرائض انجام دینگے ۔ خیبر پختونخوا میں جنرل نشست پر 16 ووٹ سے ایک سینیٹر منتخب ہوسکے گا ۔ مسلم لیگ (ن)، صوبائی حکمران جماعت تحریک انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) میں اتحاد ہوگیا ۔ تینوں جماعتوں کے رہنمائوں نے جمعہ کو پشاور میں ایک مختصر اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ وہ ایک دوسرے کو سینیٹ کے انتخابات میں مدد فراہم کرینگے ۔ ادھر عمران خان کی زیر صدار ت تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا پشاور میں اجلاس ہوا ، جس میں تحریک انصاف کے 21 ارکان صوبائی اسمبلی شریک نہ ہوئے ۔ تحریک انصاف کے بعض رہنما صوبے میں ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کا ذمہ دار پی پی اور ن لیگ کو قرار دے رہے ہیں ۔

بلوچستان
بلوچستان اسمبلی سے آج 11 سینیٹرز کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔ صوبے سے 23 امیدوار الیکشن میں حصہ لیں گے ۔ 7 جنرل نشستوں کیلئے 15 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں نیشنل پارٹی کی ہدہ اکرم دشتی ، جمعیت علما اسلام ف کے مولوی فیض محمد ، بی این پی (مینگل ) کے میر ہمایوں عزیز کرد، اے این پی کے نظام الدین کاکڑ جبکہ ن لیگ کے حمایت یافتہ 11 آزاد امیدوار امیر افضل خان مندوخیل ، احمد خان ، انوار الحق کاکڑ ، حسین اسلام ، سردار شفیق ترین ، علائو الدین ، فتح محمد بلوچ ، ہدہ بابر ، محمد صادق سنجرانی ، محمد عبدالقادر ، یوسف خان کاکڑ شامل ہیں ، ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں پر نیشنل پارٹی کے میر طاہر بزنجو ، جمعیت علما اسلام ف کے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ، آزاد امیدوار نصیب اللہ بازئی ، ڈاکٹر عبدالمناف ترین ،خواتین کی 2 نشستوں پر نیشنل پارٹی کی طاہرہ خورشید، جمعیت علما اسلام ف کی عذرا سید ،ن لیگ کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ثمینہ ممتاز زہری ، ثنا جمالی ، شمع پروین مگسی ، عابدہ محمد عظیم مد مقابل ہوں گی ۔ بلوچستان میں جنرل نشست پر9 ووٹ سے ایک سینیٹر منتخب ہوگا ۔ جمعہ کو الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے منحرف رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر ریونیو منظورکاکڑ کو نا اہل قراردیدیا ۔ سابق صوبائی حکومت کے اتحادیوں ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ وہ کم ازکم 8 سیٹیں حاصل کریں گے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں پیپلزپارٹی بھی اپ سیٹ کرسکتی ہے ۔

فاٹا
فاٹا کی 4 جنرل نشستوں کیلئے 24 امیدوار میدان میں ہیں جن میں ساجد حسین طوری ، ہدایت اللہ ، شمیم آفریدی ، مرزا محمد آفریدی ، ہلال الرحمان ، ملک نجم الحسن ، شعیب حسن،طاہر اقبال ، عبدالرازق ، سید اخوانزادہ چٹان ، صالح، فیض الرحمان ، ساجد جمال ، شاہد حسین، پیر محمد عاقل شاہ ، شعبان علی ، حاجی خان ، ضیاالرحمان ، ملک افضل دین ، سید غازی غازان جمال ، فرہاد شباب ، جنگریز خان ، عرفان اللہ ، حیدرشاہ ، عدنان ستار ، شاہ خالد اور نظام الدین خان شامل ہیں ۔ فاٹا کے ان سینیٹرز کا انتخاب قومی اسمبلی کے ارکان فاٹا ہی کرینگے ۔

اسلام آباد
اسلام آباد کی 2 نشستوں کیلئے 5 امیدوار میدان میں ہیں۔ 1 جنرل سیٹ پر 3 امیدوار میدان میں ہیں ، جن میں پیپلز پارٹی کے راجہ عمران اشرف ، تحریک انصاف کی کنول شاہ زیب اور ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اسد علی جونیجو شامل ہیں ۔ ٹیکنوکریٹ کی ایک سیٹ پر 2 امیدوار میدان میں ہیں جن میں پیپلزپارٹی کے راجہ شکیل عباسی اور ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار مشاہد حسین سید شامل ہیں ۔ وفاق کی ایک جنرل نشست پر 114 ووٹ لینے والا کامیاب ہوسکے گا ۔

انتظامات مکمل
الیکشن کمیشن نے پنجاب کے لئے 1600 بیلٹ پیپر، سندھ کے لئے 800 ، خیبر پختونخوا کے لئے 600 ، بلوچستان کے لئے 300 ، اسلام آبا د کے لئے 800 اور فاٹا کیلئے 50 بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام مکمل کرلیا ۔ یہ بیلٹ پیپرز متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے حوالے کردیئے گئے ۔ الیکشن کمیشن نے تمام ریٹرننگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی تفویض کردیئے ہیں۔

ضابطہ اخلاق
انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق، قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہوگا ، موبائل فون کو پولنگ سٹیشن لیجانے پرمکمل پابندی ہوگی ، بیلٹ پیپر اور ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانا ہوگا، بیلٹ پیپر کو خراب کرنے ، جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی ہوگی ۔ ضابطہ اخلاق میں مزید بتایا گیا ہے کہ بیلٹ پیپر پولنگ سٹیشن سے باہر لیجانے پر مکمل پابندی ہوگی ۔ ہدایات کے مطابق کوئی ووٹر اپنا ووٹ ظاہر نہیں کرے گا ۔ ایسا کرنے کی صورت میں ریٹرننگ افسر ایسے ووٹر کے بیلٹ پیپر کو منسوخ کر دے گا ۔ اس حوالے سے انتخابی سامان بھی متعلقہ اسمبلیوں میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ سکیورٹی کے حوالے سے رینجرز اور ایف سی کو چاروں صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تعینات کر دیا گیا ۔ نومنتخب سینیٹرز 11 مارچ کو ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے ۔ ریٹائر ہونے والے سینیٹروں میں سب سے زیادہ تعداد پیپلز پارٹی کے ارکان کی ہے جس کے 18 سینیٹرز ریٹائر ہورہے ہیں۔ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی ، اعتزاز احسن بھی شامل ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY