البرٹ آئنسٹائن اولم میں 14 مارچ 1879ء کو پیدا ہوا

0
1874

آئنسٹائن کا خاندان جرمنی کے خوشحال یہودی النسل خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ باپ کاروباری تھا مگر زیادہ کامیاب نہیں تھا۔ جب آئنسٹائن چھ برس کا تھا، یہ لوگ میونخ آ گئے۔ ابتدائی تعلیم ایک کیتھولک مدرسہ میں پائی۔ یہاں کا سخت ماحول اس بچے کو ناگوار گزرتا تھا۔ 1894ء میں آئنسٹائن کو بورڈنگ مدرسہ میں پیچھے چھوڑ کر، اس کا باپ کاروباری وجوہات کی بنا پر خاندان سمیت اٹلی منتقل ہو گیا۔ دسمبر 1894ء میں سولہ سال کی عمر میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر آئنسٹائن (غالباً جرمن کی لازمی فوجی سروس کے خوف سے ) خود بھی اٹلی پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر 1896ء میں اس نے جرمن شہریت چھوڑ دی۔ اکتوبر 1895ء میں سویٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں واقعہ یونیوسٹی ای ٹی ایچ کے داخلہ کا امتحان دیا مگر ناکام رہا۔ استاد نے مشورہ دیا کہ اسکول کی تعلیم مکمل کرو، چنانچہ سویٹزرلینڈ کے شہر Aarau کے ایک اسکول میں پڑھائی کی۔ یہاں جس گھر میں قیام تھا، اس کے مالک کی بیٹی Marie سے شناسائی ہوئی۔ اگلے سالای ٹی ایچ کا داخلہ امتحان کامیاب کیا۔ اب اس نے ای ٹی ایچ میں پڑھائی شروع کر دی۔ وہ اسکول استاد بننے کی پڑھائی کرنے لگا۔ اگست 1900ء میں امتحان ہوا، پانچ طالب علموں کے امتحان میں آئنسٹائن چوتھے نمبر پر آیا۔ پہلے تین کوای ٹی ایچ نے نوکری دے دی، مگر اسے اور پانچویں نمبر پر آنے والی ملیوا مارِک  کو نہیں۔ ملیوا کے ساتھ اس کا میل جول تھا اور وہ بعد میں آئنسٹائن کی پہلی بیوی بنی۔ ملیوا مسیحی تھی اور سربیا سے تعلق تھا۔ ملیوا اور آئنسٹائن کے درمیان میں 1897ء سے 1903ء تک کے خطوط کے تبادلہ سے تاریخ دانوں کو اس بارے معلومات ملی ہیں۔ ان خطوط میں ذاتی معاملات کے علاوہ فزکس کے مسائل پر بھی گفتگو ملتی ہے۔ فکرِ معاش کی وجہ سے آئنسٹائن شادی نہیں کر پا رہا تھا، مگر ملیوا حاملہ ہو گئی۔ 1902ء میں ایک لڑکی کو جنم دیا، مگر پالا نہیں۔ 1902ء میں ہی آئنسٹائن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ آئنسٹائن عارضی استاد کے طور پر مختلف جگہ کام کرتا رہا، حتٰی کہ جون 1902ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن کے  دفتر میں نوکری مل گئی۔ 1901ء میں آئنسٹائن سویٹزرلینڈ کا شہری بھی بن گیا۔ جنوری 1903ء میں ملیوا سے شادی ہو گئی۔ پیٹنٹ دفتر میں کام کے دوران میں آئنسٹائن فزکس کے مسائل پر بھی تحقیق کرتا رہا اور اسی دوران میں اس نے اپنی زندگی کے عظیم تریں مقالات شائع کیے۔ کچھ محققین نے خیال ظاہر کیا ہے، کہ آئنسٹائن کی تحقیق میں ملیوا مارِک بھی شریک تھی۔ یہ شبہات آئنسٹائن اور ملیوا کے خطوط سے پیدا ہوئے جن میں آئنسٹائن “ہمارے نظریے ” کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ روسی سائنس دان ابراہام جوف نے مبینہ طور پر یہ بتایا کہ جب آئنسٹائن نے اپنے مقالے جریدہ  کو بھیجے تو ان پر پیٹنٹ دفتر میں کام کرنے والے میرک نامی کسی شخص کے دستخط تھے
اس سال آئنسٹائن نے چار مشہور مقالے شائع کیے :
پہلا مقالہ جو مارچ1905 میں شائع ہوا وہ ضیا ء برقی اثر اورروشنی کی ہیئت کے بارے تھا۔ اس وقت تجرباتی ثبوتون کی بنیاد پر روشنی کو موج سمجھا جاتا تھا، مگر اس سے ضیاء برقی اثر کی تشریح کرنا ممکن نہ تھا۔ آئنسٹائن نے اس نظریے کو تقویت دی کہ روشنی کو توانائی کے چھوٹے چھوٹے کوانٹم نوریہ زرات  پر مشتمل بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کوانٹم نوریہ کا نظریہ سب سے پہلے میکس پلینک نے پیش کیا تھا۔
دوسرا مقالہ جو مئی 1905 میں شائع ہواوہ براؤنین حرکت کے ریاضی ماڈل پر مشتمل تھا۔ جس میں احصاء کا استعمال کرتے ہوئے سالمہ کی مائع میں حرکت کی تشریح کی گئی تھی۔ اس سے اس نظریہ کو عام کرنے میں مدد ملی کہ جوہر اور سالمہ کا وجود حقیقی ہوتا ہے۔
تیسرامقالہ جو جون 1905 میں شائع ہوا، خصوصی اضافیت  پر تھا۔ اس سے وقت اور فضاء(زمان و مکاں) کو علاحدہ علاحدہ تصور کرنے کی بجائے “وقت۔ فضاء” یا “زمان و مکاں ” کا نظریہ سامنے آیا۔

پروفیسری اور واپس جرمنی میں1906ء میں زیورخ یونیوسٹی نے پی ایچ ڈی کی سند عطا کی، جس کے لیے آئنسٹائن نے تحقیقی مقالہ 1905ء میں جمع کرایا تھا۔ مقالات کی وجہ سے آئنسٹائن کی شہرت جو پھیلی، تو زیورخ یونیوسٹی نے نظریاتی طیبعیات میں اکتوبر 1909ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا۔ 1910ء میں پراگ یونیوسٹی سے پوری پروفیسر کی پیشکش ہوئی، تو 1911ء میں پراگ چلا گیا۔ یہاں جرمن اور چیک افراد میں لسانی و قومیاتی چپقلش کی وجہ سے کشیدگی تھی، اس لیے ایک سال ہی یہاں گزارنے کے بعد 1912ء میں زیورخ یونیوسٹی میں مکمل پروفیسر کی حیثیت سے واپس آ گیا۔ 1911ء میں برسلز میں اس کی Max Planck اور Lorentz جیسے بڑے بڑے سائنسدانوں سے ملاقات ہوئی۔ 1911ء میں اس نے عمومی اضافیت پر اپنا مقالہ شائع کیا۔ شہرت اور بڑھی، تو برلن یونیوسٹی، جو اس وقت علم کا گڑھ تھا، سے پروفیسر اور نئے انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر اور اچھی تنخواہ کی پیشکش ہوئی، جو قبول کر کے آئنسٹائن 1914ء میں جرمنی چلا آیا۔ جرمن شہریت دوبارہ حاصل کر لی۔ یہاں آنے کے چار ماہ بعد ہی پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ چار سالہ جنگ کے دوران میں آئنسٹائن زیادہ تر جرمنی میں ہی مقیم رہا۔ 1918ء میں جنگ جرمنی کی شکشت پر ختم ہوئی۔ جرمنی پر سخت شرائط تھیں اور اسے فاتح ممالک کو بھاری رقم جرمانے کے طور پر دینا پڑ رہی تھی۔ اس سے جرمنی کی معیشت تباہ ہونا شروع ہوئی تو جرمن سیاست میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں نے زور پکڑ لیا۔ فرانس جرمنی کے کچھ علاقہ پر غاصبانہ قابض تھا، مگر اس کے باوجود آئنسٹائن فرانس کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات قائم کر رہا تھا۔ دائیں بازو کی جماعتیں یہودیوں کو بھی جرمنی کی تباہ شدہ معیشت کا ذمہ دار سمجھتی تھیں۔ اس کے باوجود آئنسٹائن جرمنی میں مقبول تھا (سوائے کچھ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے )۔ آئنسٹائن عمومی اضافیت کے نظریہ سے مشہوری پانے کے بعد دنیا بھر کے دورے کیے جس میں جاپان، جنوبی امریکا، امریکا اور فلسطین شامل تھے۔ امریکا کئی دفعہ گیا۔ ان دوروں میں سائنسی لیکچر کے علاوہ آئنسٹائن صیہونیت کا بھی پرچار کرتا۔ 1922ء میں آئنسٹائن کو نوبل انعام دیا گیا۔ 1929ء میں جرمنی کے ایک شہر نے ایک جھیل پر آئنسٹائن کو جھونپڑی تحفے میں دی (بعد میں آئنسٹائن کو اس کی کچھ قیمت بھی دینا پڑی)۔ آئنسٹائن کشتی رانی کا شوقین تھا۔ 1933ء میں آئنسٹائن امریکا کے دورے پر تھا کہ جرمنی میں ہٹلر نے اقتدار سنبھال لیا۔ آئنسٹائن یورپ واپس پلٹ رہا تھا، تو بحری جہاز میں خبر ملی کہ جرمن پولیس نے اس کی جھونپڑی پر چھاپہ مار کر ملک دشمن مواد تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آئنسٹائن نے جرمنی کی بجائے بیلجیم پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ یہاں اس نے جرمنی کے خلاف جنگی تیاریوں کی حمایت کی۔[33] 1933ء میں ہی آئنسٹائن امریکا منتقل ہو گیا۔
اولاد
پہلی بیٹی شادی سے پہلے 1902ء میں سربیا میں بیوی ملیوا کے آبائی گھر پیدا ہوئی، مگر اسے ماں باپ نے پالا نہیں۔ اس کا انجام معلوم نہیں۔ 1903ء میں پہلا بیٹا ہینز (Hans)، شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا، جس نے سویٹزرلینڈ سے پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کی تعلیم مکمل کی اور بعد میں برکلے یونیوسٹی کیلی فورنیا میں پروفیسر بنا اور 1973ء میں وفات پائی۔ اپنی ماں سے آئنسٹائن کے برے سلوک کی وجہ سے کافی عرصہ اس کے باپ سے تعلقات کشیدہ رہے۔ دوسرا بیٹا ایڈورڈ 1910ء میں پیدا ہوا، جو ذہنی مریض تھا اور ذہنی امراض کے اداروں میں ہی زیادہ وقت گزارا۔ 1965ء میں زیورخ میں وفات پائی۔

ازواج

پہلی بیوی ملیوا مارِک  سے 1903ء میں شادی ہوئی۔ ایک بیٹی اور دو بیٹے پیدا ہوئے۔ 1914ء میں برلن جانے کے بعد میاں بیوی کے تعلقات خراب ہو گئے۔ حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ آئنسٹائن نے ملیوا کو صرف اس صورت اپنے ساتھ رکھنے پر راضی تھا اگر وہ یہ شرائط پوری کرے
A. تم یہ یقینی بناؤ گی کہ (1) میرے کپڑے اور بسترا ٹھیک ٹھاک ہوں۔  مجھے اپنے کمرے میں تین وقت کا کھانا پہنچاؤ گی۔ میرا سونے اور پڑھنے کا کمرہ صاف ستھرا رکھو گی۔ میری پڑھنے والی میز کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ B. میرے سے تمہارے تمام ذاتی تعلقات ختم ہوں گے، سوائے لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ ۔۔۔۔۔ جب مخاطب ہوں تو فوراً جواب دو گی ۔۔۔۔۔ میرے بچوں کو میرے خلاف نہیں کرو گی، گفتگو سے یا اپنے عمل سے ۔
اس کے بعد ملیوا بچوں کو لے کر زیورخ چلی آئی۔ 1916ء میں آئن سٹائن نے طلاق کا سوال کیا۔ ملیوا ذہنی صدمے سے نڈھال ہو گئی، ہسپتال میں داخل ہوئی۔ آخر 1918ء میں اس شرط پر طلاق ہوئی کے اگر میاں کو نوبل انعام ملے تو اس کے پیسے ملیوا کے ہوں گے اور بچوں کو مالی طور پر میاں سہارا دے گا۔ دونوں بیٹوں کو ملیوا نے اکیلے ہی سوئٹزرلینڈ میں پالا۔ بڑا بیٹا بڑا ہو کر امریکا چلا گیا۔ 1948ء میں ملیوا کی وفات ہوئی تو ہسپتال میں اکیلی تھی۔
1914ء میں برلن آنے کے بعد آئنسٹائن کی شناشائی اپنی چچا زاد بہن ایلسا  سے دوبارہ ہوئی۔ اس نے آئنسٹائن کے ایلسا بعد میں آئنسٹائن کے ساتھ امریکا آ گئی جہاں 1936ء میں انتقال کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY