حقوق العباد (33) ۔۔۔ شمس جیلانی

0
121

اس سے پہلے ہم تقریباً ہر قسم کے حقوقِ ہمسائیگی پر بات کرچکے ہیں اب صلہ رحمی( قریبی رشتوں) پر آتے ہیں جن کی خصوصی تاکید ہے۔ جبکہ ہم جن کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اگر چار پیسے کسی کے پاس آجائیں تو پنے قریبی رشتہ داروں کو پہچان نے سے بھی انکار کردیتا ہے۔حالا نکہ اس کے لیے تاکیدی حکم ہے اور یہ خوشخبری ہے کہ صلہ حمی کرنے والے کی عمر بڑھتی رہتی ہے اور رشتے توڑنے والوں سے جوڑنے والا بہتر ہے۔ اس سے رشتہ جوڑو جو توڑتا ہے۔ جبکہ دوسری حدیث میں یہ بھی ہے کہ قطع رحمی (رشتے توڑنے) والے جنت میں داخل نہیں ہونگے۔
ان میں سے پہلا رشتہ والدین کا ہے، پھر میاں بیوی کا ہے پھر بچوں کا ہے ۔ اس کے بعد بعد قریبی رشتہ دار ہیں پھر نصبتی رشتہ دار ہیں۔ ان سب سے ملکر معاشرہ بنتا ہے۔ اور ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ پوری زندگی گزارنے کاجو حکم دیتا ہے ان میں وہ صرف دوباتوں کا حکم دیتا ہے وہ ہین“ عدل اور احسان “ جو ہر جمعہ کو امام صاحب کے خطبہ میں ہم سنتے ہیں۔ جبکہ بہت ہی شروع اسلام سے یہ آآیت جمعہ کے خطبہ میں شامل ہے۔ جوکہ حضرت (عمرؒ بن عبد العزیز) نے جن کو خلفیہ راشدین کے بعد واحد متقی خلیفہ مانا جاتا ہے نے شامل َ خطبہ کرایا تھا۔ جبھی سے یہ آیت خطبہ میں چلی آرہی ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ “اے ایمان والو! اللہ تمہیں عدل اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے “ اگر اس کے معنی سمجھ کر ہم اس ایک آیت کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں تو ہمارے اور جنت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی ۔ صلہ رحمی پر اتنی آیتیں اور حدیثیں موجود ہیں کہ اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں سماء سکتیں۔ لیکن ہمیں اسکاادراک جب تک کہ ہم اس کے اردو کے معنوں کوساتھ سااتھ ہم عربی میں بھی ان دو لفظوں کے معنی سمجھ سکیں جنہیں ہم جمعہ کہ جمہ کے اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں۔عدل کے معنی تو ہر اردو جاننے والا بھی جانتا ہے ۔ اور وہ یہ ہیں کہ ہر حیثیت اور ہرمعاملہ میں انصاف کرنا ۔اور نصاف کیا ہے؟اس کا جواب حضور (ص) نے صرف دو لفظوں میں عطا فر مادیا ہے کہ جوتم اپنے لیے چاہو۔ وہی اپنے بھائی کے لیے چاہو؟ اور احسان کے معنی کیا ہیں وہ یہ ہیں کہ اپنے ہر بھائی کے لیے اپنے بھائی کی خیر خواہی میں اس سے بھی زیادہ بڑھ جاؤ۔ اس سلسلہ میں حدیثِ احسان، جوکہ حدیث جبرئیل (ع) کے نام سے بہت مشہور ہے۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے حضور(ص) سے فرمایا کہً نماز ایسی پڑھو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو ورنہ ایسی تو ضرور پڑھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے “ اور اسی بات کو مختصر کرنے کے لیے حضور (ص) نے ایک بدو کو اسکے اس سوال کے جواب میں کہ “ حضور(ص) میں بہت ہی جاہل آدمی ہوں! مجھے اسلام کی ساری ہدایات تو یاد نہیں رہ سکتیں مجھے کوئی ایسی مختصر سی بات بتا دیں کہ جس پر میں کر عمل سکوں؟ حضور (ص) فرمایا کہ “ تم خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو ،نماز پڑھو اور صلہ رحمی کرو “ ایک دوسری حدیث میں“ حقوق العباد“ بھی ہے۔ یہاں بھی وہی بات ہے۔ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جو تقوے پرقائم ہو ۔ جیسا کہ حضور(ص) نے مدینہ منورہ میں قائم کر کے تمام دنیا کو دکھا یا۔ جوکہ کسی اور نبی نے اس سے پہلے ایسا کرکے نہیں دکھایا! جس کی مثال مدینہ منورہ میں انصار اور مہاجروں کے درمیان مواخاۃہے کہ ہر ایک نے اپنی نصف جائیداد اپنے مہاجر بھائی کو حضور(ص) کے حکم پر دیدی اور پھر حضور(ص) نے یہ بھی حکم دیا کہ ا نہیں کھیتی باڑی نہیں آتی ہےلہذا فصل کی کاشت اور نگہداشت بھی تم ہی کرو، اورا نہیں نصف پیداواردیدو اس لیے کہ تمہارے ان مکی بھائیوں کو کھیتی باڑی نہیں آتی۔ اور وہ اس پر بھی تیار ہو گئے۔ اور بعد تاریخ نے یہ نطارہ بھی دیکھا کہ کئی مجاہد پانی کے لئے غزوہ احد میں تڑپ رہے تھے اور قریب المرگ تھے۔ لیکن پانی پلانے والا جس کے پاس بھی گیااس نے اپنے برابر وا لے کوترجیح دی اور کہا کہ پہلے اس کو پلاؤ۔ نتیجہ ہو کہ ایک کے بعد دوسرا پیاسا شہید ہوتا رہا ان کی غیرت نے یہ گوارہ کیا کہ پہلے وہ پانی پی لے۔ یہ ہیں احسان کے وہ معنی جو اسلام ہرمسلمان کے اندر دیکھنا چاہتا ہے۔ جس سے مسلمان آج میلوں دور ہیں۔یہ کمال ہے ان دولفظوں کا۔ اگر ابھی آپ معنی نہیں سمجھے تو میں اردو میں مزید آپ کو سمجھا دیتا ہوں کہ آپ جس صفت کےساتھ حسن کا اضافہ کردیں جو کہ احسان کی جڑ ہے تو وہ ہر ادنی صفت منزل اعلیٰ تک پہونچ جاتی ہے۔ مثلاً حس تحریر حسنِ تحیر یر ، حسنِ تقریر ، حسن تعمیر۔ حسنِ اخلاق ، حسنِ حکمرانی اور حسن ِ تقدیر اور حسن ِ معاشرہ وغیرہ ، وغیرہ۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY