ماہ رمضان کی تیسری سحری کے دوران شہر قائد میں ہونے والے بریک ڈاؤن کے بعد کمشنر کراچی اعجاز احمد نے کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لے لیا۔
خیال رہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے بریک ڈاؤن کے بعد ناظم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، کورنگی، لائنز ایریا، نیو کراچی، صفورہ اور سائٹ سمیت کراچی کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔
کمشنر کراچی نے صورتحال پر نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک انتظامیہ کو 11.30 بجے اپنے دفتر میں طلب کرلیا۔
کمشنر کراچی اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ ‘کے الیکٹرک وضاحت کرے اور صورتحال بہتر بنائے’۔
واضح رہے کہ گذشتہ شب بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی بندش کے سبب شہریوں کو ماہ رمضان کی تیسری سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑی تھی۔
دوسری جانب ترجمان کے-الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ایکسٹرا ہائی ٹینشن کی تاروں کے ٹرپ کرجانے کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا، جس سے شہر کے ’کچھ حصے‘ میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
کے الیکٹرک انتظامیہ کے مطابق بجلی کی بندش کا شکار ہونے والے علاقوں میں پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال اور ناظم آباد شامل تھے۔
تاہم 10 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد بھی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ہونے والی خرابی کا کام مکمل نہ کیا جاسکا جس کی وجہ سے کراچی کے 4 گرڈ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی اب بھی متاثر ہے۔
ترجمان کے الکٹرک کے مطابق لوڈمینجمنٹ کے تحت کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی بند کی جارہی ہے جبکہ تکنیکی خرابی دور کرنے کے لیے عملہ موجود، اور متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔












