دوستی صرف دوستی کی شرط پر ممتازملک. پیرس

0
71

کچھ روز قبل ایک بھارتی دوست سے اس کی پوسٹ پر پاکستانی سرحد کو (ان کے حسب عادت ) غلطی کہنے پر کہا سنی ہوئی جسے انہوں نے ہمارا غصہ اور تابڑ توڑ جوابات دیکھتے ہوئے مذاق قرار دینے کی کوشش کی کیونکہ ہم نے ان کے ملک کی خوبیاں بھی گنوانی شروع کر دی تھیں جس کے جوابات آپ بھی ملاحظہ فرمائیے ….
آپ میرے ملک پر بہتان لگائیں تو وہ آپ کی تفنن طبع اور میں آپ کو آپ کے ملک کا آئینہ دکھاؤں تو میری بدتہذیبی واہ واہ واہ
کمال کا ذوق ہے آپ بھارتیوں کا بھی . ….
چھرا گھونپ کر مزا لینا آپ پر ختم ہے …
لیکن پھر سے کہہ رہی ہوں پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی سے باز رہیئے . اور ایسا نہیں کر سکتے تو میری فرینڈ لسٹ چھوڑ جایئے . بیحد احترام کیساتھ
آپ کو افسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی گائے کا پیشاب اور موت ملا گندم چاول کھانے کے لیئے آپ کو کمپنی نہیں سے رہے …
یا
زندہ رہنے کے لیئے ہندووں سے ناجائز تعلقات کے لآئیے وہاں آپ کیساتھ مقیم کیوں نہیں ہیں …
گائے کا گوشت کھانے کے بدلے اپنے جوان ذبح کرانے کے لیئے آپ کیساتھ موجود نہیں ہیں ….
جہاں ان کی داڑھیاں نوچی جاتی ہیں ان میں ہمارے پاکستانی بزرگ کیوں نہیں ہیں ….
ایک بھنگن کی ملازمت کے للیئے اسے اپنا مسلم نام اور حلیہ بدلنا ہڑ جائے ….
نامور ہو بھی جائے تو میاں بیوی دونوں ہی ممسلمان ہیں تو کروڑوں روپیہ جیب میں ڈال کر بھی کسی اچھی سوسائٹی میں گھر نہیں خرید سکتے. ….
یہ ساری ترقیاں اور آذادیاں آپ کو مبارک ہوں .
خبردار اگر پاکستان پر کوئی غلط بات کی .
تقسیم کی یہ لکیر ہمارے اجداد نے اپنی عزتوں اور جانوں کے نذرانے دیکر ہماری حفاظت میں کھڑی کی ہے .
اس پر کوئی مذاق نہیں ….
سمجھے آپ …
آج بھارتی مسلمانوں کے حالات کو دیکھ کر پاکستانی اور خاص طورہر وہ پاکستانی جو ایک ادھ بار ہندوستان گھوم آئے ہیں وہ کروڑہا بار اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ہاکستان میں رہتے ہیں . ویسے بھی آج سے سو سال پہلے جن کروڑوں لوگوں نے اس علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا وہ سب نہ بے عقل تھے نہ ہی پاگل…
بلکہ وہ یہ بات بہت اچھی طرح جان چکے تھے کہ انہیں اس سرزمین کے حصول کے لیئے اپنی ایک نسل قربان کرنی ہی پڑے گی .
الحمداللہ وہ اس میں سرخرو ہوئے …
ہاں اگر یہ تقسیم پرامن ہو جاتی, بنا خون خرابے کے اور آج بھارت میں ,کشمیر میں مسلمان بہترین حیثیت میں زندگی گزار رہے ہوتے تو اس بات کا ہزار فیصد امکان ہوتا کہ کہ یہ سرحد دیوار برلن ہی ثابت ہوتی …
لیکن ایسا نہیں ہوا اور مارے اجداد سچے ثابت ہو گئے تو اب یہ لکیر ہارے ایمان کا بھی حصہ بن چکی ہے.
اس خونی تقسیم کی وہ فلمیں اور ہماری تاریخ آج بھی ہمیں اس زمانے کے بھیانک ظلم و ستم کے ہر درد سے آشنا کر جاتی ہے .جو ظلم وستم ہمارے اجداد کیساتھ ہوا اسے بھول جانا ہمارے اختیار میں نہیں . اور جب کوئی بھارتی یہ دعوی کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ بھی مسلمانوں نے پاکستان سے آتے ہوئے ظلم کیا تو وہ اس بات کا اور اپنی طرف آنے والے کوئی انسانی کٹی ہوئی ٹرین آج تک کیوں پیش نہ کر سکا ؟
ضرور ان کیساتھ بھی کچھ نہ کچھ تو ہوا ہی ہو گا مگر وہ ہندووں سکھوں کے ہاتھوں ہونے والے وحشیانہ مسلم کشی اور آبرو ریزی کے واقعات کے سامنے وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک مچھر کسی ڈائناسور کے سامنے رکھتا ہے .
اسی لیئے جب کوئی بھارتی ہماری سرحد پر بات کرتا ہے یا اسے کوئی غلطی قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سیدھا ہمارے دل پر،
ہماری غیرت پر وار کرتا ہے .
اور ہمارے آج کے اچھے تعلقات میں کھٹاس پیدا کر دیتا ہے .اس لیئے کسی بھی پاکستانی سے بات کرتے ہوئے ہر طرح کے ہندوپاک کے معاملات پر کھلے دل سے بات کیجیئے .
لیکن پاکستان کو یا پاکستانی سرحد کو غلطی کہنے سے احتراز کیجیئے گا .
ہم کچھ بھی کہیں کتنا بھی مماثلت گنواتے پھریں مگر سچ یہ ہے کہ
بھارتی اور پاکستانی ہر طرح سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں .
ہمارے لباس , ہمارا فیشن ،میک اپ کرنے کا انداز ،بات کرنے کا طریقہ.، پاکی , پلیدی، پسند ناپسند ، ہمارے پکوان، سوچ بچار، رہن سہن ،مہمانداری، الفاظ کا چناو ،لب و لہجہ، شکل صورتیں ، .. ……
سب کچھ ایک دوسرے سے جدا ہے . اور یہ میرا جذباتی بیان ہر گز نہیں ہے . آپ بھی جذبات کی عینک اتار کر ان پر غور کیجیئے گا . پھر حلفا ببائیئے گا کہ واقعی ایسا ہی ہے کہ نہیں . ..
یورپ میں بھی جن غیر ملکیوں کی ہم پاکستانیوں سے جب سے اور جن لوگوں کی ملاقات زیادہ ہوئی یا پاس آنے کا موقع ملا وہ اب برملا بات خود کہتے ہیں کہ بھارتی اور پاکستانی میں واضح فرق وہ یقین کیساتھ اب بتا سکتے ہیں . …
تو پھر یاد رکھیئے کہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام دوستی کی پہلی شرط ہوتا ہے جناب .ورنہ وہ دوستی نہیں صرف دھوکا ہوتا ہے
جزاک اللہ خیر
ممتازملک

SHARE

LEAVE A REPLY