چارلس سوم برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے

0
1245

بادشاہ چارلس14 نومبر 1948کو پیداہوئے، انہیں 1969 میں باقاعدہ طور پر پرنس آف ویلز بنایا گیا۔

بادشاہ چارلس نے فوجی خدمات بھی انجام دیں ہیں۔ انہوں نے پہلی شادی 1981میں آنجہانی پرنسس آف ویلز ڈیانا سےکی تھی۔

بادشاہ چارلس کمیلا پارکر کے ساتھ 2005 میں رشتہ ازداوج میں منسلک ہوئے۔

بادشاہ چارلس کے دو بیٹے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری ہیں۔

بادشاہ چارلس کے بیٹے شہزادہ ولیم کو اب پرنس آف ویلز کا اعزاز عطا کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چارلس گزشتہ سال ستمبر میں ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد بادشاہ بن گئے تھے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بالآخر برطانیہ کے بادشاہ بن گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق شہزادہ چارلس نے بادشاہ بننے کے لیے 70 برس انتظار کیا جو کسی بھی جانشین کا برطانوی تاریخ میں عہدہ ملنے کے لیے طویل ترین انتظار ہے۔

اُن کے لیے یہ کردار ایک مشکل کام بھی ہوگا۔ اُن کی آنجہانی والدہ بہت زیادہ مقبول تھیں اور اُن کا احترام کیا جاتا تھا لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایک ایسا شاہی خاندان چھوڑا ہے جس کی ساکھ داغدار اور تعلقات میں تناؤ ہے۔
ان میں سے ایک بکنگھم پیلس پر نسل پرستی کے طویل عرصے سے لگائے جانے والے الزامات بھی ہیں۔
برطانیہ کی گزشتہ ایک ہزار برس کی تاریخ میں شاہ چارلس سوئم 73 برس کی عمر میں تاج سر پر رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ شخصیت ہوں گے۔ اُن کے ساتھ دوسری اہلیہ کمیلا ہیں جن کے بارے میں برطانوی عوام کی رائے منقسم ہے۔
ناقدین کے مطابق نئے بادشاہ کمزور، بے کار اور اس کردار کی خومختاری کے حوالے سے کم صلاحیت کے حامل ہیں۔
اُن کی ماحولیات اور تعمیرات میں گہری دلچسپی کا مذاق اڑایا گیا۔ آنجہانی شہزادی ڈیانا سے ناکام ہونے والی پہلی شادی بھی شاہ چارلس سوئم سے ہمیشہ منسلک رہے گی۔

اُن کے حامی کہتے ہیں کہ ’چارلس کے اچھے کاموں کو نظرانداز کر کے اُن کو سمجھا ہی نہیں گیا اور یہ کہ وہ اپنے وقت سے آگے کی سوچ رکھتے ہیں اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں حساس ہیں۔‘
شاہ چارلس سوئم کے حامیوں کا استدلال ہے کہ وہ تمام برادریوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
ان کے پرنس ٹرسٹ چیریٹی نے تقریباً 50 سال قبل اپنے آغاز کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ بے روزگار اور پسماندہ نوجوانوں کی مدد کی ہے۔
انہوں نے ایک بار ایک ٹی وی کی دستاویزی فلم میں بتایا تھا کہ مصیبت یہ ہے کہ ’آپ ناکام ہو رہے ہیں اور اگر آپ کچھ نہیں کرتے تب لوگ شکایت کرتے ہیں۔ اگر آپ مدد کی کوشش کرتے ہوئے پھنس جاتے ہیں تب بھی وہ شکایت کرتے ہیں۔‘

اپنی پوری زندگی کے دوران چارلس ایک جدید طرز کی بادشاہت اور ایک تیزی سے بدلتے ہوئے اور زیادہ مساوی معاشرے کے درمیان پھنسے رہے جہاں شاہی روایات اور بادشاہت کے ادارے کی کشش کو بھی برقرار رکھنا ہے۔

بادشاہ کو کیا پکارا جائے گا؟

نئے برطانوی بادشاہ کے دادا جارج پنجم کے نام کا پہلا حصہ البرٹ تھا لیکن انھوں نے اپنے نام کے درمیانی حصے کا انتخاب کیا تھا۔ چارلس کے لیے بھی پہلا کام اپنے لیے ایک نام کا انتخاب ہے اور انھوں نے اپنے لیے شاہ چارلس سوئم کا نام منتخب کیا ہے۔

چارلس اپنے ٹائٹل میں تبدیلی کا سامنا کرنے والی واحد شخصیت نہیں۔ ان کے جانشین شہزادہ ولیم خود بخود اب پرنس آف ویلز تو نہیں بن جائیں گے تاہم انھیں اپنے والد کا دوسرا خطاب ڈیوک آف کارنویل ضرور مل گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کیتھرین اب ڈچز آف کارنویل کہلائیں گی۔

چارلس کی اہلیہ کا نیا ٹائٹل ’کوئین کونسورٹ‘ ہو گا۔ کونسورٹ وہ اصطلاح ہے جو بادشاہ کی شریکِ حیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے

برطانوی بادشاہ یا ملکہ اپنے دور کے آغاز پر ویسے حلف نہیں اٹھاتا جیسے عموماً دیگر سربراہانِ ممالک مثلاً امریکی صدر اٹھاتے ہیں بلکہ نئے بادشاہ کی جانب سے ایک اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ چرچ آف سکاٹ لینڈ کا تحفظ کرے گا۔ اس اعلان کی روایت 18ویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔

اس کے بعد نقاروں کی گونج میں چارلس کو برطانیہ کا نیا بادشاہ قرار دیا جائے گا۔ یہ اعلان سینٹ جیمز پیلس کی فریری کورٹ پر واقع بالکونی سے کیا جائے گا اور یہ اعلان گارٹر کنگ آف آرمز نامی عہدیدار کرے گا۔

1px transparent line

وہ کہے گا، ’خدا بادشاہ کی حفاظت کرے‘ اور 1952 کے بعد پہلی مرتبہ جب برطانیہ کا قومی ترانہ بجے گا تو الفاظ ’گاڈ سیو دی کنگ‘ ہوں گے۔

اس کے بعد ہائیڈ پارک، ٹاور آف لندن اور بحری جہازوں سے توپوں کی سلامی دی جائے گی اور چارلس کی بادشاہت کا اعلان ایڈنبرا، کارڈف اور بیلفاسٹ میں پڑھ کر سنایا جائے گا۔

تاجپوشی

تخت نشینی کا سب سے اہم لمحہ تاجپوشی کا ہو گا جب چارلس کو باقاعدہ تاج پہنایا جائے گا۔ اس تقریب کی تیاری کے لیے وقت درکار ہو گا اس لیے یہ چارلس کی تخت نشینی کے فوراً بعد ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ملکہ الزبتھ نے فروری 1952 میں تخت سنبھالا تھا لیکن ان کی تاجپوشی کی تقریب جون 1953 میں منعقد ہوئی تھی۔

900 برس سے تاجپوشی کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہوتی آئی ہے۔ ولیم دا کنکرر وہاں تاج پہننے والے پہلے بادشاہ تھے جبکہ چارلس ایسا کرنے والے 40ویں بادشاہ ہوں گے۔

یہ ایک اینگلیکن مذہبی تقریب ہے جسے آرچ بشپ آف کنٹربری سرانجام دیتے ہیں۔ یہ تقریب اپنے عروج پر اس وقت پہنچے گی جب وہ سینٹ ایڈورڈ کا تاج چارلس کے سر پر رکھیں گے۔ ٹھوس سونے کا یہ تاج 1661 میں تیار کیا گیا تھا۔

تقریباً سوا دو کلو وزنی یہ تاج ٹاور آف لندن میں رکھے گئے شاہی جواہرات اور زیورات کا حصہ ہے اور اسے کوئی بھی بادشاہ صرف اپنی تاجپوشی کے وقت ہی پہنتا ہے۔

شاہی شادیوں کے برعکس تخت نشینی ایک سرکاری تقریب ہوتی ہے۔ اس کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے اور وہی مہمانوں کی فہرست بھی مرتب کرتی ہے۔

Royal Family on Balcony at Buckingham Palace, London, pictured after Coronation, 2nd June 1953.

1px transparent line

اس تقریب میں موسیقی بھی ہو گی اور شاعری بھی اور نئے بادشاہ کو سنگترے، گلاب، دارچینی، مشک اور عنبر کے تیل لگا کر روایتی رسم ادا کی جائے گی۔

نیا بادشاہ دنیا کے سامنے تخت نشینی کا حلف لے گا۔ اس شاندار تقریب میں اسے اپنے نئے عہدے کی نشانیاں ’اورب‘ اور ’سیپٹر‘ دیے جائیں گے اور آرچ بشپ آف کنٹربری ان کے سر پر ٹھوس سونے کا تاج رکھیں گے۔

دولتِ مشترکہ کے سربراہ

چارلس دولتِ مشترکہ کے بھی سربراہ بن گئے ہیں جو کہ 56 خودمختار ممالک کی تنظیم ہے۔ چارلس ان میں سے 14 ممالک جن میں برطانیہ بھی شامل ہیں، کے آج بھی سربراہِ مملکت ہیں۔

ان ممالک میں آسٹریلیا، اینٹیکا اور باربوڈا، بہاماس، بلیز، کینیڈا، گرینیڈا، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ کرسٹوفر اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈئنز، نیوزی لینڈ، جزائر سولومن اور ٹوالو شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY