فلسطین کے ایک سرکردہ عیسائی مذہبی رہ نما اور اسلامی مسیحی مقدسات کے دفاع کے لیے قائم کردہ فلسطینی کمیٹی کے رکن مانویل مسلم نے فلسطینی قوم کی ’حق واپسی‘ کے لیے جاری تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی حق واپسی کی تحریک میں فلسطین کی عیسائی اور مسلمان برادری ایک صف میں کھڑی ہیں۔

عیسائی پادری مانویل مسلم نے ان خیالات کا اظہار ’مرکزاطلاعات فلسطین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی حق واپسی کے لیے مزاحمت، بات چیت اور اس کے ساتھ وابستگی ترک کریں گے تو ان کا یہ دیرینہ حق ان سے چھین لیا جائے گا۔

غزہ میں قائم ’اللاتین چرچ‘ کے سابق بشپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطینیوں کی عظیم الشان حق واپسی تحریک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین کے خلاف سازشوں کا جواب اور ٹرمپ کے منہ پر طمانچہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کوئی نئی تحریک شروع نہیں کر رہی ہے بلکہ فلسطینی 70 سال سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے اور جنگ لڑ رہےہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فلسطینیوں نے مزاحمت ترک کی تو وہ اپنے حق واپسی سے محروم ہو جائیں گے۔

امانویل مسلم نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی فلسطینی قوم کو اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کی ترغیب دیتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسا کرتے رہیں گے۔ فلسطینیوں کو جہاں جہاں سے نکالا گیا انہیں واپس وہاں آباد ہونے کا حق ہے۔ وقت گذرنے سے کسی قوم کا حق ساقط نہیں ہو سکتا۔

فلسطینی مظاہرین کے لیے پیغام
انہوں نے واپسی مارچ کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ’القدس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھا کر چلو۔ القدس کے لیے نعرے لگاؤ اور کہا کہ اے القدس تیرے بیٹے تیری طرف آ رہے ہیں۔ ہماری تمام قوتیں، عقل، جبروت، مزاحمت اے القدس تیرے لیے ہے۔ ہم تیری طرف آ رہے ہیں کیونکہ تو فلسطینیوں کا وطن ہے اور ہم تیری قوم ہیں‘۔

انہوں نے واپسی مارچ میں شریک تمام شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے ان علاقوں، شہروں اور قصوبوں پر نظر رکھیں جہاں سے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو نکالا گیا ہے۔ جسے السوافیر سے نکالا گیا وہ اسے یاد کرے، بئر سبع کا وہاں جانے کی جدو جہد کرے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب فلسطینی قوم اپنے حق واپسی اور دیگر تمام حقوق سے بہرہ مند ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں عیسائی رہ نما نے کہا کہ میں بھی اپنے شہر میں واپس لوٹوں گا، میں نہیں تو میرے بچے، میرے بچوں کے بچے واپس جائیں گے، حیفا، یافا، اللد اور الرملہ کو آباد کریں گے۔

فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کےاستعمال پر بات کرتے ہوئے امانویل مسلم نے کہا کہ ہمیں صہیونی دشمن سے کوئی خوف نہیں۔ دشمن نے حق واپسی کا مطالبہ کرنے والے ہمارے کئی بیٹے شہید کر دیے۔ دشمن کو ہم سے ڈرنا ہوگا۔ فلسطینی اپنے اوپر ڈھائے مظالم کا بدلہ ضرور لگے اور شہداء کی قربانیوں اور خون کر رائے گاں نہیں جانے دے گی۔

صہیونی قاتلوں اور امریکیوں سے خائف نہیں
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں کو  فلسطینیوں کا خون بہانے سے ڈرنا چاہیے۔ ہم غلامی کے لیے پیدا نہیں ہوئے مگر صہیونیوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔

عیسائی پادری کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم اپنے حقوق طاقت سے حاصل کریں گے۔ صہیونی ریاست قابض اور غاصب ہے جسے فلسطینی سرزمین کے ایک ذرے پر بھی کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جواسرائیل کے ساتھ تعاون کرتا ہے اسے باز آنا چاہیے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ امریکی صدر اسرائیل کے لیے امریکی قانون سے کھیل رہےہیں۔ وہ خود ہی امریکی قانون کا احترام نہیں کرتے بلکہ اسرائیل کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ دہشت گرد ہے۔ انہوں نے امریکیوں اور صہیونیوں کو للکارا اور کہا کہ آؤ مجھے ذبح کرو میں تم سے ڈرنے والا نہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین

SHARE

LEAVE A REPLY