سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ زرداری بچ نہیں سکتے، سینیٹ والا کھیل اب اسمبلی میں کھیلنے کی کوشش ہو رہی ہے،سندھ اور پختونخوا والے پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں، کارکنوں گھبرانا نہیں، مشکلات کے خلاف نہ اٹھوں تو کیا کروں، یقیناً مشکلات میں گھرا ہوا ہوں، ہوسکتا ہے سزا ہوجائے، ایک کے بعد دوسرے مقدمے میں پھنسانے کی تیاری ہے، جس کی تھوڑی بہت بھی عزت ہو وہ ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا،اب اس سے زیادہ کیا ہوگا،فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں اور فیصلہ کرلیا ہےکہ ان ہتھکنڈوں کے آگے نہیں جھکوں گا۔ اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں نے صرف اور صرف پاکستان کے لئے کام کیا تھا، اس بات کی خوشی ہے کہ ہم دن رات پاکستان کی خدمت کررہے تھے، 2018 کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے کتنا مختلف ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ معاملات اور مسائل کو ٹھیک کرنا ہے، زرداری صاحب نے دہشت گردی کے خلاف کام کیوں نہیں کیا؟ زرداری
صاحب ڈرتے تھے اس لیے دہشت گردی کے خلاف کام نہیں کیا، 2013 میں لوگ ڈرے ہوئے ہوتے تھے، دہشت گردی کے اسباب کیا تھے،کیسے دہشت گردی نے پاکستان میں قدم جمائے، اس کے خلاف جنگ سے قبل ہم نے کراچی آپریشن کا فیصلہ کیا، ستمبر 2013 میں کراچی کے بارے میں فیصلہ کیا اور میں خودکراچی گیا۔ عزم کرلیا تھا کہ کراچی کی حالت بہتر کریں گے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو 10 سال ہونے کو ہیں، پوچھتا ہوں پیپلزپارٹی کی حکومت نے خود کراچی آپریشن کا فیصلہ کیوں نہیں کیا۔ نوازشریف نے عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ آپ قوم کو دھوکا دے رہے ہیں، آپ کہہ رہے تھے نیاپاکستان بنائیں گے، کیا نیا پاکستان جھوٹ اور منافقت سے بنتا ہے، سندھ والوں سے کہتا ہوں کہ پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں۔انہوں نے کہازرداری صاحب آپ پر بھی ملک کو اندھیرے میں دھکیلنے کا الزام ہے، کیا سرخاب کے پرہمیں ہی لگے ہوئے ہیں کہ مسلم لیگ آئے گی اور اندھیرے ختم کریگی۔ نوازشریف نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں، فیصلہ کرلیا ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا، اگر آپ میرا ساتھ دوگے تو لازماً یہ جنگ جیتیں گے، اگر ہم پیچھے ہٹے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، 70 سالہ تاریخ کو نیا رخ دینے کا وقت آگیا ہے، ہمارے اگلے 70 سال پچھلے جیسے نہیں ہونے چاہئیں ۔ بہت پر امید ہوں، عوام دل و جان سے ساتھ دیں گے، ہمیں اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، عوام آگے بڑھنے کے لیےتیار ہیں، اب وقت وہ نہیں رہا جو ہوا کرتا تھا اب جو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یقیناً مشکلات میں ہوں، اب فیصلے کا وقت آگیا ہے، تھوڑی بہت عزت والا بھی ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا، اب اس سے زیادہ کیا ہوگا، ممکن ہے ایسا کوئی فیصلہ سنادیں اور مجھے سزا سنادیں، لیکن میں گھبراتا نہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ جھکنے کا فیصلہ کر چکا ،پیچھے ہٹا تو تاریخ معاف نہیں کریگی، سزا ہوئی تو کارکنوں نے گھبرانا نہیں ہے، بچ زرداری بھی نہیں سکیں گے، سندھ اور پختونخوا والے پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں ۔ ہمارے ایجنڈے کو دس بیس سال مل جائیں تو ملک کی تصو یر بدل سکتی ہے، ایک نیا پاکستان بن جاتا لیکن یہاں کام کرنے کون دیتا ہے، ٹانگیں کھینچنے والے کھینچتے رہے، نوازشریف نے کہا کہ ’یہ مصنوعی فیصلہ ہورہا ہے، اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں، جو اس طرح کے فیصلے دے رہے ہیں وہ پچھتائیں گے کیونکہ یہ پاکستان کےمفاد میں نہیں ہے، 70 سالوں میں یہی کچھ ملک میں دیکھا، کسی ہمسایہ ملک میں اس طرح کے مناظر نہیں دیکھے، بنگلا دیش میں بھی یہ مناظر نظر نہیں آتے، ہماری کہانی بہت دکھی افسوسناک ہے، دعا ہے خدا ہمارا مستقبل اچھا کرے۔
سینیٹ والا کھیل اب اسمبلی میں کھیلنے کی کوشش ہورہی ہے، نواز شریف
616
0












