گرمی میں باہر نکلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا،انتخاب۔شاہین رضوی

0
1308
  انڈیا و پاکستان کے تمام بڑے شہر 2030 تک دنیا کے گرم ترین شہر بن جائیں گے۔ اور اس کے نتیجے میں 500 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہو نگے۔
انڈیا اور پاکستان رفتہ رفتہ گرمیوں میں باہر نا نکلنے کے قابل ملک بن جائیں گے۔ 2050 تک یہاں گرمی میں باہر نکلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
کلائمیٹ چینج رئیل ہے۔ لیکن، اس کو حل کرنے کی باتیں کرنے والے احمق ہیں، کیوں کہ درخت لگانے سے یہ ایک دم ریورس نہیں ہوگی۔
کلائمیٹ چینج کا واحد حل کاربن امشنز کو صفر کرنا ہے، جو کہ تب ہی ممکن ہے جب ہم گھٹیا وہیکلز پہ پابندی لگا کر بس جدید وہیکلز کو چلنے دیں گے۔ فاسل فیولز کا استعمال بالکل ختم کر دیں گے۔ انڈسٹریزی کو زیرو کاربن ڈائی آکسائڈ پہ شفٹ کر دیں گے تب ایسا ممکن ہے۔
یاد رہے! کوئلے پہ چلنے والے پاور پلانٹس کا گرمی کی اس شدید لہر میں بڑا کردار ہے۔
اوپر بتائی گئی چیزوں کے علاوہ شہروں کے بے ہنگم کنکریٹ کے جنگل ختم کر دیں گے۔ اگر ایسا کریں تب کلائیمیٹ چینج ریورس ہو سکتی ہے۔
جو کہ انڈیا اور پاکستان میں تقریبا نا ممکن ہے۔
جبکہ اس وقت زمین کی انٹروپی کے لحاظ سے اگر آج ہم کاربن امشنز کو صفر کریں تو اگلے دس سال بعد اس کے نتائج سامنے آئیں گے پہلے نہیں۔
سو سمجھ لیں کہ کلائیمیٹ چینج کی جنگ میں ابھی تک تو ہم کلئیر کٹ ہار رہے ہیں۔ مستقبل کا کوئی پتا نہیں۔

انتخاب۔شاہین رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY