اسلام اورحقوق لعباد(39) شمس جیلانی

0
91

ہم گزشتہ مضمون میں ہمسا یہ کے حقوق پر بات کرتے ہوئے یہاں تک پہونچے تھے کہ حضور(ص) کو گماں ہوا کہ شاید جبرائیل (ع) کسی دن ہمسایوں کے وراثت میں حصہ کا حکم نہ لے کر آ جائیں؟ مگ پڑوسیوں کو ہر طرح کی مراعات دینے کے بعد معاملہ یہاں آکر رک گیا۔ اور حضور(ص) کےاس فرمان پرآکر تمام ہوا کہ“ وہ مسلمان ہی نہیں جس کے شر سے اس کاپڑوسی محفوظ نہیں“ پھراس کے نتیجہ میں وہ معاشرہ بنا کہ جومکان کسی مسلمان کے قریب ہو تا تھا تو غیر مسلم وہاں رہنا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ مثل جنت کے ہو جاتا تھا؟ مگر اب معاملہ برعکس ہےکہ اپنے علاقوں اور ممالک میں مسلمان جو اپنے کردار سے ااپنی عملی تصویر پیش کررہے ہیں آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ انہیں اپنے علاقے میں غیر بسنے دیتے ہیں نہ ان کے علاقے میں رہنا پسند کرتے ہیں؟ کیونکہ اس سے ان کی جائداد کی قیمت گرجاتی ہے۔ یہ بڑا تفاوت دو ادوار میں آخر کیوں ؟ اس کا جواب ایک ہےکہ مسلمانوں نے خوداسلام کو چھوڑ دیا ۔ صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔ چند دن پہلے ہم نے ایک ویو سائٹ پر سوال دیکھا اور اس کا جواب پڑھا تو ہم سر پیٹ کر رہ گئے، سوال یہ تھا کہ میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں ا نٹر نیٹ لے سکوں اس لیے میں مجبور ہوں کہ میں ہمسایوں کا انٹر نیٹ استعمال کروں؟ اس کا ان مفتی صاحب نے جو جواب دیا کہ ضروریات زندگی میں سے اگر کوئی چیز مثلاً آگ ، پانی ، ہوا اور سایہ کچھ بھی ہو تو ہمسایہ سے جازت لیے بغیر بھی وہ انتفاع (استعمال) کرسکتا ہے بشرطِ کہ ہمسایہ کو کوئی نقصان نہ پہونچے ۔ اسی کلیہ کو بطور نظیر پیش کرتے ہوئے یہ فرمادیا کہ پڑوسی کاانٹر نیٹ اور وائی فائی بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ اگر انہوں نے سائنس پڑھی ہوتی تو انہیں اس کا علم ضرور ہوتا کہ اس میں بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اوروہ ایسا فتویٰ کبھی نہ دیتے؟ اس جواب سے تو کہیں بہتر تھا جیسا کہ باب العلم حضرت علی کرم ا للہ وجہہ کاقول ہے کہ اگر کسی کو پوری معلومات نہ ہوں تو یہ کہدینا نصف علم ہے کہ مجھے نہیں معلوم۔ یا کسی اورسے پوچھ کر بتاتے جوسائنس جانتا ہو؟ یہ اس دور کی بہترین چیز تھی کہ جب ہمسایوں کی اس قسم کی سہولت میں ہمسایہ شریک ہو جاتے تھے اس سے ایک دوسرے کو نہ پریشانی لاحق ہو تی تھی نہ تکلیف پہونچتی تھی نہ کسی قسم کا کوئی خطرہ تھا جبکہ آج تو اتنے مسائل ہیں کہ خدا کی پناہ؟ اس زمانے کہ دیئے ہو ئے فتؤوں کو مثال بنا نا قطعی مناسب نہیں ہے۔کیونکہ یہ فقہی مسائل ہیں اور ن میں سے بہت سوں کی قرآن اور سنت میں میں کوئی نظیر موجود نہ ہو نے کی وجہ سے جتہاد ضروری ہے جس کے لیے ایسے علماء کی ایک کونسل ہو جوکہ علوم جدید پر بھی عبور رکھتی ہو۔ جبکہ یہ مسئلہ اب پرانا ہو گیا۔ اس کی اس وقت بہت ااہمیت تھی جب ماچس تک ایجاد نہیں ہوئی تھی ہمسایہ ان میں سے کسی چیز میں سے کچھ بھی فراہم کرنا ثواب سمجھتے تھے۔ مثلاً آگ کو ہی ہم نے خود اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کہ یہاں مانگنے آتے تھے۔ اور اس کو کوئی منع نہیں کرتا تھا ؟بلکہ ۔وہ آگ کی چنگاری اپنے یہاں بجھنے نہیں دیتے تھے۔ راکھ میں دبا کہ رکھتے تھے۔ہوا میں شریک ہونے کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ کسی کے درخت کی نیچے ہمسایوں کے ساتھ ملکر بیٹھ جا تے یاسردیوں میں آگ کا الاؤ جلاکر اور سب چاروں بیٹھ جاتے تھے ۔یا کسی باغ میں جاکر سوجاتے تھے۔پانی لوگ اجتماعی طور پر بھرنے جاتے تھے۔ مگر اب یہ سب چیزیں قصہ پارینہ ہو گئیں ۔ دنیا بہت آگے نکل گئی؟ اگر کسی نے روشنی کے لیے باہر لالٹین یا کسی قسم کی مشعل لگادی ہوتی یا میونسپلٹی کی لاٹینوں کے نچے بیٹھ کر رات کو پڑھتے تھے۔ دیہاتوں میں دودھ فروخت کرنا گناہ سمجھتے تھے اور جس کے پاس دودھ کاجانور ہوتا تھا وہ اوروں کو دودھ روزانہ مفت دیتے تھے۔ اسی طرح تقریبات میں دہی کے لیے جن کے یہاں دودھ کا جانور ہوتا تھا ان کے یہاں اپنے برتن رکھ آتے تھے کہ جو دودھ بچے اس میں ڈالدیا کروہمیں چاہیے ہوگا۔ اور یہ کام امداد باہمی کے اصولوں پر لوگ خوشی سے کرتے تھے۔ جن کے پاس بہت سے جانور ہوتے تھے وہ جانور ہی اسے دیدیتے تھے کہ اس کو کھلاؤ، پلاؤ اور دودھ کی جب ضرورت نہ رہے یا دودھ دینا بند کردے تو ہمیں واپس کردینا ۔ چونکہ مسلمان اس وقت پکے مسلمان تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کا پڑوس جنت تھا؟ جب سے دورِ سرمایہ داری شروع ہوا قناعت رخصت ہو ئی۔ پھر ہر ایک پر لالچ غالب آگیا اب پاکستان میں سو روپیہ کلودودھ کے نام پر کوئی چیز بکتی ہے خالص دودھ ناپید ہے۔ ہر ایک مال بنانے کے چکر میں ہے اب کون قربانی دیکرآخرت بنانا پسند کرتا ہے؟ پھر کیسے وہ معاشرہ زندہ رہ سکتا تھا۔ لیکن اب جو ایسا کریگا وہ اپنی انفرادیت سے لوگوں میں ولیوں کا مقام حااصل کرلے گا۔اور یقیناً اس کے پڑوس میں دوسرےلوگ رہنا پسند کریں گے اورانکی جائداد کی قیمت بھی بڑھ جائے گی کہ دین ساتھ دنیا خود بخود ملتی ہے ،مگر دنیا کے ساتھ دین خود نہیں ملتا؟ ایسا مسلمان اسلام کی حقیقی تبلیغ باعث ہوگا لوگ اس سے متاثر ہوکر سلام قبول کرنے لگیں گے یہ ہی وجہ ہے کہ حضور (ص) نے اپنے صحابہ (رض)سے فرمایاتھا کہ اس دور میں جو مسلمان ہونگے انکا رتبہ تم جیسے پچاس کے برابر ہوگا؟ کیونکہ تم مجھے دیکھ کر ایمان لائے مگر وہ مجھے بغیر دیکھے ایمان لاکر اس پر عامل ہونگے؟
اب رہا انٹرنیٹ کا مسئلہ۔ جب انٹر نیٹ آیا ،تو لوگوں پاس خال خال تھا۔وہ ہمسایوں کے کنکشن استعمال کر لیتے تھے اور انہیں پتہ بھی نہیں ہو تا تھا۔ مگر ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہذا اب یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی دوسرے کےکنکشن کو کوئی بغیر مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کر سکے کیونکہ اس کا اب پاس ورڈ ہوتا ہے۔جو شروع میں نہیں تھا؟ اور اس کی کو ئی بھی اجازت نہیں دیگا اس لیے کیے کہ اس کی ایک حد ہوتی ہے؟ پھر اس میں جس کے نام ہے اسکے لیے بہت سے خطرات ہیں ۔ مثال کے طور پر اس کے ذریعہ سے کوئی شر پسند کہیں بھی دور بیٹھ کر بم پھاڑ سکتا ہے۔ التبہ جو ہائی فائی رفاع عامہ کے لیئے ہے جیسے عبادت گاہوں اور مال وغیرہ میں ان کے مالکان پر اتنی زمہ داری نہیں ہے جتنی کہ گھریلو صارفین پر ہے وہاں جاکر ا گر وہ وائی فائی استعمال کرے تو کسی پاسورڈ ضرورت نہیں ہوتی شرط یہ ہے کہ ان کے اوقات کار میں کرے توکوئی مضائقہ نہیں ہے۔لیکن جولوگ مسجد میں کار پارکنگ میں قوانین کی پابندی نہ کرنا اپنا طرہ امتیاز سمجھتے ہوں ۔ ان سے یہ امید کم ہی ہے کہ وہ کسی دوسری شرط کی پابندی کریں گے؟باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY