گزشتہ تین سال کی کامیاب نہ ہونے والی تمام زیر التوا حج درخواستوں کو قرعہ اندازی کے بغیر کامیاب قرار دے دیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزارت کو اسکیم کے آخری مرحلے میں 17 ہزار 562 سیٹیں الاٹ کرنا تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سال 2015، 2016 اور 2017 کے ناکام امیدواروں کے لیے ابتدا میں 10 ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔

تاہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق تمام 12 ہزار 237 درخواست گزاروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسی طرح 80 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے 10 ہزار کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا، جس کے لیے 4 ہزار 928 درخواستیں موصول ہوئیں اور تمام کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔

سردار یوسف کا کہنا تھا کہ دونوں کوٹے میں تمام درخواست گزاروں کو کامیاب قرار دیئے جانے کے بعد وزارت کے پاس اب بھی 587 سیٹیں باقی ہیں، جنہیں کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے درخواست گزاروں میں الاٹ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یکم مارچ کو وزارت مذہبی امور نے سرکاری اسکیم کے تحت 2018 میں فریضہ حج کی ادائیگی پر جانے والے 50 فیصد کامیاب درخواست گزاروں کے ناموں کا کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے اعلان کیا تھا۔

رواں سال ذوالحج کے مہینے میں پاکستان سے 1 لاکھ 79 ہزار 210 عازمین حج فریضے کی ادائیگی کریں گے۔

حکومت کی جانب سے حج کے لیے شمالی علاقہ جات بشمول پنجاب اور خیبر پختونخوا کا پیکج 2 لاکھ 80 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بشمول کراچی، کوئٹہ اور سکھر کا پیکج 2 لاکھ 70 ہزار مقرر کیا گیا ہے۔

فریضہ حج کے ساتھ ساتھ قربانی کرنے کے خواہش مند افراد کو 13 ہزار 50 روپے حج پیکج کے علاوہ جمع کروانا ہوں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY