ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد

0
137

ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک کے بعد اب یورپ میں بھی اس کی دھوم مچی ہوئی ہے، جہاں کافی سے لے کرکھانوں میں اس کا استعمال عام ہورہا ہے۔امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔

ہلدی میں بےپناہ غذائیت موجود ہے جس میں ریشہ، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے ، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔ یہ ادرک کی نسل کے پودے Curcuma Longa کی جڑ سے نکالی جاتی ہے۔ مصالحے دار اور گرم ہلدی اپنی تیز مہک اور زرد رنگ کی بدولت جانی جاتی ہے۔ قدیم چینی ادویات اور آیورویدک طریقہ علاج میں اس کی تاریخ کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ہلدی کو ہلکا مت لیں
ہلدی کے فوائد

ہلدی قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے۔ خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کی صورت میں اس کا استعمال کرنا مفید رہتاہے۔ یہ ایک فوری مرہم کا کام کرتی ہے، خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور زخم پر لگانے کی صورت میں نئے خلیات کی افزائش میں مدد دیتی ہے۔ طاقتور اینٹی بائیوٹک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ انفیکشنز جیسے ای کولی کی بھی روک تھام کرتی ہے (یہ بیکٹریا عام طور پر صحت مند انسانوں اور جانوروں کے اندر ہوتا ہے، تاہم آلودہ پانی یا گائے کے کچے پکے گوشت کے ذریعے جسم میں داخل ہونے پر شدید انفیکشن، معدے کے درد، الٹیوں، خونی ہیضے اور اکڑن کا باعث بن سکتا ہے)۔

ہلدی جگر کی صفائی کا کام کرتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہم بہت زیادہ کھا لیتے ہیں اور خوراک، ہوا، ذاتی نگہداشت اور گھریلو مصنوعات کے نتیجے میں بہت زیادہ زہریلے مواد جیسے کیمیکلز، کیڑے مار ادویات، آلودہ پانی، بھاری دھاتوں وغیرہ کے اثر میں آتے ہیں۔ یہ زہر ہمارے جگر، گردوں، لمفی نظام اور خاص طور پرفیٹ ٹشوز میں جمع ہو جاتے ہیں۔

ان زہریلے مواد کا انبار کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز اور غذائیت کو ہضم کرنے میں مزاحمت کرتا ہے۔مزید برآں یہ مواد ہمارے جسم میں آکسیجن کی مقدار کو کم کرتے ہیں جس سے ایک تیزابی، کم توانائی اور خراب کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ہم امراض کا آسان نشانہ بن جاتے ہیں۔روزمرہ کی بنیاد پر ہلدی کا استعمال ان زہریلے اثرات کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان کا انبار کم کر کے جگر کو ٹھیک رکھتا ہے۔اس مصالحے کا ایک اور حیرت انگیز فائدہ اس کی جلن کش خوبیاں ہیں۔

جدید پاکستانی غذائیں پراسیسڈ فوڈز سے بھرپور ہیں، جن میں حد سے زیادہ نمک اور سڑے ہوئے تیل کا استعمال ہوتا ہے جو جسم کے اندر جلن اور دیگر نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میںوقت گزرنے کے ساتھ الرجی، دمہ اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان غذاؤں کا تعلق یادداشت کھونے، کینسر، امراض قلب، موٹاپے اور ڈپریشن سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

ہلدی کا روزانہ استعمال جسم میں سوجن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس کی زرد رنگت میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس نقصانات کا ازالہ اور علامات کا خاتمہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہلدی کا موزانہ مختلف ادویات جیسے موٹرین، بروفین (آئی بپروفین) اور اسپرین سے کیا جاسکتا ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے، اس میں قدرتی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں، اور دواؤں کی طرح زہر نہیں ہوتا۔

ہلدی ایک سادہ چیز ہے جو بلڈ شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے، دن بھر میں توانائی کی سطح کو برقرار رکھنے اور بہتر مزاج کے لیے مدد دیتی ہے۔ ہلدی زہر سے پاک ہربل حل ہے جو کولیسٹرول لیول کو تیزی سے کم کرنے، زیادہ مؤثر اور طویل المیعاد بنیادوں پر شریانوں کی اکڑن یا بلاک ہونے سمیت امراض قلب کی روک تھام کرتا ہے۔

ہلدی کا استعمال

ذائقہ بڑھائیں: چند تازہ سبزیوں (کٹی ہوئی شکرقندی، گوبھی، مٹر، پالک) کو زیتون کے تیل اور ہلدی کے ساتھ ملالیں۔ انہیں 400ڈگری پر روسٹ کریں، جس کے بعد انہیں آپس میں ملالیں اور بس۔ آپ اسے شام میں منہ چلانے یا سائیڈ ڈش کے طور پر رکھ سکتے ہیں اور اگر دل چاہے تو رات کا کھانا بنالیں۔ آپ چاہیں تو ان سبزیوں کو تل کر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

دودھ کے ساتھ استعمال: آپ نے کئی لوگوں کو ہلدی دودھ ایک ساتھ ملا کر پیتا دیکھا ہوگا، لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ اس کے بےحد فوائد بھی ہیں، جس کے باعث آپ کو بھی ان دونوں کو ملا کر ضرور پینا چاہیے۔ہلدی دودھ کو انرجی ڈرنک مانا جاتا ہے، جسے استعمال کرنے کے بے شمار فوائد اور خصوصیات ہیں۔

-ہلدی ملا دودھ قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات رکھنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں اور انفیکشن سے بچاتا ہے۔

-ہلدی والا دودھ انسداد وائرل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سردی اور کھانسی کے لیے بہترین دوا ہے۔

– ہلدی دودھ پینے سے کوئی بھی زخم جلدی بھر جاتاہے، زیادہ تر لوگ کسی چوٹ لگنے، آپریشن یا بیماری کے بعد جلد بہتر ہونے کے لیے ہلدی دودھ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

-ہلدی ملا دودھ اینٹی آکسیڈنٹ کا بہترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے مختلف درد اور تکالیف میں راحت بخشتا ہے۔ آرتھرائٹس اور سوجن کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

-ہلدی ملا دودھ قدرتی طور پر جگر سے زہر کی صفائی کرتا ہے اور خون صاف کرتا ہے۔

-ہلدی ملا دودھ ہاضمے کے لیے بہترین ہے اور السر، ڈائیریا اور بدہضمی سے بچاتا ہے۔ طاقتور اینٹی سیپٹک ہونے کی وجہ سے یہ آنتوں کی صحت بہتر کرتا ہے۔

– اس کے استعمال سے الرجیز، یا جلد کے انفیکشن کی روک تھام بھی کی جاسکتی ہے۔

ہلدی کی چائے: ایک کپ پانی کو اُبالیں اور پھر اس میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی ملائیں۔ اب اسے دس منٹ تک پکنے دیں اور پینے سے قبل چھان لیں۔ اس میں اپنی پسند کی مٹھاس بھی آپ شامل کرسکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY