ڈیوڈ گُوڈال کی موت سے یوتھنیزیا پر نئی بحث کا آغاز۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم‎

0
1181

سٹریلیا کےایک سو چار سالہ مشہور سائینسدان ماہر نباتات و ماحولیات پروفیسر ڈیوڈ گُوڈال آج سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل کی ایٹرنل اسپرٹ کلینک میں یوتھنیزیا کی مدد سے اپنے پیاروں کی موجودگی میں آخری سفر پر روانہ ہو گئے ۔ پروفیسر گوڈال اپنے خاندان کے چند افراد کے ہمراہ ایک ہفتے پہلے پرتھ سے روانہ ہوئے تھے ، انہوں نے باسل پہنچنے سے پہلے فرانس میں مقیم اپنے خاندان کے افراد سے آخری ملاقات کی تھی ۔ ان کارابطہ کچھ عرصے سے سویئس کلینک لائف سرکل کی برانچ ایٹرنل اسپرٹ کلینک سے تھا جہاں انہوں نے رضاکارانہ مرنے کی درخواست دے رکھی تھی ۔ اس کلینک میں پچھلے برس تہتر افراد اور دو ہزار پندرہ میں نو سو چھیاسٹھ افراد نے طبی امداد سے اپنی موت خود منتخب کی تھی ۔

طبی امداد دے کر خودکشی میں مدد کرنے کو یوتھنیزیا کہا جاتا ہے۔انہوں نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا “ موت کا وقت معین ہے مگر موت کو منتخب کرنے کے لئے انسان کو آزاد ہونا چاہئے۔“

پروفیسر ڈیوڈ گڈال کی نظر کمزور اور کان اونچا سنتے تھے مگر ان کا ذہن مرتے دم تک بیدار تھا ۔ ایک ماہر نباتات کی حیثیت سے وہ دنیا بھر میں گھومتے اور گھر سے باہر جا کر تحقیق کرتے تھے لیکن گزشتہ تین چار برسوں سے چلنے پھرنے کے لیے ویل چیئر کے محتاج تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ دس سال سے وہ زندگی کا لطف نہیں اٹھا رہے۔

پروفیسر گڈال یہ بھی کہتے تھے کہ “ بیس سال پہلے جب ان کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا، انہیں تو اس دن ہی مر جانا چاہیے تھا، چناچہ میں اب اپنی زندگی جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ آج مجھے اسے ختم کرنے کا موقع ملا ہے۔“

آسٹریلیا میں سوائے وکٹوریا کے کہیں بھی اس طرح کی موت کی اجازت نہیں ہے ۔ اور وکٹوریہ میں بھی یوتھنیزیا کی پہلی شرط ان پر لاگو نہیں ہوتی تھی یعنی انہیں ایسی کوئی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ میں مر جاتے اور یہ قانون بھی اگلے برس جون تک نافذالعمل ہونا تھا اور وہ مرنے کا مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے ۔

واضح رہے سوئزر لینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں انتہائی علیل، ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر اور لاغر بوڑھے افراد کو آسان موت یعنی رضاکارانہ موت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بے قرار اور تنگ زندگی کا خاتمہ آسانی سے کرسکیں۔

سوئزرلینڈ میں 1940 سے رضا کارانہ خودکشی کا یہ قانون نافذ ہے ۔ یہاں دو طرح موت کی نیند سلایا جاتا ہے۔ایک طریقہ موت کا انجیکشن لگانا ہے۔ اور دوسرا طریقہ زہر کا گھونٹ پینا ہے۔
ان دونوں طریقوں میں بظاہر مرنے والے کو کوئی تکلیف ہوتی نظر نہیں آٓتی مثلا آدھا کپ ایک خاص قسم کا زہر خود کشی کرنے والے کو اس کی فیملی کی موجودگی اور ویڈیو کیمروں کے سامنے دیا جاتا ہے اور دینے سے قبل پوری طرح اس سے حلفی بیان لیا جاتا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے اور خوشی سے خود کشی کررہے ہیں آپ پر کسی کا کوئی دباؤ ٔنہیں ہے۔

زہر کا گھونٹ پینے والا زہر کا پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑتا ہے اور پھر اپنی بیوی بچوں کی طرف دیکھتے ہوئی الوداعی ہاتھ ہلاتا یا بوسہ لیتا ہے اور پھر وہ زہر پی لیتا ہے۔ زہر کا پیالہ پینے کے فورا بعد بظاہر ایسا ہی لگتا ہے جیسے پانی کا گلاس پیا یعنی خود کشی کرنے والا بالکل نارمل ہوتا ہے۔ پھر اسے ایک دو بسکٹ دیے جاتے ہیں اور پھر وہ باتیں کرتے کرتے آہستہ آہستہ غنودگی کی حالت میں چلا جاتا ہے اور سخت نیند آنی شروع ہوجاتی ہے، اور پھر بیٹھے بیٹھے آرام سے سو جاتا ہے، لیکن یہ نیند عام نیند نہیں ہوتی کہ جس کے بعد بیداری بھی ہو، بلکہ اسی نیند میں وہ مرجاتا ہے۔

امدادی خود کشی یعنی یوتھنیزیا کو طبیبی امدادی خود کشی (فزیشن ایسیسٹیٹ سوئی سائڈ یا پی اے ایس) بھی کہا جاتا ہے، جس میں ایک ڈاکٹر کی جانب سے دیدہ و دانستہ طور ایک شخص کو یہ مشورہ دینا شامل ہوتا ہے کہ خود کشی کیسے انجام پائے، اس کے ذرائع کیا ہیں، مہلک ڈرگس کو کتنی مقدار میں لیا جانا چاہیے۔

کینیڈا، بیلجیم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ اور سویٹزرلینڈ ڈاکٹرز کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ بہ نفس نفیس مریضوں کو ان کی موت میں مدد کریں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں چھ ریاستوں میں یہ قانونی گنجائش ہے کہ ایک شخص جس کی مطبی تشخیص یہ بتاتی ہے کہ وہ چھ ماہ یا اس سے کم وقت تک ہی زندہ رہے گا، یہ درخواست کر سکتا ہے کہ طبی طور پر اسے مہلک خوراک دی جائے تا کہ وہ خود اپنے طور پر پہل کر کے اپنی زندگی کو ختم کر سکتا ہے۔ اس اختیار کو امدادی خود کشی کی ایک قانونی شکل کے طور پر مختلف ریاستی قوانین کے تحت جائز رکھا گیا ہے۔

کینیڈا کے سپریم کورٹ کے 2015ء کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے خودکشی کے لیے تعاون صرف ان ہی مریضوں کے لیے ہوگا جو بالغ ہوں گے اور ان کی لاعلاج بیماری کے باعث ان کی ناقابلِ برداشت تکلیف ختم کرنا نا گزیر ہوگا۔

دو ہزار سترہ میں آسٹریلیا کی اسٹیٹ تسمانیہ کے ڈاکٹر فلپ نٹشکے جو ڈاکٹر ڈیتھ (موت کا ڈاکٹر) کے لقب سے مشہور ہیں ، انہوں نے ’ڈیسٹنی’ نامی خودکشی میں مدد فراہم کرنے والی مشین ایجاد کی ہے ، جس میں 91 فیصد نائٹروجن اور 9 فیصد کاربن مونو آکسائیڈ گیس کا استعمال کر کے لوگوں کو ان کے حتمی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فلپ دنیا کے پہلے ڈاکٹر ہیں جنہوں نے انیس سو چھیانوے میں تسمانیہ ایکٹ انیسو پچانوے کے تحت پہلا لیگل مہلک زہر کا انجکشن یوتھنیزیا میں استعمال کیا ۔ انیس سو ستانوے میں یوتھینیزیا کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا، اس وقت تک وہ چار افراد کو انجیکشن دے چکے تھے ۔ ڈاکٹر فلپ نے لیزر فزکس میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور آجکل ریٹائرڈ ہیں اور نیدر لینڈ میں رضاکارانہ یوتھینیزیا ریسرچ فاؤنڈئشن جو آجکل “ ایگزیٹ انٹرنیشنل “ سے وابسطہ ہیں۔

ڈاکٹر فلپ کا کہنا ہے کہ ان کی ایجاد کردہ مشین “ ڈیسٹنی “ میں کسی بھی غیر قانونی چیز کو استعمال نہیں کیا گیا۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص دوکاندار سے رسی خریدے اور پھندا ڈال کر مر جائے تو اس کیلئے دوکاندار ذمہ دار نہیں ہوگا، اس لیے اس مشین سے خود کشی کرنے والوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی مجھ پر نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مشین آنکھوں کے اشارے بھی سمجھتی ہے۔ یعنی اگر کوئی بٹن دبانے کی ہمت نہیں رکھتا تو آنکھ سے اشارہ کر دے، تب بھی گیس نکلنا شروع ہو جائے گی۔مشین کی سکرین پر لکھا آتا ہے کہ کیا آپ یہ سمجھ رہے کہ اگر آپ نے ہاں کا بٹن دبایا تو آپ مر جائیں گے؟ یعنی ہاں کہنے یا ہاں کا بٹن دبانے پر گیس نکلنا شروع ہو جاتی ہے جسے سونگھ کر انسان مر جاتا ہے۔ڈاکٹر فلپ کو اس مشین کی فروخت اور استعمال کی اجازت ابھی تک نہیں مل سکی ہے ۔

پروفیسر ڈیوڈ گوڈال کی رضاکارانہ موت نے پوری دنیا میں دنیا بھر میں مذہبی ، قانونی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کے آغاز کے ساتھ ایک بے چینی کو بھی جنم دیا ہے ۔ لوگ سوشل میڈیا پر “ یوتھینزیا“ کو موضوع بنا کر اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں ۔ ان آراء میں حیران کن رائے نوجوانوں کی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ پروفیسر ڈیوڈ گوڈال کے ہم خیال ہیں کہ “ موت کا وقت معین ہے مگر موت کو منتخب کرنے کے لئے انسان کو آزاد ہونا چاہئے۔“

SHARE

LEAVE A REPLY