اسلام آباد کی عدالتِ عالیہ کاایک مستحسن فیصلہ۔شمس جیلانی

0
65

ابھی تک چیف جسٹس پاکستان نے اللہ انہیں اپنی حفظ وامان میں رکھے بنیادی حقوق کے سلسلہ میں جو کام کیا ہے اس کی مثال پاکستان میں کیا دنیا میں نہیں ملتی ہے۔ لیکن اسلامی عبادات کے سلسلہ میں کسی عدالت کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔ جوا سلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان کے سلسلہ میں صادر فرماکر پہل کی ہے؟ کیونکہ اس مرتبہ رمضان کی آمد سے پہلے انہوں نے پابندی لگادی ہے کہ رمضان شریف کےدوران وہ پرگرام ٹی وی پر نہیں دکھائے جاسکیں گے جن میں لاٹری اور نیلام وغیرہ شامل ہو۔ اور مساجد میں پانچ میں سے کم از دو مرتبہ یعنی صبح اور شام حرمین شریفین سے براہ راست اذان بھی نشر کی جا ئے گی اور کی نگرانی عدالت عالیہ نے پیمرا کے سپرد کی ہے ،اور ااذان سے پہلے بجائے کسی قسم کے خرافات کے صرف درود شریف پڑھا جا ئے۔ ورنہ ہو تا یہ تھا اذان اول تو ایک آدھ چینل سے ہی نشر کرتی تھی ورنہ نہیں ہو تی تھی اور کچھ لوگ رمضان فسٹیبل کی باتیں بھی کرنے لگے تھے۔ جبکہ برطانیہ کے دور میں بھی ہندوستاں میں ہر جمعہ کو ریڈیو اسٹیشن سے پہلے اذان پھر تلاوتِ قرآن نشر ہوتی تھی ۔
رہا پاکستان تو بننے کے بعد کچھ دنوں بعد تک تو اسلام کا چرچارہا پھر آہستہ پہلے ریڈیو پھر ٹی وی آگیا تو ان بھی آکر جاتا رہا؟وہ چینل اس کو تو اپنے نام کی لاج رکھنا ہی کہ وہ چینل سرکارِ دو عالم(ص) کے نام پر ہے۔ بہت سے لوگ میرے اس انکشاف پر حیران رہ جائیں گے کہ حضور (ص) کے نام پر کونسا چینل ہے اور وہ بھی ترقی یافتہ اسلامی ملک پاکستان میں۔ اسے صرف میری نسل کے لوگوں میں سے وہ بھی کچھ شاید پہچانتے ہوں کہ وہ کونسا چینل ہے جوکہ حضور(ص) کے نام پرہے؟
اس زمانے میں ہر تحریر سے پہلے 786 اور اس کے ذیل میں 92 لکھنے کا رواج عام تھا۔ کیونکہ اس وقت کے لوگوں کا خیال تھاکہ پوری بسم اللہ لکھنے سے بے ادبی ہو جانے کا خدشہ ہے اس لیے یہ شکل کسی نے نکالی۔ جوکہ علم ابجد میں بسم اللہ کا اظہار786 سے اور حضور کے اسم گرامی اظہار 92 لکھ کر کیا جا تاتھا۔ بسم اللہ لکھنا اور اس کے ذیل میں محمد (ص) لکھا جائے ! یہ لکھنا سب سے پہلے حضور(ص) نے بادشاہوں کے نام اپنے خطوط میں شروع کیا تھا ان کے بعداس سنت پر امتی عمل کرکے ثواب سے مستفیدصدیوں سے ہو رہے تھے۔ لیکن گزشتہ صدی میں ایک نئی تحریک نے دیارِ حرم سے جنم لیا اس کے مطابق ہر چیز بدعت قرار پائی لہذا وہ سنت ترک کرنا پڑی؟ نتیجہ یہ ہوا کہ عجمی مسلمانوں کو عربی آتی ہی نہیں تھی لہذا نہوں نے کچھ بھی لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کیا کیا چیز بدعت کی نظر ہوئی ۔ زندہ تو کیا اس تحریک کے ہاتھوں سے بزرگوں کی قبریں تک نہیں بچیں اور وہ بھی بات صرف جنت البقیع تک ہی نہیں محدود نہیں رہی بلکہ جہاں بھی کسی نے بدعت کی نشاندہی کردی بغیر سوچے سمجھے بنا کسی تحقیق کے وہ بدعت ہے بھی یا نہیں ہے ترک کردی گئی؟ وہ تو جو تھے وہ تھے۔ مگر جو یا رسول(ص) اللہ کہنے والے تھے وہ بھی اس میں پیچھے نہیں رہے۔ ان کا جہاں ہندوستان میں گڑھ ہے وہاں میں نے دیکھا کہ میرے بزرگوں کی قبروں پر لگے ہوئے سنگ مر مر کے کتبے بھی جو کہ ان کے سرہانے کبھی نصب تھے۔ وہ بھی اتار کرغائب کردیئے گئے یا اب سرہانے رکھے ہو ئے ہیں ۔میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا کہ حکم کہاں سے آیا مگر کہیں سے تو آیا ہو گا کہ یہ جدت رائج ہوئی اور قبروں کی درگت بنی؟ کیونکہ جہاں یہاں تک پابندی ہو کہ عید بھی جب تک نہیں ہوتی ، جب تک کہ بریلی سے چاند دیکھنے کی تصدیق نہ ہو جائے وہاں یہ کیسے ممکن تھا کہ بغیر کسی بڑے عالم کے فتویٰ کے دیہات کا مولوی یہ قدم اٹھاسکے بہر حال ،یہ ذکر تو یونہیں درمیان آگیا تھا ؟ میں یہ بتانا چاہتا تھا۔ کہ اس چینل پر بھی جو خاتون حمد اور منقبت کے پروگرام میں تشریف لاتی ہیں؟ وہ تو دوپٹہ میں خود کو لپیٹے ہوئے ہوتی ہیں کہ آداب کا تقاضہ یہ ہی ہے ۔مگر اس کے فوراً بعد جب خبریں آتی ہیں تومیزبان خاتون بدل جاتی ہیں ۔ وہ دوپٹے کا کام دوسری چینلوں کی طرح اپنی زلفوں سے ہی لیتی ہو ئی نمودار ہوتی ہیں ۔وہ بیچاری بھی مجبور ہیں کہ کیا کیا جا ئے کہ ٹی وی میں اب یہ فیشن رائج ہو گیاہے کہ زلفوں سے دوپٹے کام لیا جئے، ہرا یک نے اپنی سہولت کے لیے پنی مرضی کا اسلام بنا لیا ہے۔اس ماحول میں عدلیہ کیا کیا کام کریگی ؟ ہمیں معلوم نہیں؟ جبکہ مسلمان اس سلسلہ میں کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ،نہ کسی کو کرنے دینا چاہتے ہیں، جب پاکستانیوں کو مسلمان بننا ہی نہیں ہے تو پھر یہ سارے تکلف سب لوگ چھوڑ ہی دیں تو بہتر ہے ۔ رہے ہم پرانے لوگ ہیں موجودہ صورت حال میں ہمیں حکم یہ ہی ہے کہ جوبھی اس سمت میں کوشش کرے وہ قابل ستائشِ ہے اوراس کی تعریف کرنا چاہیئے لہذا ہم ا پنا فرض پور کر رہے ہیں کہ جو بھی اچھا کام کرے اس کو سراہا جائے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ قوم کو اچھے برے کی تمیز عطا فرمائے(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY