سید عارف معین بلے کی تین روشن تخلیقات۔حُرمت قلم کے پاسدار

0
2982

لوح قرآنی اوراسماء النبی ﷺ
مدح نگار:سیدعارف معین بلے
لوحِ قرآنی ہے کیا؟ ماخوذ ہے قرآن سے
یہ وہ چشمہ ہے کہ جو پھوٹا ہے الفرقان سے
چودہ معصومین،سجدے چودہ القرآن میں
چودہ ہی ارض و سماء ہیں عالمِ امکان میں
ہیں کئی اسمِ گرامی سرور کونین ﷺ کے
ذکرِ خیرِ پنجتن ہے، تذکرے حسنین کے

لوح قرآنی اوراسماء النبی ﷺ
مدح نگار: سیدعارف معین بلے

قرآن حکیم میں کچھ حروف ایسے ہیں ، جن کے مفاہیم و معانی
کاکسی کو علم نہیں ۔انہیں حروف مقطعات کہاجاتا ہے۔ یہ
حروف مقطعات 14ہیں اور قرآنِ حکیم کی 29 سورتوں کے
آغازمیں یہ حروف مقطعات ملتے ہیں ۔ان کے مفاہیم و معانی
کو اللہ تبارک و تعالیٰ اور نبی ء رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے مابین ایک رازسمجھااور کہا جاتا ہے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ
قرآن مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس راز کو راز ہی
رہنے دیا ہے اور انہیں کہیں نہیں کھولا۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت
ہے کہ انہوں نے جو بلیغ اشارے دئیے ہیں ، ان کی بنیاد پراہل
علم و حکمت نے حروف مقطعات کاجاننے اورسمجھنے کی
کوشش ضرور کی ہے۔معروف شاعر اور خواجہ ء خواجگاں
حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے
خاندان کے سپوت سید عارف معین بلے نے حروف مقطعات کی
بنیا پر مدحیہ شاعری کی ہے۔یہ اردو ادب میں اپنی نوعیت
کامنفردتخلیقی تجربہ ہے۔اس سے پہلے حروف مقطعات کی بنیاد
پر کسی استاد شاعر نے بھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔عشق
نبی ء رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےسرشارسیدعارف معین
بلے نے حروف مقطعات کوبنیاد بناکر بہت سی نعتیں تخلیق کی
ہیں۔مثلاً ۔ الم ۔المص۔ الر ۔ المر ۔ص۔ حمعسق۔حٰم۔طس ۔ یٰسین ۔
ق۔اور ن ۔یہ تمام نعتیں طویل بھی ہیں اور معانی کے جہان بھی
اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان نعتوں کی صورت میں
تخلیق کار سیدعارف معین بلے نےدُنیائے اردو ادب کو بہت کچھ

دیا ہے ۔یہ کلام روح کو بالیدگی، ایمان کو تازگی اور فکروخیال
کونئی زندگی دینے کاسبب بن سکتاہے۔ اس لئے ہم نے اِسے
بتدریج عالمی اخبار کی زینت بنانے کافیصلہ کیا ہے۔ اور اس کی
پہلی قسط  لوح قرآنی اور اسماء النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
;کے زیرعنوان قارئین عالمی اخبار کی ضیافت طبع کی
نذرہے۔ الم ۔ حمعسق ۔ طس ۔ یٰسین ۔ ق ۔اور ۔ ن ۔ کےحوالے سے
مدحیہ کلام آئندہ دنوں میں عالمی اخبار کی زینت بنے گا ۔فی
الحال آپ ملاحظہ فرمائیں لوح قرآنی اور اسماء النبی ﷺ۔اسے
پڑھ کر اُس کام کی جھلکیاں ضرور نظر آجائیں گی ، جو
حروف مقطعات کی بنیاپر منقبت نگار سید عارف معین بلے نے
شعری پیرائے میں دکھانے کی سعیء مشکور کی ہے۔اوراس
حوالے سے ان کی مزید نعتیں پڑھنے کااشتیاق بھی بڑھادیں گی۔

[ ادارہ ]
لوح قرآنی اوراسماء النبی ﷺ
مدح نگار:سیدعارف معین بلے
لوحِ قرآنی ہے کیا؟ ماخوذ ہے قرآن سے
یہ وہ چشمہ ہے کہ جو پھوٹا ہے الفرقان سے
اس کو کہہ سکتے ہیں ہم چودہ دری ایوان کی
منزلیں سر کر نہیں سکتے مگر عرفان کی

چودہ معصومین،سجدے چودہ القرآن میں
چودہ ہی ارض و سماء ہیں عالمِ امکان میں
لوحِ قرآنی ہے بے شک چودہ حرفوں پر محیط
ہے نوشتہ یہ بھی اسمائے جلیلہ پر بسیط
اس میں کچھ اسماء الحُسنیٰ مخفی و ملفوف ہیں
کچھ نئے بھی ہیں یقیناً، کچھ بڑے معروف ہیں
کچھ اشارے اس میں ہیں مستور القرآن کے
کچھ ہیں خال و خد نمایاں صاحبِ فرقان کے
ہیں کئی اسمِ گرامی سرور کونین ﷺ کے
ذکرِ خیرِ پنجتن ہے، تذکرے حسنین کے
یہ خدا کے اور نبی ﷺ کے درمیاں اِک راز ہے
یہ بھی اللہ الصمد کا اپنا اِک انداز ہے
یہ خزائن کی یقیناً کنُجیوں کا نام ہے
اور خازن کون ہے؟ پیغمبرِ ﷺ اسلام ہے
آپ ﷺ کی بے شک صفات و ذات کی باتیں بھی ہیں
ذکر مولا ﷺ کےمحاسن کا، مناجاتیں بھی ہیں
تالے ہیں بابِ معانی پر مگر چابی نہیں

کھڑکی آ گاہی کی ہے،پر ایک بھی کھلتی نہیں
اہلِ علمِ دین نے کچھ کچھ لگایا ہے سراغ
ان چراغوں سے میں روشن کر رہا ہوں اِک چراغ
کیا مری توضیح،کیا تشریح، کیا میری نظر
رب ہی جانے ان کا مطلب یا نبی ﷺ کو ہے خبر
جو بتایا ہی نہیں، اس پر لکھے گا کیا کوئی
جب سنا ہی کچھ نہیں‘ کہیے کہے گا کیا کوئی
ق کی ہے بات تو قاسم لقب ہے آپ کا
جس کو جو چاہیں عطا فرمائیں سب ہے آپ کا
نعمتیں سب بانٹنے آئے ابوالقاسم حضور
یوں بھی بے شک آپ کہلائے ابوالقاسم حضور
طہ بھی ہے آپ ﷺ کا اِک نام، ہے یٰسین بھی
اسم، سرکارِ دو عالم ﷺ کا ہے اِک طس بھی
بھٹکے لوگوں کو دکھا دے یہ صراط مستقیم
اللہ اللہ ، مصطفیٰ صل علیٰ طسٰم
میم احمد ﷺ میں یقیناً ،میم سے محمود ہے

اک مبارک نامِ نامی ہے تو اِک مسعود ہے
آپ ﷺ ہی معراج کی شب مرسلیں کے مقتداء
آپ ﷺ مولا مبتداء ہیں، آپ ﷺ مولا منتہا
آپ ﷺ محمود الصفات اور آپ ﷺمحمود المقام
آپ ﷺ بے شک مرجعِ کل انبیائے ذی کرام
آپ ﷺ مُرسِل،آپ مُرسَل، آپ ﷺ مخبرالغیوب
آپ ﷺ ہی مطلوبِ طالب، آپ ﷺ محبوب القلوب
ہے محامد بھی، مکارم بھی، محاسن میم سے
میم سے میزان ہے، منصف ہے، محسن میم سے
آپ ﷺ کے زیرِ قدم ہے عرش محبوبِ خدا
مرحبا صلِّ علیٰ اہلاً و سھلاً و مرحبا
آپ ﷺ ہی ملجا ہمارا، آپﷺ ہی ماویٰ بھی ہیں
آپ ﷺ ہیں مرشد ہمارے، آپ ہی مولا بھی ہیں
رنگ ہیں بکھرے ہوئے، دیکھی دھنک حم کی
سچ اگر پوچھو تو ہے یہ اک جھلک حم کی

[لوح قرآنی کی بنیاد پر نعتوں کی تشہیر و اشاعت کاسلسلہ
جاری ہے}
لوح قرآنی اوراسماء النبی ﷺ
شاعر:سیدعارف معین بلے

…………………………..

عالم اسلام کے بارہ اِماموں کو سلام
منقبت نگار: سید عارف معین بلے
آپﷺ پر مولا نبوّت کا ہوا ہے اِختتام
آپ ﷺ کے گھر پر ہوئی اللہ کی نعمت تمام
درحقیقت ہے اِمامت اِس گھرانے ہی کانام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

سَیّدہ ، خاتون جنّت ، مادر آل رسول
دُختر شاہ دوعالم ، فاطمہ زھرا بتول
آیہء تطہیر خود خیر النساء ، اُم الامام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

باب شہر علم،مولود حرم ، شیر خدا

دست یزداں ، بائے بسم اللہ ، فخر مصطفیٰ
حضرت مولا علی، سارے اماموں کے امام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

قابل تحسین ہے عجز و تواضع و اِنکسار
کر نہیں سکتے محاسن بھی حَسَن کے ہم شمار
حلم پیکر ، عِلم پرور، پرتو خیرالانام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

غیرفانی ہے یقیناً یہ مقام ارجمند
دے کے سر انسانیت کوکردیا ہے سربلند
حُریت کوآپ نے بخشا ہے دُنیا کو پیام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام

اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

سجدہ ریزی بوالحَسَن سجاد کا معمول تھا
کربلا میں جو بچا باقی، یہی وہ پھول تھا
آپ ہی سے تو ملا نسل محمد ﷺ کودوام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

علم کا گہرا سمندر ، معرفت کا آفتاب
جن کے استفسار پر ہیں بو حنیفہ لاجواب
شان باقر مرحبا ، بھیجا محمد نے سلام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

فلسفہ، منطق، جفر، جغرافیہ، سائنس ، نجوم

مجتمع اِک ذات بابرکات میں سارے علوم
جعفر صادق کاخوشہ چیں فقہ کا ہر اِمام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

دھوپ میں سب جلتے لوگوں کے لئے اِک سائبان
عبد صالح ، صبر کا پیکر ، تحمّل کی چٹان
زیست کاظم کی اسیری میں ہوئی ساری تمام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

عابد و زاہد، سخی، فیاض، شب بیدار کون
دے کے قرآں کے حوالے کرتا ہے گفتار کون
علم رویا میں رضا کا معتبر ہے سب سے نام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام

اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

تھے تقی اپنے زمانے کے بڑے حاجت روا
صاحب کشف و کرامت ، حامل فہم و ذکا
فیض یاب ہوتا رہا ہے آپ سے ہر خاص و عام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام
اُس زمانے میں نہ تھا جوّاد سا کوئی سخی
متقی تھے آپ ، دُنیا میں یوں کہلائے تقی
یحیی بن اکثم بتا ، تھا ان کا کیا علمی مقام؟
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

بومحمد ،عسکری، ہادی ،زکی ،ابن الرضا
کون علمی مرتبت میں دوسرا ہے آپ سا

فہم سے بالا و برتر حجۃ اللہ کا مقام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام

ہے مِرا ایمان گرچہ آج غائب ہیں ضرور
حشر سے پہلے یقیناً آپ کا ہوگا ظہور
حضرت مہدی امام المختتم ، حل المہام
آسماں کرتا ہے جُھک کے،اِن کی عظمت کوسلام
اللہ اللہ ، ملّت اسلام کے بارہ امام
عالم اسلام کے بارہ اِماموں کو سلام
منقبت نگار: سید عارف معین بلے

…………………………..

نعت۔ خود روشنی آجاتی ہے چل کر مِرے گھر میں
نعت نگار: سیدعارف معین بلے
دالان و در و بام منوّر مِرے گھر میں
ہیں جلوہ کُناں گویا پیمبر ﷺ مِرے گھر میں
ہو سکتا ہے سرکار ﷺ کی آمد کا اِشارہ
خوشبو سی مہک اُٹھتی ہے اکثر مِرے گھر میں
جب سوچوں کبھی ہوں گے مِرے دُور اندھیرے
خود روشنی آجاتی ہے چل کر مِرے گھر میں
میں دھوپ میں سائے کے مزے لوٹ رہاہوں
رحمت کی ہے برسات برابر مِرے گھر میں
نعلین مبارک کو سجا رکھا ہے میں نے
کیا کہنے کہ ہے نقش پیمبر ﷺ ِمِرے گھر میں
اعجاز نہیں آپ ﷺ کی سیرت کا تو کیا ہے؟
رہتی ہیں فضائیں جو معطّر مِرے گھر میں
سُن سُن کے میں سَر دُھنتا ہوں فرمان نبی پر
سرکار دو عالم ﷺ کا ہے منبر مِرے گھر میں

گونج اُٹھّی فضاؤںمیں صدا صلّ علیٰ کی
کیا ہے کوئی اِک گنبد بے در مِرے گھر میں
باتیں ہیں شب و روز مِرے پیارے نبی ﷺ کی
رہتی ہیں فضائیں بھی مُعطّر مِرے گھر میں
میں روز سجاتا ہوں یہ نعت کی محفل
اِک نور برستا ہے برابر مِرے گھر میں
یہ اُن کاکرم ہے، مِرا قائم جو بھرم ہے
واللہ کہ جوکچھ ہے میسّر مِرے گھر میں
یہ اُن کی عطا ہے مجھے ورثے میں مِلا ہے
صد شُکر کہ ہے فرش کا بِستر مِرے گھر میں
اِک روضے کی تصویر ہے ،دیوار کی زینت
سچ پوچھو تو ہے گُنبد ِ اَخضر مِرے گھر میں
جب سامنے آنکھوں کے مِرے چھایا اندھیرا
پھر بہنے لگا نور سمندر مِرے گھر میں
سرکار ﷺ کے صدقے میں دعا مانگ رہا ہوں

آجائے گا خود چل کے مقّدر مِرے گھر میں
ہےروشنی سیرت کی ، پریشان ہے پھر کیوں ؟
رستہ بھی مِرے گھر میں ہے، رہبر مِرے گھر میں
میں کہہ نہیں سکتا کہ تہی دست ہوں مولا
اخلاق حمیدہ کا ہے زیور مِرے گھر میں
کیا مانگوں میں سرکار سےاَب ہاتھ اُٹھا کر
جب اُن کی عنایات ہیں مجھ پر، مِرے گھر میں
معصوم سی خواہش ہے مِری کیجئے پوری
بَس ٹھہرا رہے ، صبح کا منظر مِرے گھر میں
اَب ہم پہ بھی رحمت کی گھٹا ٹوٹ کے برسے
پیاسے ہیں سبھی ساقی ء کوثر ﷺ مِرے گھر میں
{ نعت نگار سید عارف معین بلےنے اپنی والدہ ماجدہ محترمہ
منّور مہرافروز بلے المعروف مہرو کی فرمائش پربارگاہ رسالت
پناہ ﷺ کے حضور یہ نعت پیش کرنے کی سعادت سمیٹی ۔اللہ
تبارک و تعالیٰ اس کی برکات سے اُنہیں اور اُن کی والدہ
مرحومہ کی روح پُرفتوح کو مالامال فرمائے}
نعت۔ خود روشنی آجاتی ہے چل کر مِرے گھر میں

SHARE

LEAVE A REPLY